غالب کے لیے فریاد،محض ایک چھوٹی یا بڑی ناانصافی کی دادرسی کے لیے ظاہر کی گئی پکار کا مفہوم نہیں رکھتی۔
وہ فریاد کو شخصی ، سماجی ، سیاسی ،معاشی زندگی کے کسی ایک مسئلے تک محدود نہیں سمجھتے۔
انھوں نے اپنی ذاتی زندگی میں فریاد محض اپنے معاشی مسئلے کے ضمن میں ضرور کی تھی، مگر وہ جانتے تھے کہ فریاد ،انسانی وجود کے اساسی مسئلے میں جڑیں رکھتی ہے۔
ہم ابتدا میں غالب کی فریاد ردیف والی جس غزل کو درج کر آئے ہیں، اس میں فریاد کو ہڈیوں میں اتر ا ہوا بلاوجہ نہیں کہا گیا۔ ہر انسانی ہڈی ،اپنے ہونے میں فریاد کناں ہے۔
بہ رنگِ نے ہے نہاں در ہر استخواں فریاد
انسانی وجود کے اساسی مسائل سے آگاہی ،انسانی وجود کی حدوں کی آگاہی سے مشروط ہے۔
اگر انسانی وجود کی حد کی آگاہی ، محض اس کی مادی معاشی حاجتوں تک محدود ہو تو انسانی وجود کا مسئلہ ،بھی محض مادی ومعاشی ہوتاہے ،
لیکن جب انسانی وجود کی آگاہی میں ، انسان کی جسمانی ومادی ضرورتوں کے علاوہ، اس کی ذہنی وتخیلی وروحانی ضرورتیں بھی شامل ہوں،
اس کے کمزور و فناپذیر بدن میں اعلیٰ ترین تصورات وتخیلات ، اس کی آرزوئیں، حسرتیں ، مقاصد، ارادے اور ان کی شکست، اپنی اور اپنے عزیزوں کی موت، عزت ِ نفس اور اس کا قدم قدم پر مجروح ہونا، متوازی اور بے کراں دنیاؤں کے خواب اور روزمرہ زندگی کی المناک سچائیاں ، سماجی مقتدرہ وتقدیر کے زخم شامل ہوں تو انسانی وجود کا مسئلہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
فریاد کا تصور، انسانی وجود کے مسائل کی آگاہی سے راست وابستہ ہے۔
جہاں جہاں ان مسائل سے آدمی کی آگاہی ، اور ان کے لاینحل ہونے کا احساس زیادہ ہے، وہاں وہاں فریاد ہے۔جہاں ان مسائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا انھیں انسانی تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے،یا انھیں انسان کی آزمائش تصور کرتے ہوئے،سر تسلیم خم کردیا جاتا ہے، وہاں فریاد نہیں ہوتی۔
فریاد، اپنی اصل میں کمزور کی وہ صدا ہے، جو مقتدر ہستی تک رسائی کے لیے ، اور اسے کمزور کی حالت کو سمجھنے اور بدلنے کے لیے بلند ہوتی ہے۔
فریادی ، اپنی حالت سے نباہ کرنے میں خود کو عاجز پاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فریاد میں انکار اور جرأت کے عناصر ہوتے ہیں۔فریاد کی حالت کو برقرار رکھنے سے انکار ،اور صاحبِ اختیار کے سامنے اپنی حالت کا بے کم وکاست اظہار کرنے کی جرأت۔
غالب، فریاد کی اس بنیادی رمز کو پہچان گئے تھے۔
چناں وہ یہ احساس رکھتے تھے کہ بہ ظاہر فریاد، کمزور وجود کا اظہار ہے، مگر یہ اظہار بجائے خود کمزور نہیں ہے۔
صاف لفظوں میں فریادی کمزور ہے،وہ کسی حق اور رعایت سے محروم ،کسی زخم ،کسی کمی ، کسی غم والم ، کسی بے چارگی کا شکا رہے، مگر اس کی فریاداپنے اندر کمزوری نہیں رکھتی۔
فریاد، اپنے حق سے محرومی یا اپنے کسی زخم کو مکمل طور پر ظاہر کرنے کے اختیار کی حامل ہے۔
۱۸۱۶ء میں لکھا گیا ، غالب کا یہ شعر دیکھیے، جس میں یہی بات کہی گئی ہے۔ غالب کے لفظوں میں فریاد ،گرمی ِ وحشت پیدا کرتی ہے۔یعنی فریاد،دادخواہی سے محروم رہ سکتی ہے اور عموماً رہا کرتی ہے، مگر خود فریاد رائیگاں نہیں جاتی ؛ وہ مایوسی نہیں، عشق کی بلند ترین کیفیت وحشت پیدا کرتی ہے۔
فریاد سے پیدا ہے ، اسد، گرمی وحشت بتخالہ لب ہے ،جرس آبلہ پا
غالب اس خیال کو بدلتے محسوس ہوتے ہیں کہ گرمی ِ وحشت، صرف عشق سے پید اہوتی ہے۔
کلاسیکی فارسی اور اردو شاعری میں ، عاشق ایک فریادی بھی ہے۔ معشوق، ایک مقتدر اور بے نیاز ہستی ہے۔ عاشق اس سے توجہ، رحم اور وصال کی فریاد کرتا ہے،مگر معشوق پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مثلاً میر کہتے ہیں:
داد فریادجابجا کریے شاید اس کے بھی دل میں جا کریے
لہٰذاعاشق کی فریاد نہ صرف رائیگاں جاتی ہے، بلکہ وہ عاشق کو بے حوصلہ و بے توقیر بھی کرتی ہے۔
جب کہ غالب کے یہاں، عاشق کی فریاد ، اس کے عشق میں مزید گرمی پیدا کرتی ہے، اور اس کا عشق، وحشت کا رنگ پکڑ لیتا ہے۔
مسلسل فریاد سے اس کے ہونٹو ں پر جو پپڑی جمتی (بتخالہ لب)ہے، وہ دراصل ، صحرا کی گرم ریت پر چلنےسے پید اہونے والے آبلوں کی جرس ہے۔
( زیر تصنیف تنقیدی کتاب میں شامل غالب پر مضمون سے اقتباس)


