آزادیِ کامل کے نئے خواب/راحیلہ نوید

زمین دار گھرانے کا چشم و چراغ جسے فراغت،دولت اور کتاب سے محبت وراثت میں ملی ہے،ناصر صاحب کے افسانے “خوابِ سگاں”کا مرکزی کردار ہےجس کے اجداد نو آبادیاتی دور میں جبرِ ناروا سے مفاہمت کر کے جیے،یہی افسانے کا متکلم ہے جو اپنی حساسیت اور فلسفیانہ نکتہ نظر سے قرت العین حیدر کے فکشن میں اوپری متوسط طبقے کے ان نوجوانوں کی یاد دلاتا ہے جو فراغت سے زندگی کے مقصد اور سمت کے تعین میں اپنی بہترین ذہنی صلاحیتیں خرچ کرتے ہیں۔
یہ باشعور نوجوان ہر دور میں استعمار اور سامراج کے لیے خطرہ رہے خواہ وہ اصحابِ کہف ہوں،عیسی کے حواری ہوں،موسی کے ساتھ خضر کی تلاش میں نکلنے والا نوجوان ہو،یا دنیا کے کسی بھی دینی،سیاسی،سماجی یا معاشی انقلاب کے پیچھے کار فرما اجل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والا شباب ہو۔”خوابِ سگاں” کا موضوع دورِ حاضر میں باشعور ذہن کو لاحق خطرات کی پیچیدگی کا مصنوعی ذہانت کی کارفرمائی سے دوچند ہو جانا،عام انسانی زندگیوں میں طاقت کے مراکز کا نا قابلِ یقین حد تک دخیل ہونا اور نو آبادیاتی طرزِ غلامی کا مابعد نوآبادیاتی آہنگ ہے۔حیاتیاتی سیاست کے تناظر میں دیکھیے تو اس افسانے سے یہ آشکار ہوتا ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ کس طرح انسانی یا حیوانی زندگی پر قابض ہو کر اسے محض ایک جان دار وجود میں بدل دیتا ہے جو فکر،احساس،شعور اور تخلیقیت سے عاری ہو۔
ماں اور ماضی میں پناہ ڈھونڈتی افسانے کی ابتدائی فضا رومانوی طرزِ احساس لیے ہوئے ہے،اماں،بچپن،بہن،شیشم،شہتوت اور سکھ چین کے مقامی درخت،سرکنڈے کا قلم اور تختی پر بنتی سررئیل پینٹنگ ،خواب اور حقیقت کے مابین تھکن مٹاتا مرکزی کردار ایک خاص ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے،وہ ثقافت جس کا اپنا تہذیبی رچاؤ ہے۔یہ افسانہ ایک پناہ جو فرد/قوم کی اپنی جڑوں سے وابستگی کی نفسیاتی اور فکری جدوجہد کی عکاسی ہے ۔یہ نئی تاریخیت کے مابعد جدید منظرنامے میں تخلیق، تاریخ اور ثقافت کو آمیخت کرنے کی گراں قدر کاوش ہے ۔
افسانے کا عنوان “خوابِ سگاں”بھی استعاراتی پیرائے میں ہمیں فیض کی معروف نظم”کتے” کی یاد دلاتا ہے۔کتا جو وفادار ہے،اشاروں پہ دم ہلاتا اور تلوے چاٹتا ہے،طاقت کی جبریت اور مرعوبیت کے بخشے ہوئے ذوقِ گدائی میں اپنی شناخت کھو دینے والوں کی علامت ہے:
زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرے
جو بگڑیں تو اک دوسرے کو لڑا دو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے

متکلم کے دادا شیر محمد کے دور میں جرمن شیفرڈ اور مقامی بگھیاڑی کتوں سے انگریزی سپرنگر سپینیل کی پٹائی سے راحت کشید کرتے مقامی کرداروں کا تنقیدی نفسیاتی تجزیہ بھی معنی خیز ہے۔انگریز کتوں کو دیسی کتوں پر حاصل تفوق اور انگریز افسر بلیکر کا پنجابیوں کے گروہ میں بیٹھ کر اپنے کتے روکی کی “پنجابی آدمی” سے بلند دماغی سطح پر فخر کرنا دراصل غلامی میں مبتلا کیے گئے ان انسانوں کا نوحہ ہے جنھیں ذلت اور جبر کا عادی بنا دیا گیا ہے،یہ افسانہ اجتماعی بےحسی اور خوابیدہ غیرت کے سامنے سوال اٹھاتا ہے کہ نو آبادکاروں کی براہِ راست موجودگی سے بالواسطہ موجودگی تک ہم بہ حیثیت معاشرہ کہاں کھڑے ہیں ،یہ بین السطور طاقت کا توازن درست کرنے کی قوی خواہش کا اظہار بھی ہے۔
جیسے”ہر آدمی ہر کام کر سکتا ہے”کے متکلم کو ذہن کو خاموش کرا کے ارتکاز کا فن سکھایا جاتا ہے اسی طرح “خوابِ سگاں”میں بھی ان خاص کتوں کو انسانوں پر برتری حاصل ہے جو”بلا وجہ نہیں بھونکتے”ـ
پطرس بخاری بھی اپنے معروف مضمون “کتے” میں دیسی لوگوں کے کتوں اور”صاحب” لوگوں کے کتوں کا موازنہ کرتے ہوئے مؤخر الذکر کو مہذب قرار دیتے ہیں ۔
خوابِ سگاں ایک متنوع الجہات افسانہ ہے،محکوم جس کے لیے سگ کی علامت وضع کی گئی ہے،اس کی شناخت کا بحران،ما بعد نو آبادیاتی صورتِ حال،تاریخ کے جبراورمعاصر سماجی پیش منظر کے سبب بہت گمبھیر شکل اختیار کر چکاہے۔حقیقت اور خواب کی گڈمڈ ہوتی سرحدوں کے ساتھ یہ افسانہ میٹا فکشن کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور حتمی سچائی کی نفی اسے ما بعدجدیدیت کے قریب لاتی ہے۔
متکلم کے ساتھ افسانے کا دوسرا اہم کردار جاسوس سراج ملک کاہےجو ملک کے سیاہ و سفید کی مالک ،ڈیجیٹل وسائل پر قابض اشرافیہ کا نمائندہ ہے۔آسیہ کا ڈرائنگ روم اور سراج ملک کا فارم ہاؤس وہ دو مکانی منطقے ہیں جہاں غیر ملکی زرمبادلہ کی حامل ملک کی سربر آوردہ شخصیات”ہر شخص ترا نام لے ہر شخص دیوانہ ترا” کے مصداق سراج ملک کے قرب کی خواہش مند ہیں لیکن آسیہ کے ڈرائنگ روم سے فارم ہاؤس تک رسائی صرف افسانے کے متکلم کا مقدر بنتی ہے:
“آپ میں سے کس کو دل چسپی ہے کہ اس وقت اس کائنات کو سب سے بڑا خطرہ کیا لاحق ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے یا مثلاً مریخ کی مخلوق کیسے بات کرتی ہے؟بلیک ہول میں گرنے والے سیاروں کی آخری خواہش کیا ہوتی ہے ؟سراج صاحب نے اطمینان سے کہا۔
سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔
“مجھے ہے۔”میں نے سینےپر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔یہ کہتے ہوئے میں نے خود کو کسی قدیمی قبیلے کا وہ فرد محسوس کیا جو قبیلے کو بچانے کے لیے اپنی قربانی پیش کرتا ہے۔”
ص39
یہیں سے افسانے میں مصنوعی ذہانت سے جاسوسی کرنے والے اربابِ بست و کشاد اور کتاب سے محبت کرنے والے حساس اہلِ فکر تخلیق کاروں کی باہمی کشاکش پنپتی ہے۔ملک صاحب کے فارم ہاؤس پر موجود ماورائی خصوصیات کے حامل تین کتوں کے خوابوں کو جاننے کے معاہدے کے تحت متکلم دس دن کے لیے وہاں منتقل ہوتا ہے،ملک صاحب کا دعویٰ ہے کہ یہ کتے انسانوں سے لاحق خطرات سے کائنات کی حفاظت پر مامور ہیں اور ان کی نسل کا تحفظ ضروری ہےجب کہ انسانوں کی بقا کے حوالے سے مصنوعی ذہانت ” ٹھیک ٹھیک”فیصلہ کرے گی کہ زائد از ضرورت انسانوں سے کیا سلوک کیا جائے ۔
متکلم کی حساس رومانی روح کو اپنے باپ دادا کی طرح کتے نہیں،پرندے پسند ہیں اور اس کا خیال ہے کہ
“۔۔۔۔۔شاید ہر آدمی کے اندر کچھ نہ کچھ ایسا موجود ہے جو باہر پرندوں کی صورت میں مجسم ہو گیا ہے ۔”
ص46
