حویلی/حسان عالمگیر عباسی

شب دو ہیں۔ بارش ہو رہی ہے لیکن یہ بات مکمل نہیں ہے۔ بارش رات دس بجے سے مسلسل ہو رہی ہے اور بارش کے تنکے زمین سے ٹکرا رہے ہیں اور چھت پہ بھی ٹپک رہے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات مکمل ہے۔ اس اٹک مٹک سے ایک ساز پیدا ہو رہا ہے۔۔۔ دن میں آنکھ نے دیکھا اور زبان نے ساتھ دیا تھا: جب دل بجتا ہے تو روح سماعت کرتی ہے۔۔ اسم اور فعل میں فرق ہے۔ باریک نہیں بڑا فرق ہے۔۔ باریکی سے پتہ چل جاتا ہے۔۔ فعل زمانے کی بات کرتا ہے۔۔۔ حال، مستقبل یا ماضی کی طرف لپکتا ہے اور فعل میں سرگرمی نظر آئے گی۔۔ اسم ہر جگہ ہے۔۔ ازل تا ابد ہے۔۔ موجود ہے۔۔ موسم بدلتا رہتا ہے۔۔ لا شعوری یا تحت الشعوری کیفیات بہتر ہوتی ہیں کیونکہ جہاں سے شعراء تیزی سے گزر جاتے ہیں, وہاں فلسفیانہ قدم پھونک پھونک کر پڑتے ہیں۔۔۔ موسم بدلتا رہتا ہے لیکن جب شعور پہ زور پڑ جائے تو پر نچھاور کرنا ذوق ہے۔۔ لا شعور اور شعور کی یہ کشمکش بھی دیگر کی طرح ہی ایک کشمکش ہے۔۔ جیسے ریزن، یقین کے بغیر نہیں ہے، جیسے جذبہ اور حقیقت بائنری یکسانیت ہے، جیسے شبہات اور اعتماد باہم منسلک ہیں، جیسے افسانہ و تاریخ یکجا ہیں بعین شعور و لا شعور بھی ایک ہی لڑی میں آتے ہیں۔۔ یہی گھن چکر (cyclicity) ہے۔۔ انسان حال، مستقبل یا ماضی میں رینگتا رہتا ہے۔۔ مستقبل حال ہی کا عکس ہے، کسی نے ‘فعل’ سمجھاتے ہوئے بتایا تھا: جب ہم کہتے ہیں کہ اتوار کو مچھلی پکڑیں گے تو وہ زمانہ حال ہوتا ہے جب ہم پکڑ رہے ہوتے ہیں۔۔ اس حساب سے حال کو دو حصوں میں بانٹ کر زمانہ مستقبل کی چھٹی ہو سکتی ہے البتہ مستقبل کی تصویر، اس کا خاکہ بنانا، یا سوچنا ایک الگ موضوع ہے، اس کا ‘زمانے’ سے تعلق نہیں ہے۔۔ جیسے ریاضی میں فرض کر لیتے ہیں ویسے ہی مستقبل کو نشانے پہ لیا جا سکتا ہے۔۔ پس ثابت ہوا کہ ایک ماضی ہے اور ایک حال ہے۔۔ ابھی میں حال میں ہوں، اڑھائی ہے۔۔ بارش تھم گئی ہے۔۔ جب ٹپک رہی تھی تب دو بج رہے تھے؛ ساز بن رہا تھا۔۔ اور ماضی کی وادیوں میں ‘گونج’ سنائی دے رہی تھی۔۔ لاہور میں بادشاہِ مسجد کے عقب میں فوڈ سٹریٹ ہے ، وہاں حویلی ریسٹورنٹ ہے۔۔ کسی نے کہا تھا وہاں توا کڑھائی بہت اعلی ہے، چار پانچ روایتی طرز پہ بنی تعمیرات اور سیڑھیاں طے کرتے ہیں تو کھلے آسمان تلے وہاں انواع و اقسام کے پر تکلف روایتی و غیر روایتی کھانوں سے تواضع کی جاتی ہے اور طرح طرح کی روشنیاں اور ساز و آواز کا بھی بندوبست موجود ہے۔۔ نیچے اتریں تو گلی ہے۔۔ کشادہ ہے۔۔ وہاں مٹکا چائے اور پان کی دکان ملے گی۔۔ عقبی حصہ بادشاہی مسجد کا ہے جو حویلی کی عمارت سے متصل ہے اور روشنیوں سے بھری رہتی ہے۔۔ میں گاڑی کا انتظار کر رہا تھا۔۔ واپس جانا تھا۔۔ بادشاہی مسجد کے باہر کسی چوک میں اپنے نئے نویلے فون میں مگن تھا ، شاید گاڑی منگوا رہا تھا، اسی اثناء میں بائیک پہ سوار دو افراد نے موقع غنیمت سمجھ کر فون کچھ یوں جھپٹا جیسے پاؤں سے زمین چھین لی گئی ہو۔۔۔ وہ جھٹکا، وہ کھٹکا اور وہ واردات کا طریقہ ابھی بھی اَز بر ہے۔۔ اس فون میں خاصا مواد تھا ، اور ایک چھوٹا سا کیو موبائل اور سم نکلوانا، اور پھر چار پانچ روز اس گہما گہمی میں رہے۔۔ مجھے یاد ہے۔۔ میرے ہاتھ سے جب وہ چھینا گیا تھا تو میں پیچھے گیا تھا اور تب تک وہ اس جمِ غفیر کا حصہ بن گئے تھے۔۔ میں پاس ہی تھانے میں گیا اور میں نے رپورٹ بھی ضمناً درج کرادی تھی۔۔ یہاں میرے تین گھنٹے مزید صرف ہوئے اور واپس باہر آیا تو بارہ بج رہے تھے ، وہ محرم کے دن تھے بلکہ دس محرم تھا ، اور محرم سے منسوب ثقافتی و مذہبی سرگرمیوں کے بیچ میں سے میں کسی ایک خالی جگہ پہ پہنچا۔۔ تھانے میں گیا تو تھانیدار لوگ گھر رابطے کے لیے سہولت نہیں دے رہے تھے اور جب سماجت کے بعد سہولت ہوئی تو گھر سے آئی ایم آئی نمبر لے کر رپورٹ درج کروا کر باہر نکل آیا۔۔ بعد میں مجھے غالباً دو ماہ بعد تھانے سے میسج بھی موصول ہوا تھا کہ آپ کی رپورٹ پہ کاروائی ہو چکی ہے اور مثبت نتیجہ نکلا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔ خیر جب میں باہر آیا تو اب کسی رکشے کی تلاش میں تھا۔۔ ایسے میں چنگچی والے بھائی خود آئے اور پوچھا کہاں جانا ہے؟ کچھ دیر بعد میں اپنے ٹھکانے کے باہر ایک گلی میں تھا جہاں رات کے اس پہر مجھے ایک ملک شیک والا نظر آگیا، گرمی ، اور ایک اجنبی سی کیفیت تلے میں وہاں پہنچا اور میں نے دو بڑے گلاس آم والا شیک نوش کیا ، اس کے بعد اکھڑی سانسیں بحال ہوئیں ، گرمی کی شدت میں کمی آئی اور چل پڑا۔۔ کچھ آگے بڑھا تو چائے کی تمنا ہوئی۔۔ ایک بج رہا تھا۔۔ سب سو رہے تھے۔۔ کتے جاگ رہے تھے۔۔ گلیاں ویران تھیں۔۔ چائے کی تمنا برقرار رہی۔۔ اس برقراریت کا فایدہ سمیٹتے ہوئے چلتا رہا۔۔ یہاں ایک پتیلے کے اندر بڑے چمچے کو گھسیٹا جا رہا تھا۔۔ صبح ناشتے کے لیے پائے چنے کی تیاریاں عروج پہ تھیں۔۔ آٹا گوندا جا رہا تھا۔۔ لاہور کا ناشتہ مشہور ہے۔۔ رات سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔۔ وہاں پوچھا تو کہنے لگے کہ چائے کی پیٹی بند کر دی گئی ہے۔۔ اصرار کرنے پہ بہترین چائے پلائی گئی۔۔ اس کے بعد میں چلا گیا۔۔ اگلے چند روز کے وقفے کے بعد کچھ کاغذات جمع کروائے اور واپس پہاڑوں کا رخ باندھ لیا۔۔ یہ کہانی بہت پرانی ہے۔۔ بھول گیا تھا۔۔ آج میرے ذہن میں وہ گلیوں کا شور امڈ آیا تو جستجو ہوئی، تمنا بنی، قلم نکالا، سیاہی بھری، نوک تراشی اور تحریر ہو گئی۔

اپنا تبصرہ لکھیں