اردو افسانے کا سفر پریم چند سے شروع ہو کر آج کے عہدِ جدید تک ایک طویل مسافت طے کر چکا ہے۔ داستانوی عناصر سے نکل کر علامت نگاری اور تجریدیت تک پہنچنے والا یہ سفر اب ‘نئی حقیقت نگاری’ کی طرف مائل ہے۔اردو افسانہ جب اپنے آغاز میں تھا تو اس پر سماجی اصلاح کا رنگ غالب تھا۔ بعد ازاں، ترقی پسند تحریک نے اسے حقیقت نگاری کی ایک نئی جہت دی۔ تاہم، جدیدیت کے زیرِ اثر علامت نگاری اور تجریدیت کے تجربات بھی اردو افسانے کا حصہ رہے۔ اکیسویں صدی کا افسانہ ان تمام تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے انسان کے باطنی کرب اور بدلتے ہوئے معاشی و سماجی حالات کی عکاسی کر رہا ہے۔ اس ارتقائی عمل میں پنجاب کے ادبی منظر نامے پر ابھرنے والی نامور افسانہ نگار مصباح نوید نے اپنے منفرد اسلوب کے ذریعے ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی افسانہ نگاری، دراصل روایت اور جدیدیت کے سنگم پر کھڑی ایک ایسی آواز ہے جو قاری کو غور و فکر پر مجبور کرتی ہے۔ اس روایت میں مصباح نوید کا نام اس لیے اہم ہے کہ وہ علامت اور حقیقت کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرے کے چھپے ہوئے زخموں کو اجاگر کرتی ہیں۔
عصری اردو نثر کے منظر نامے میں، جہاں ادبی تخلیقات کا ایک وسیع سیلاب موجود ہے، مصباح نوید کی کہانیاں ایک منفرد اور توانا آواز بن کر ابھرتی ہیں۔ ان کے افسانےاس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مصباح نوید کے ہاں کلاسیکی اور تجریدی تکنیک کا ایک ایسا امتزاج موجود ہے جو انسانی نفسیات اور رشتوں کی پیچیدہ بساط کو انتہائی مہارت سے کھولتا ہے۔ ان کا اسلوب محض کہانی سنانے تک محدود نہیں، بلکہ وہ انسانی رشتوں، سماجی جبر، اور وجودی تنہائی کو استعاراتی اور واقعاتی انداز میں پیش کرتی ہیں، اور یہ اسلوب عالمی ادب کے تنقیدی معیارات پر پورا اترنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
موضوعاتی تنوع اور فکری جہات کے حوالے سے اگرمصباح نوید کے افسانوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے موضوعات کو تین بڑی جہات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ وجودی تنہائی اور نفسیاتی تجرید، طبقاتی و معاشی حقیقت نگاری، سماجی منافقت کا نوحہ۔افسانہ “پریم کہانی”، “مچھلی جو بولتی ہے” اور “بالکونی سے نظر آتی سڑک” تجریدی اور علامتی اسلوب کے بہترین نمونے ہیں۔ “پریم کہانی” میں شعور کی رو کی تکنیک کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ افسانہ “پریم کہانی” محض ایک رومانوی استعارہ نہیں بلکہ انسان کے اندر کی اس خالی پن اور تنہائی کی علامت ہے جسے روزمرہ کی مشینی زندگی (لانڈری، بچے، گھر کے کام) بھی پُر نہیں کر سکتی۔
اسی طرح افسانہ ” مچھلی جو بولتی ہے ” میں ایک ڈسٹوپین (Dystopian) اور سائنس فکشن کی فضا قائم کی گئی ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں جذبات کی جگہ ڈیجیٹل چپ (Chip) اور روبوٹک ساتھیوں (Coop) نے لے لی ہے۔ شیشے کے ایکویریم میں قید چھوٹی خاکستری مچھلی دراصل روح کے اس گمشدہ دریا کا استعارہ ہے جس کی تلاش میں انسان آج بھی سرگرداں ہے۔ مصباح نوید نے مشینی عہد میں رشتوں کی بیگانگی کو جس تجریدی علامت نگاری کے ساتھ پیش کیا ہے، وہ انتہائی قابلِ داد ہے۔ “بالکونی سے نظر آتی سڑک” میں بالکونی سے بندھا کردار (جو بظاہر ایک پالتو کتا یا کوئی مسخ شدہ انسانی وجود ہو سکتا ہے) جدید سماج میں جبر اور مصنوعی آزادی کا ایک ہولناک استعارہ بن کر سامنے آتا ہے۔
