کیا ہجرت ہی ترقی اور آزادی ہے؟؟ حرکت (mobility) یا ٹھہراؤ/سائرہ رباب

نیچے دی گئی تحریر (سکرین شارٹ) ہجرت کو ایک ناگزیر انسانی اصول کے طور پر پیش کرتی ہے۔ خیال دلکش ہے، مگر شاید پوری حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہ بات کسی حد تک سچ ہے۔۔۔ ہجرت ہمیشہ منفی چیز نہیں۔ انسان صدیوں سے سفر کرتا آیا ہے۔ علم، تجارت، نئے امکانات، نئی تہذیبوں اور نئے تجربات کی تلاش میں۔ طلبہ علم کے لیے شہروں اور ملکوں کا رخ کرتے ہیں، صوفیا اور مفکرین نے سفر کیے، قافلے نکلے، زبانیں اور ثقافتیں ملیں۔ ایک صحت مند hybridity بھی انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ بند معاشرے اکثر گھٹنے لگتے ہیں۔ اس لحاظ سے حرکت، تبادلہ اور کبھی ہجرت انسانی ارتقا کا حصہ ہیں۔
مگر مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب “ہجرت” کو ایک رومانوی سچ بنا کر گلوریفائی کیا جائے، جیسے جڑیں ہونا کمزوری ہو اور مسلسل حرکت ہی آزادی۔ یہیں پوسٹ کولونیل اور سرمایہ دارانہ تنقید اہم ہو جاتی ہے۔
جدید امپیریل اور کارپوریٹ نظام انسان کو مستقل حرکت میں “mobile” دیکھنا چاہتا ہے۔۔ ایسا فرد جس کی کوئی گہری جڑ، مستقل شناخت، اجتماعی وفاداری یا مقامی طاقت نہ ہو۔ آج
hyper-flexibility، mobility اور efficiency کو ترقی کے خوبصورت نعروں کے طور پر بیچا جاتا ہے، مگر اکثر ان کے پیچھے سستا لیبر، کم اجرت، غیر مستقل زندگی اور کمزور انسان چھپا ہوتا ہے۔ ایک ایسا ورکر جو آج ایک شہر، کل دوسرے ملک، اور پرسوں کسی اور کمپنی کے لیے استعمال ہو سکے۔ جسکے حقوق نہ ہوں جس کی زمین نہ ہو، برادری نہ ہو،
collective bargaining
نہ ہو، اور نہ ہی اپنے وسائل پر مضبوط دعویٰ۔
کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف بہتا پانی ہی زندگی نہیں دیتا… درخت بھی تبھی پھلتا ہے, سایہ دیتا ہے جب اس کی جڑیں گہری ہوں اور وہ ایک جگہ پر لمبا عرصہ کھڑا رہے۔۔
پھول مسلسل جڑوں سے اکھاڑے جانے سے نہیں کھلتے۔
تہذیبیں ہواؤں میں معلق رہ کر نہیں بنتیں۔
ایک جگہ ٹھہرنا بھی طاقت دیتا ہے۔۔۔
زمین سے تعلق،
مقامی یادداشت،
زبان،
ثقافت،
رشتے،
اجتماعی مزاحمت،
اور وسائل پر حق۔
نوآبادیاتی قوتوں نے ہمیشہ مقامی لوگوں کو ان کی زمین، زبان اور شناخت سے کاٹنے کی کوشش کی، کیونکہ جڑوں والا انسان آسانی سے غلام نہیں بنتا۔ اسی لیے مقامی(indigenous) اقوام، فلسطینی، یا دنیا کی کئی مقامی تحریکیں زمین سے وابستگی کو محض جذباتی نہیں بلکہ سیاسی مزاحمت سمجھتی ہیں..اسی لیے امریکا اور یورپ کے بےشمار لوگ
Zapatista Army of National Liberation
جیسی تحریکوں کے ساتھ کھڑے ہوئے، جو کارپوریٹ قبضے کے بعد مقامی لوگوں کو ان کی زمینوں، کھیتوں اور قصبوں سے اکھاڑ کر بڑے شہروں کی بےروح مزدور منڈیوں میں دھکیلنے کو ترقی نہیں بلکہ انسان کو اس کی جڑوں سے محروم کرنے والا نوآبادیاتی جبر قرار دیتی ہیں۔
برصغیر کی تقسیم اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ Partition of India
صرف جغرافیائی ہجرت نہیں تھی۔۔ وہ شناختوں، یادوں، قبروں، زبانوں، محلوں اور اجتماعی وجود کے بکھرنے کا سانحہ تھی۔ لوگ دہائیوں بعد بھی اس زخم کو اٹھائے رہے۔ ہجرت صرف جسموں کی منتقلی نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ انسان سے اس کی زمین، تحفظ، تاریخ اور دعوی (claim) چھین لیتی ہے۔ اور جب انسان اپنی زمین اور وسائل سے کٹ جائے تو وہ زیادہ پاور لیس(powerless) ہو جاتا ہے۔
اسی لیے ہر ہجرت آزادی نہیں ہوتی۔ کئی ہجرتیں بقا (survival)، جنگ،
colonial restructuring،
سرمایہ دارانہ استحصال یا ریاستی جبر کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں۔
اور ہر ٹھہراؤ جمود نہیں ہوتا۔
کبھی اپنی مٹی سے جڑے رہنا بھی
dignity، continuity اور resistance
ہوتا ہے۔
لہٰذا اصل سوال ہجرت یا عدم ہجرت نہیں، بلکہ یہ ہے: کیا انسان اپنی اختیار (agency) سے حرکت کر رہا ہے، یا کسی ایسے نظام کے دباؤ میں جو اسے بے جڑ، کمزور اور replaceable بنانا چاہتا ہے؟
کیونکہ مسافر دنیا دریافت کرتا ہے،
مگر جڑوں سے اکھڑا انسان اکثر خود کو ہی کھو دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں