طمع کیا ہے، اپنے پاس موجود مال و دولت پر عدم اکتفا ۔ طمع ہے حرص اور لالچ سے مجبور دوسروں کی دسترس میں ایک سرے سے دوسرے کنارے تک پھیلی عزت و وقعت، قدر و منزلت اور بے پایاں دولت کو چادر میں لپیٹ کر لوٹ لے جانے کی سعی۔ حرص و لالچ ہے ہوس کے گھوڑے کو ایڑ لگا کر دوسروں کے اسباب پر جھپٹنے اور جو کچھ پلے نہ ہو اس کو چھین لینے کی جستجو۔
لالچ کیا ہے، گزرتے وقت کے ساتھ دوسروں کے سینکڑوں کو لاکھوں، لاکھوں کو کروڑوں، کروڑوں کو اربوں میں بڑھتا ہوا دیکھ کر بے پناہ خواہش رکھنا کہ اس کے پاس جو بھی مال و متاع ہے وہ سب کا سب اس کی گود میں آ گرے۔ حرص کیا ہے ارمانوں اور آرزؤں کی بستی میں رہ کر لا محدود وسائل کی تمنا میں بے حال ہو جانا۔ تمنائیں رکھنا برا نہیں لیکن تقدیر پر بھروسہ رکھنا بھی ضروری ہے۔ ہر انسان کروڑ پتی نہیں ہوتا، ہر ایک کے پاس ہزاروں ایکڑ زمین نہیں ہوتی۔ ہر ایک کئی ملوں اور ان گنت پٹرول پمپس کا مالک نہیں ہوتا۔ ہر ایک کے پاس بڑی بڑی گاڑیاں اور ویگو ڈالے نہیں ہوتے۔ ہر ایک کا گھر خوبصورت محلوں کی طرح نہیں ہوتا۔ ہر شخص اقتدار کی راہداریوں کا راہی نہیں ہوتا اور ہر ایک کے سر پر اقتدار کا ہما نہیں بیٹھتا۔ ہر ایک اختیارات کے دیو ہیکل قلعے کا مالک نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ قسمت کے دھنی ہوتے ہیں، وہ مٹی میں ہاتھ ڈالیں تو سونا بن جاتی ہے۔ وہ جو بھی کاروبار شروع کرتے ہیں، وہ پروان چڑھ کرمال اگلنے لگتا ہیے۔ قسمت کی دیوی ان پر ایسی مہربان ہوتی ہے کہ انکے پاس وسائل و دولت کسی دولہا کی بارات پر برستے نوٹوں کی طرح جھولیوں میں آ گرتی ہے۔ اسے کہتے ہیں قسمت اپنی اپنی نصیب اپنا اپنا۔ البتہ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھے رہنا بھی درست نہیں۔ کچھ حاصل کرنا ہو تو ہمت اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ آگے بڑھنے کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ آٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔
کوشش اور محنت انسان کو بہت کچھ دیتی ہے۔ جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میتھا ہو گا۔ مالداروں کی مالی رونقوں پر نہ جاؤ، مال و دولت کی بہتات اور آسائشات کو مت دیکھو۔ یاد رکھو کوئی جتنا امیر کبیر ہوتا ہے، اس کی آزمائشیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں جن کے پاس دولت کی کثرت ہو وہ آب کی طرح پر سکون بھی ہو۔ اس لئے اپنی قسمت پہ شاکر رہ کر اللہ کی یاد میں زندگی بسر کرنے میں جو خوشی اور طمانیت ہے، اس کا کوئی بدل نہیں۔ قناعت کا سبق ہمیں سکھاتا ہےکہ اپنی بہتری کے لئے محنت کرو اور اس کا پھل پاؤ۔ آپ کو جو کچھ بھی مل رہا ہے، اپنے حصے کا مل رھا ہے۔ اس سے کم یا زیادہ ہرگز نہیں ملے گا۔