یہاں ہمیں خواجہ فرید الدین عطار کی”منطق الطیر” کے ساتھ مستنصر حسین تارڑ کے ناول”ڈاکیا اور جولاہا “میں سیدزادی کے لہو میں تیرتا من پسند پرندہ اور آستانہءِ رومی کے گدی نشین بابا کی داڑھی سے نکلتے ہوئے پرندے یاد آتے ہیں۔
فارم ہاؤس پر موجود کتے متکلم کو نظامِ کائنات میں آدمی کی کسی نئی مداخلت کی مثال معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ ملک صاحب کے خیال میں تمام فن کاروں ،ادیبوں اور مصوروں کا یہ سمجھنا کہ دنیا ان کے تخیل سے جنم لیتی ہے ایسا تکبر ہے جس کی وجہ سے دنیا خاتمے کے قریب ہے لہذٰا مصنوعی ذہانت نے اس”کبریائی تکبر”کوخاک میں ملا دیا ہے،ملک صاحب کا یہ اندازہ بھی ہے کہ یہ خاص الخاص کتے یا تو یونانیوں کے ذکر کردہ کتوں کی نسل سے ہیں( جیسے ارسطو کی History of Animalsمیں مذکور مولوسس،زینو فون کا لکونین اور سکندرِ اعظم کا چہیتا کتا پیریٹاس وغیرہ)یا پھر مذہبی حکایت میں مذکور کتا (جیسے اصحابِ کہف کا کتا یا مہا بھارت میں یدھشٹرکے ساتھ جنت کے دروازے تک جانے والا کتا جو دھرم راج/انصاف کے دیوتا کا روپ تھا یا پارسی مذہب کے مطابق روح کا محافظ کتا وغیرہ) یا پھر ان نایاب نسل کتوں کا تعلق ایک چیک ادیب کے ذکر کردہ کتوں کی نسل سے ہونے کا امکان بھی ہے ( غالباً میلان کنڈیرا کے معروف ناول “The Unbearable Lightness of Being”میں کارینن نامی مادہ کتا مراد ہے جو انسانوں کے مابین بے غرض محبت،وفاداری اور زندگی کے فلسفے کو سمجھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے.)
یوں فاضل افسانہ نگار کی جانب سے انسانی رویوں کے تلخ حقائق کے ساتھ ساتھ تجریدی اسلوب میں انسانی لا شعور کی تہوں کو بھی کریدا گیا ہے۔فکر کا تدریجی ارتقاء پورے بیانیے میں نئے سوالات کو جنم دیتا ہے اور قاری کو فکری و شعوری طور پر بیدار رکھتا ہے۔جب ضبط نفس اور وسیع علم کے حامل جاسوس سراج صاحب متکلم کی جیب میں موجود قلم اور افریقا میں لکھی گئی پہلی کتاب کے باہمی تعلق کے بارے سوال کرتے ہیں اور متکلم کا زہن افریقا کے انسانیت کا پہلا گہوارہ ہونے کی طرف منتقل ہوتا ہے تو دوبارہ ہم متن میں پوشیدہ اس کرب کو محسوس کر پاتے ہیں کہ جس سر زمین پر سرکنڈے کو تراش کر پہلا قلم بنایا گیا اور پپائرس کے پودے سے کاغذ بنا کر افریقا کی پہلی کتاب تخلیق کی گئی اسے نو آبادکاروں نے ظلم اور غلامی سے “تاریک بر اعظم”بنا ڈالا لیکن نو آبادیاتی نظام کے خلاف آواز اٹھانے والے افریقی ادیبوں نے اسی قلم کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنایا تو خواہ وہ ٹونی موری سن ہوں یا چنوا اچیبے اور دیگر مفکرین انھوں نے دنیا کو باور کرایا کہ افریقا وہ پہلا گہوارہ ہے جہاں انسانیت نے جنم لیا اور انسان نے پہلی کتاب لکھنے کے لیے قلم اٹھایا۔لہذا قلم اور بیان ہی انسانیت کے لیے وجہِ عزو شرف ہیں۔
بہر کیف افریقا کے ذکر کے فوراً بعد ملک صاحب کا اشیاء کے باہمی تعلق کی نوعیت کا ہر دو چیزوں کے ساتھ بدل جانے کی طرف اشارہ کر کے دوبارہ “کتوں” کی دنیا کی جبری محدودیت کو ظلم قرار دینا زیادہ واضح طور پر مجبور و مقہور قوموں کے احتجاج اور بغاوت کا اعلامیہ بن جاتا ہے اگرچہ ملک صاحب ذاتی طور پر اپنے پاس موجود اعداد وشمار کے مطابق انسانوں سے زیادہ دوسری مخلوقات کی بقا کے لیے فکر مند ہیں جن میں کتوں کی وہ نسلیں سرِ فہرست ہیں جو”انسانوں سے زیادہ ذہین ،دور اندیش اور ماحول دوست ہیں ۔”(بلیکر کے روکی کی طرح)