دوسری جانب “نسیم پوچھتی ہے” اور “پچاس منٹ” میں مصباح نوید ہمیں سیدھا زمینی حقائق کے سنگلاخ فرش پر لا پٹختی ہیں۔ ان افسانوں میں استعاروں کی جگہ ننگی اور تلخ حقیقتیں سانس لیتی ہیں۔ نرس نسرین (پچاس منٹ) کا پچاس منٹ کا پیدل سفر محض ایک فاصلہ نہیں، بلکہ غربت، مہنگائی، اور مردانہ ہوس زدہ نگاہوں سے بچ کر گزرنے والی عورت کی روزمرہ اذیت کا دورانیہ ہے۔”نسیم پوچھتی ہے” میں ایک ماں کی اپنے بیمار بیٹے کے لیے جدوجہد اور رشتوں کی بے حسی کو کمال سفاکی سے پیش کیا گیا ہے۔ یہاں مصباح کا قلم منشی پریم چند اور عصمت چغتائی کی کلاسیکی حقیقت نگاری کی روایت کو آگے بڑھاتا محسوس ہوتا ہے۔
“ہیپی اولڈ ہومز”، “نیلکاں” اور “کونج” سماجی دوغلے پن کے نوحے ہیں۔ “ہیپی اولڈ ہومز” میں باؤجی کے انتقال کے بعد ان کے مردہ جسم کے شعور کے ذریعے زندہ لوگوں کی منافقت کا بلیک ہیومر (Black Humor) کی صورت میں پردہ چاک کیا گیا ہے۔ باؤجی کا دماغ جو مرنے کے بعد پنجابی مغلظات بکتا ہے، دراصل اس گھٹن کا لاشعوری اظہار ہے جو وہ ساری زندگی نستعلیقیت کے لبادے میں برداشت کرتے رہے۔”نیلکاں” میں عابدہ بتول کے کردار کے ذریعے طبقاتی فرق اور فرسودہ رشتوں کی بھینٹ چڑھنے والی عورت کی نفسیات دکھائی گئی ہے، جبکہ “کونج” میں غیرت کے نام پر قتل جیسے موضوع کو ایک کم سن بچی (ستارہ) کی معصوم نگاہوں اور ایک کتے (ٹامی) کے استعارے سے بیان کیا گیا ہے۔
مصباح نوید کے افسانوں کی بنت میں ایک خاص قسم کا تنوع پایا جاتا ہے۔ وہ روایتی آغاز، عروج اور انجام کے خطی (Linear) اصولوں کی پابند نہیں رہتیں۔ان کے بیشترافسانوں کی بنیاد تجریدی اور غیر خطی بنت ہے۔”پریم کہانی” اور “بالکونی سے نظر آتی سڑک” میں کوئی واضح کہانی پن (Storyness) نہیں ہے بلکہ یہ کیفیات کا تسلسل ہیں۔ خیالات ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہیں۔ ماضی اور حال کی سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔ یہ بنت قاری سے گہرے فکری ارتکاز کا تقاضا کرتی ہے۔اس کے بلکل ساتھ ساتھ افسانوں میں واقعاتی اور خطی بنت بھی موجود ہے۔افسانہ “پچاس منٹ” اور “نسیم پوچھتی ہے” کی بنت بالکل سیدھی اور مربوط ہے۔ ان میں ایک واضح آغاز ہے اور انجام تک پہنچتے پہنچتے قاری کے ذہن پر ایک گہرا تاثر ثبت ہوتا ہے۔
مصباح نویدکی زبان سادہ ہے لیکن اس میں ایک تہہ داری پائی جاتی ہے۔ وہ علامتی اظہار کو کہانی کے بیانیے میں اس طرح گھلاتی ہیں کہ کہانی کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ ان کے ہاں مکالمہ نگاری، کرداروں کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔مصباح نوید واحد متکلم (میں) اور صیغہ غائب (Third Person) دونوں کو بخوبی برتتی ہیں۔ ” مچھلی جو بولتی ہے ” اور ” بالکونی سے نظر آتی سڑک ” میں متکلم کا زاویہ نگاہ قاری کو براہِ راست تجرید کا حصہ بنا دیتا ہے، جبکہ “کونج” میں کیمرے کی آنکھ ستارہ (بچی) کے زاویے سے کام کرتی ہے، جو پیشکش کو انتہائی معروضی اور اثر انگیز بنا دیتی ہے۔
مصباح نوید کے ہاں کردار گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان ہیں، جو اپنی تمام تر خامیوں، محرومیوں اور نفسیاتی الجھنوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔افسانہ نسیم پوچھتی ہے کی نسیم خاموش، بدھا کی طرح شانت لیکن اندر سے ممتا کے کرب میں مبتلا کردار۔ یہ محض ایک کردار نہیں بلکہ نچلے طبقے کی ہر اس عورت کی نمائندگی ہے جو جبر کے آگے دیوار بن جاتی ہے۔ ہیپی اولڈ ہومز کا باؤجی،یہ کردار طنز اور المیے کا شاہکار ہے۔ ساری زندگی اولاد کی خاطر قربانی دینے کے بعد کارنس پر سجے “فومی کتروں بھرے بھالو” کی طرح بے وقعت ہو جانے والا باپ ہے۔نیلکاں کی عابدہ بتول ،لوئر مڈل کلاس کی جکڑی ہوئی لڑکی جو پرواز چاہتی ہے مگر روایات کی بھینٹ چڑھ کر اندر سے مر جاتی ہے، اور اس کے دل و روح پر پڑنے والے نیلے دھبے (نیلکاں) قاری کو بھی سوگوار کر دیتے ہیں۔افسانہ کونج کی ستارہ ایک مبصر کردار ہے۔ اس کی معصومیت کے تقابل میں سماج کی سفاکی زیادہ بھیانک ہو کر ابھرتی ہے۔
مصباح نوید اپنے افسانوں میں عورت کو محض ایک روایتی کردار کے طور پر پیش نہیں کرتیں، بلکہ وہ اسے ایک خود مختار اور سوچنے سمجھنے والے وجود کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کا افسانہ “کایا کلپ” اس ضمن میں ایک اہم مثال ہے، جہاں وہ صنفی شناخت کے پیچیدہ مسائل کو جس مہارت سے برتتی ہیں، وہ ان کی فنی پختگی کا ثبوت ہے۔مصباح نوید کا اسلوب ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ان کے ہاں زبان محض ترسیل کا ذریعہ نہیں، بلکہ بذاتِ خود ایک جمالیاتی تجربہ ہے۔وہ جدید زندگی کے کھوکھلے پن کو بیان کرنے کے لیے انتہائی نادر استعارے تراشتی ہیں۔ انسانی تعلقات کو وہ محض جذباتی سطح پر نہیں دیکھتیں بلکہ انہیں ایک پیچیدہ بساط کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر “پریم کہانی” میں لفظوں کی کاغذی ناؤ، یا رومی کے درویشوں کی مانند جذب میں رقص کرتے لفظ۔ دورِ حاضر میں ٹیکنالوجی نے انسانی رشتوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ مصباح نوید کے ہاں “ورچوئل لائف” جیسے موضوعات کا انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے عہد کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ دکھاتی ہیں کہ کیسے ڈیجیٹل دنیا نے انسان کو تنہائی کے نئے سمندر میں دھکیل دیا ہے۔
مصباح نوید کی اردو میں ایک خاص قسم کی تہذیبی رچاوٹ ہے۔ وہ مکالموں کی بنت میں کردار کی نفسیات اور سماجی پس منظر کے مطابق زبان استعمال کرتی ہیں۔ جہاں ضرورت پڑتی ہے وہ خالص پنجابی کے ٹھیٹھ الفاظ اور محاورے (جیسے ہٹی سڑے کراڑ دی، یا مرن جوگئیے) انتہائی برجستگی سے استعمال کرتی ہیں۔ اس لسانی تنوع سے بیانیے میں ایک مقامی (Indigenous) ذائقہ پیدا ہوتا ہے۔”کونج” میں نوری کا تندور پر روٹیاں لگانا اور آگ کی روشنی میں اس کی چمکتی رنگت، یا “پچاس منٹ” میں کچرے کے ڈھیر، اڑتے شاپر اور محلے کی غلاظت کی منظر کشی—یہ سب قاری کو صرف پڑھنے پر مجبور نہیں کرتے بلکہ محسوس کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مصباح نوید کے قلم میں کیمرے کی سی بصارت ہے۔
مصباح نوید کی افسانہ نگاری اردو فکشن کی روایت میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔ وہ نہ صرف اپنے ماضی سے جڑی ہوئی ہیں بلکہ حال کی تلخ حقیقتوں کو فن کے سانچے میں ڈھالنے کا ہنر بھی جانتی ہیں۔ ان کے افسانےاس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ ایک طویل ادبی سفر کی مسافر ہیں۔ وہ اردو افسانے کی اس جدید نسل سے تعلق رکھتی ہیں جو اپنے عہد کی پیچیدگیوں، نفسیاتی کشمکش اور سماجی منافقتوں کا گہرا ادراک رکھتی ہے۔ ان کے افسانوں میں جہاں ایک طرف معاشرتی حقیقت نگاری کا کرب موجود ہے، وہیں دوسری طرف تجریدی اور استعاراتی نظام کی ایسی بلند سطح موجود ہے جو عالمی ادب کے رجحانات سے ہم آہنگ ہے۔ ان کا اسلوب نہ صرف جدید اردو افسانے کے مستقبل کے لیے ایک توانا علامت ہے۔ بلکہ ان کے افسانے اردو ادب کے تنقیدی سرمایے میں ایک گراں قدر اضافہ بھی ہیں۔