اپنی بساط میں رہ کر جو تشفی ملتی ہے وہ اپنی حدود سے باہر نکل کر خریدے سے بھی نہیں ملتی۔ یہی حال اپنے گھرانے میں، اپنے بچوں، اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ مل کر خوشیاں بانٹنے میں ہے، وہ شمالی علاقوں کی خوبصو رت سیرگاہوں، جھیلوں اور چشموں کو دیکھے سے نہیں ملتی۔ اہم بات یہ ہے کہ بہت سے ایسے نامی گرامی لوگ گزرے ہیں جو اپنے وقت کے رئیس تھے، جو دولت کے برجوں پر کھڑے ہو کر نیچے دیکھتے تھے تو انہیں غریب مخلوق محض کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتی نظر آتی تھی۔ مگر جب وہ اس دنیا سے گئے تو کچھ بھی انکے ساتھ نہیں تھا۔ ان کا رعب و دبدبہ کمزویوں میں ڈھل گیا۔ انکے زر و بفت کے شاہانہ لباس لٹھے کے کفن بن گئے۔ سب مال و زر یہیں رہ گیا۔ بہت سے آئے اور گزر گئے۔ ان گنت صاحبان اقتدار گزرے جواپنی طاقت و جبروت میں اس حد تک آپے سے باہر تھے کہ اپنے کسی بھی حکم کی بجا آوری نہ ہونے پر گردن اڑا دیتے تھے۔ وہ بھی اپنی موت کے بڑھتے قدموں کو نہ روک سکے۔ وہ بھی خالی ہاتھ اس دنیا سے لوٹ گئے۔ اب انکا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔ اب جو رعنائیوں بھری زندگی گزار رہے ہیں، وہ بھی عدم ہو جائیں گے۔
دوسروں کی ملنے والے مال و دولت کی فراوانی اللہ کی عطا ہوتی ہے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ اس کے پاس کثرت مال اس کے کسںب کی ہے یا غیرمکسوب ہے۔ اس کا فیصلہ اللہ کریے گا۔ تجھے پرائی کیا پڑی پہلے اپنی نبیڑ۔
عمومآ انسان خود کو دوسروں کے مساوی اور ہم پلہ بنانے کی تگ و دو میں راہ سے بھٹک جاتا ہے۔ وہ جائز و ناجائز کو ملحوظ نظر رکھے بغیر کسی بھی ذریعے سے مال و اسباب کو جمع کرنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ کبھی ضدی گھوڑے کی طرح بدک جاتا ہے۔ اسے اچھے برے کی تمیز نہیں رہتی۔ اس کے پیش نظر ایک ہی لگن اور ایک ہی خواہش ہوتی پے کہ وہ بھی قسمت کا دھنی ہو جائے۔ اس کا نام بھی دولت مندوں میں شامل ہو جاۓ۔ اسے عزت سے پکارا جائے، ہر خورد و کلاں کی نظر اس کی طرف اٹھتی ہو۔ان لامتناہی خواہشات کا انجام ایسا ہوتا ہے جیسے اسے کسی نے راکا پوشی سے ڈھلان کی طرف دھکیل دیا ہو۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ انسان دوسروں کی دیکھا دیکھی تعلیمی قابلیت میں دوسرے جیسا بن جاۓ یا عزت سے پیسے کما کر بڑا رئیس بن جائے۔ لیکن اگر یہ چاہے کہ کوئی دوسرا کیوں تعلیم اور رتبے میں ایسا بڑا ہے، فلاں کے پاس اتنی دولت کیوں ہے، یہ بات حرص، لالچ اور طمع سے بڑھ کر حسد میں آجاتی ہے۔ اقبال نے صحیح کہا ہے ۔۔۔ ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے انسان کو۔ اللہ ہمیں حسد اور ہوس کی آگ سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ آپ اچھے عمل کے رئیس ہون۔ آپ کا عمل دوسروں کے ساتھ قابل فخر ہو۔ آپ کا ملاپ اخلاق اور ہمدردی سے مالا مال ہو، آپ کا ہر عمل اللہ کے احکامات کے مطابق اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت کی اتباع میں ہو تو انشاء اللہ نا صرف آپکی دنیا بھی پر سکون و با عزت گزرے گی بلکہ آخرت بھی سنور جائیگی۔