کتے کی دنیا کو محدود کرنے کے جرم اور پھر اس پر ندامت بھی نہ ہونے پر افسانہ نگار گویا عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے نظر آتے ہیں کہ کتے یا محکوم کیوں محض زبردستی بنائے گئے مالکوں کی فکر میں ہی غلطاں رہیں ؟جیسا کہ اقبال نے بھی اسرارِ خودی میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ خودی کی نفی کا مسلہ دنیا کی مغلوب قوموں کی اختراعات میں سے ہے۔
سراج صاحب متکلم کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کتوں کی انسانی مداخلت سے پہلے کی حالت کے بارے جاننے کے لیے اسے خود خواب دیکھنا ترک کرنا ہوگا۔اس کے ردعمل میں متکلم کے چہرے کی زردی ملک کے مالکوں کی طرف سے تخلیق کاروں کو لاحق خوف کی علامت ہے کیوں کہ طاقت ور اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ”لغویت”ہی انسانی مسائل کا حل ہے اور کوئی بھی آزاد فکر باشعور انسان نظام کے لیے خطرہ ہے ۔
کتوں کے قریب جانے پر محسوس ہونے والی ہمک اصل میں ایک آزاد انسان کی امکانِ غلامی سے گریز پائی کا اشارہ ہے۔
کتوں کے خوابوں کو محفوظ کرنے کے کام کو متکلم ایک غیبی فیصلہ قرار دیتا ہے :
اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
کتوں کی آنکھوں کے آنسو پونچھ کر انھیں گلے لگاتا متکلم ان کی آنکھوں کے خالی پن کو متنوع رنگوں کی لہروں میں بدلتے دیکھتا ہے تو میٹا فکشن کی حدیں میٹافزکس سے جا ملتی ہیں جب متکلم ادراک نہیں کر پاتا کہ ان لہروں میں جو موجود ہے وہ محض اس سے مخاطب ہے یا گرد وپیش میں موجود ہر شے سے ؟
آخر کار وہ اسے”جیون اور نفس”کے درمیان کی کوئی شے قرار دیتا ہے جو ہمیشہ روشنی کی لہر کی شکل میں نظر آتی ہے ،وہ لہر جو صدیوں کی مسافت طے کرکے ادراک و وجدان کے کسی مخصوص لمحے میں دیکھنے والے کے پردہءِ بصارت سے ٹکرا کر ابدیت سے ہم کنار ہو جاتی ہے ۔
آخرکار متکلم کتوں کے قرب میں رہ کر دیکھے گئے اپنے تحریر شدہ خوابوں کے سو صفحات جب سراج صاحب کے حوالے کرنے کے بعد ہر طرح کی مادی منفعت سے انکار کرتے ہوئے خوابوں کی واپسی کا تقاضا کرتا ہے تو اسے انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔یوں ایک تخلیق کار کے خواب غصب کر لیے جاتے ہیں ۔
افسانے کا آغاز اور انجام خوابوں اور قہوے کے تذکرے کے ساتھ فکری و فنی وحدت میں پرویا گیا ہے ۔فنی ربط کی وجہ سے کہانی محض واقعاتی سطح پر ہی آگے نہیں بڑھتی بلکہ یہاں علامت،استعارہ،تنقید اور فلسفہ اس طرح افسانے کے بیانیے میں ڈھلے ہیں کہ ایک نئی لسانی فضا کا طمطراق،متانت اور سنجیدگی گہرا تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے ۔
بلا شبہ ناصر صاحب کی تنقیدی بصیرت میں جو خلاقی ،انفرادیت اور اچھوتا پن ہے اس نے ان کے افسانے کو فکری ترفع عطا کیا ہے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں