بھگوال کی مٹی ہمیشہ سے ایسے لوگوں کو جنم دیتی رہی ہے جن کے لہجے میں خلوص، طبیعت میں سادگی اور سوچ میں دردِ دل شامل ہوتا ہے۔ انہی شخصیات میں ایک نہایت محترم اور باوقار نام افتخار حسین کا بھی ہے۔ اُن کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جو زندگی کے ہنگاموں سے گزر کر اب ایک پُرسکون مگر بھرپور ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ اگرچہ ان کا آبائی تعلق بھگوال سے ہے لیکن آج کل راولپنڈی میں مقیم ہیں، تاہم اُن کے دل کی دھڑکن آج بھی اپنے گاؤں کی مٹی سے جڑی ہوئی ہے۔ جب بھی بھگوال آتے ہیں تو دوستوں، عزیزوں اور احباب سے ملاقات کو محض رسمی عمل نہیں بلکہ محبت کی روایت سمجھتے ہیں۔ اُن کی شخصیت میں دیہات کی اپنائیت، بزرگوں کی شفقت اور ایک درد مند انسان کی سنجیدگی بیک وقت دکھائی دیتی ہے۔
افتخار حسین صاحب اُن خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی، اُن کی شادیاں احسن انداز میں انجام دیں اور اب زندگی کے اُس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انسان ماضی کے تجربات کو حال کے آئینے میں دیکھتا ہے۔ اکثر صبح ناشتے کے بعد اُن کی کال یا پیغام آ جاتا ہے اور پھر گفتگو صرف خیریت تک محدود نہیں رہتی بلکہ معاشرتی رویّوں، بدلتے انسانی مزاج، نئی نسل کے مسائل اور وقت کے تضادات تک جا پہنچتی ہے۔ اُن کی گفتگو میں ایک خاص قسم کی فکری سنجیدگی ہوتی ہے جو سننے والے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
چند روز قبل بھی اُن سے طویل گفتگو ہوئی۔ اُس روز اُن کے لہجے میں معمول سے زیادہ درد محسوس ہو رہا تھا۔ باتوں ہی باتوں میں انہوں نے شادی بیاہ کی بڑھتی ہوئی فضول رسموں اور بے جا اخراجات کا ذکر چھیڑ دیا۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے معاشرے میں شادی اب خوشی کی سادہ تقریب نہیں رہی بلکہ ایک ایسا بوجھ بنتی جا رہی ہے جس کے نیچے غریب تو غریب، سفید پوش طبقہ بھی دب رہا ہے۔ لوگ محض دیکھا دیکھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر اخراجات کرنے پر مجبور ہیں۔ کوئی قرض لے رہا ہے، کوئی اپنی جمع پونجی ختم کر رہا ہے اور کوئی اپنی زندگی بھر کی کمائی صرف چند دنوں کی نمائش پر لٹا رہا ہے۔
انہوں نے بڑی حسرت سے پرانے وقتوں کو یاد کیا جب شادیوں میں سادگی ہوتی تھی۔ چند قریبی لوگ، ایک سادہ سا کھانا، خلوص بھرا ماحول اور دعاؤں سے مہکتی محفلیں۔ نہ مہنگے ہالوں کی دوڑ تھی، نہ قیمتی برائیڈل ڈریس کا جنون، نہ سوشل میڈیا کی نمائش۔ مگر آج حالات یہ ہیں کہ اگر شادی کے تین دن فنکشن ہوں تو ہر دن کے لیے الگ لباس، الگ جوتے، الگ تیاری ضروری سمجھی جاتی ہے۔ خاص طور پر دلہن اور دولہے کے ایسے مہنگے ملبوسات تیار کروائے جاتے ہیں جنہیں شاید دوبارہ کبھی استعمال ہی نہ کیا جا سکے۔ افتخار بھائی بڑی سادگی سے بولے کہ“ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ صرف چند گھنٹوں کے لیے لاکھوں روپے کے کپڑے لینے کی آخر منطق کیا ہے؟”
بات صرف لباس تک محدود نہیں رہی۔ اُنہوں نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جہیز اور سونے کے رجحان پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا۔ اُن کے مطابق اب شادی دو انسانوں کا بندھن کم اور مالی حیثیت کی نمائش زیادہ بن چکی ہے۔ لوگ یہ پوچھنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں کہ “کتنا سونا دیا؟”، “جہیز میں کیا آیا؟” یا “کتنے سوٹ بنے؟”۔ حالانکہ یہ دو خاندانوں کا ذاتی معاملہ ہونا چاہیے، مگر ہمارے معاشرے نے اسے عزت اور وقار کا پیمانہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر مہنگی جیولری، قیمتی سامان اور بے شمار غیر ضروری اشیاء خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان میں سے اکثر چیزیں سالہا سال استعمال ہی نہیں ہوتیں، مگر صرف برادری کو دکھانے کے لیے اُن کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
افتخار حسین صاحب نے ایک نہایت اہم نکتہ یہ بھی اٹھایا کہ انہی فضول رسموں کی وجہ سے کتنی ہی بیٹیاں وقت پر رخصت نہیں ہو پاتیں۔ کتنے والدین صرف اس لیے پریشان رہتے ہیں کہ وہ ان مصنوعی تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے معاشرے میں شادی آسان نہیں رہی بلکہ ایک معاشی امتحان بن گئی ہے۔ غریب آدمی اپنی عزت بچانے کے لیے قرض لیتا ہے، سفید پوش اپنی ضروریات قربان کرتا ہے اور پھر برسوں اُن قرضوں کی قسطیں ادا کرتا رہتا ہے۔
اُن کی باتوں میں درد بھی تھا، تجربہ بھی اور ایک سچے انسان کی بے بسی بھی۔ وہ بار بار یہی کہتے رہے کہ ایک اچھی اور خوشحال ازدواجی زندگی کے لیے نہ سونے کے زیورات ضروری ہیں، نہ مہنگے ملبوسات، نہ ہفتوں پر مشتمل تقریبات۔ اصل ضرورت محبت، برداشت، اخلاق اور باہمی احترام کی ہے۔ اگر یہ چیزیں موجود ہوں تو ایک سادہ سا گھر بھی جنت بن سکتا ہے اور اگر یہ نہ ہوں تو محلات بھی خالی محسوس ہوتے ہیں۔
افتخار بھائی کی گفتگو سن کر بار بار یہی احساس ہوتا رہا کہ ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ اصل خوشیوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے رشتوں کو نمود و نمائش کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے۔ اب شادی خوشی سے زیادہ مقابلہ بن چکی ہے۔ لوگ اپنی استطاعت نہیں بلکہ دوسروں کی توقعات کے مطابق جینے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سکون کم اور ذہنی دباؤ زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود احتسابی کریں۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر ہم اپنی خوشیوں کو دوسروں کی رائے کا محتاج کیوں بنا رہے ہیں؟ ہم اپنی بیٹیوں کو بوجھ کیوں بنا رہے ہیں؟ ہم اپنی محبتوں کو سونے اور جہیز کے ترازو میں کیوں تول رہے ہیں؟ اگر واقعی ہم اس معاشرتی ناسور کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پھر ہمیں محض تنقید سے آگے بڑھنا ہوگا۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ یہ فضول رسمیں خود بخود ختم نہیں ہوں گی۔ ان کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے ہمیں خود پہل کرنا ہوگی۔


