تجدیدِ جمہوریت/نصیب باچا یوسفزئی

ریاستیں ہمیشہ بندوقوں سے نہیں ڈرتیں، بعض اوقات وہ سوالوں سے بھی خوف زدہ ہو جاتی ہیں۔ سوال جب کسی ایک فرد کی زبان سے نکلے تو اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، لیکن جب یہی سوال ایک نسل یا پوری قوم کی اجتماعی آواز بن جائے تو وہ محض احتجاج نہیں رہتا بلکہ سیاسی تاریخ کا رخ متعین کرنے لگتا ہے۔ جنوبی ایشیا اس وقت ایسے ہی ایک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک نئی نسل ریاست سے اقتدار چھیننے نہیں، بلکہ شفافیت، جواب دہی اور جوابدہ حکمرانی طلب کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔ میرے نزدیک یہی وہ لمحہ ہے جسے تجدیدِ جمہوریت کہا جا سکتا ہے۔

جمہوریت کو عموماً انتخابات، پارلیمان اور آئین کی موجودگی سے تعبیر کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ اس کی ظاہری علامات ہیں، اصل روح نہیں۔ جمہوریت کی حقیقی روح اس احساس میں مضمر ہے کہ اقتدار کا ہر مرکز، خواہ وہ حکومت ہو، سیاسی جماعت ہو یا کوئی ریاستی ادارہ، خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھے۔ جب یہ احساس کمزور پڑنے لگے تو جمہوریت اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے باوجود اخلاقی قوت کھونے لگتی ہے۔ اس کے برعکس جب عوام اپنے حقوق کا شعور حاصل کریں اور ریاست اپنی ذمہ داریوں کو نئے سرے سے محسوس کرے تو جمہوریت محض برقرار نہیں رہتی بلکہ اپنے اصل مفہوم کے ساتھ ازسرِنو زندہ ہونے لگتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں رونما ہونے والے سیاسی اور سماجی واقعات اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سری لنکا میں معاشی بحران کے دوران عوام نے واضح کر دیا کہ ناقص حکمرانی کی قیمت صرف شہری ادا نہیں کریں گے بلکہ حکمرانوں کو بھی سیاسی جواب دہی قبول کرنا ہوگی۔ بنگلہ دیش میں طلبہ کی تحریک نے سرکاری پالیسیوں، مساوی مواقع اور ریاستی فیصلوں پر نوجوان نسل کے حقِ سوال کو نمایاں کیا اور بالآخر ایک طویل مدتی حکومتی دور کے خاتمے کا سبب بنی۔ نیپال کی مسلسل آئینی اور سیاسی کشمکش بھی یہی بتاتی ہے کہ صرف نظام بدل دینے سے سیاسی استحکام پیدا نہیں ہوتا، جب تک ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط نہ ہو۔

ان تمام مثالوں کے درمیان بھارت کی حالیہ طلبہ تحریک غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ابتدا اگرچہ امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی مسائل سے ہوئی، لیکن جلد ہی یہ معاملہ محض ایک وزارت یا ایک فیصلے تک محدود نہ رہا بلکہ حکمرانی کے مجموعی انداز پر سوال بن کر ابھرا۔ خاص طور پر جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج، طلبہ کے ساتھ پولیس کے رویے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتِ حال نے یہ ثابت کیا کہ جب نوجوان اپنی اجتماعی قوت کا شعور حاصل کر لیں تو حکومتوں کو بھی اپنی ترجیحات اور حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا پڑتی ہے۔ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اسی دباؤ کا ایک نمایاں اظہار تھا۔ تاہم اس پوری صورتِ حال کا سب سے اہم پہلو یہ نہیں تھا کہ کون جیتا اور کون ہارا، بلکہ یہ تھا کہ اقتدار کو یہ احساس دلایا گیا کہ نئی نسل کو مسلسل نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔

اس تحریک کی اصل کامیابی کسی ایک وزیر کے استعفے یا حکومتی دباؤ میں نہیں، بلکہ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اس نے اقتدار کو یہ احساس دلایا کہ ایک باشعور نسل کو مسلسل نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ جمہوریت میں احتجاج کی سب سے بڑی کامیابی حکومت گرانا نہیں ہوتی، بلکہ حکمرانوں کو یہ باور کرانا ہوتی ہے کہ عوام اب محض ووٹر نہیں رہے بلکہ مسلسل نگرانی کرنے والے شہری بن چکے ہیں۔

اس تحریک کا ایک اور پہلو بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ برسوں میں بھارت میں مذہبی شناخت، ہندوتوا کے بیانیے اور سماجی تقسیم نے قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے، لیکن حالیہ احتجاج نے ایک مختلف منظر پیش کیا۔ مختلف مذاہب اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوان مشترکہ مطالبات کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیے۔ مسلمان رضاکار مظاہرین کے لیے کھانے اور پانی کا انتظام کرتے رہے، سکھ نوجوان عملی طور پر شریک ہوئے، جبکہ بہت سے ہندو طلبہ نے اس یکجہتی کو سراہتے ہوئے اسے قومی مفاد کی علامت قرار دیا۔ اس منظر نے کم از کم یہ ثابت کیا کہ جب مسئلہ تعلیم، مستقبل، انصاف اور شہری وقار کا ہو تو مذہبی اور سماجی تقسیم وقتی طور پر پس منظر میں جا سکتی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس سے برسوں کی خلیج ختم ہو گئی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس نے ایک ایسے سیاسی امکان کو جنم دیا جس میں مشترکہ شہری مفاد مذہبی شناختوں پر غالب آ سکتا ہے۔

یہاں اصل کردار Gen Z کا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس نے معلومات تک رسائی کو اپنی سب سے بڑی سیاسی طاقت میں بدل دیا ہے۔ اس کے لیے حکومتیں اور سیاسی جماعتیں قابلِ احترام ہو سکتی ہیں، مگر ناقابلِ سوال نہیں۔ یہ نسل نعروں سے زیادہ شواہد، شخصیات سے زیادہ کارکردگی اور اقتدار سے زیادہ جواب دہی کو اہمیت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی حالیہ تحریکوں میں نوجوان صرف شریک نہیں بلکہ سمت متعین کرنے والی قوت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کا مقصد اقتدار پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ اقتدار کو جواب دہ بنانا ہے، اور یہی خصوصیت انہیں ماضی کی بہت سی عوامی تحریکوں سے ممتاز کرتی ہے۔

جنوبی ایشیا کے ان تجربات کے تناظر میں اگر پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو تصویر نسبتاً زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ صرف سیاسی عدم استحکام نہیں بلکہ وہ تاریخی اور ادارہ جاتی ارتقا ہے جس نے یہاں اقتدار کو مختلف مراکز میں تقسیم کر دیا۔ اسی لیے پاکستان میں جمہوریت پر بحث صرف سول یا فوجی حکومتوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس میں ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں، آئینی حدود اور عوام کے باہمی تعلقات بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جمہوریت کی کامیابی یا ناکامی کو محض انتخابات کے نتائج سے نہیں جانچا جا سکتا بلکہ اس امر سے بھی کہ ریاست کے مختلف ستون اپنی آئینی ذمہ داریاں کس حد تک ادا کر رہے ہیں۔

بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتیں بھی اس پیچیدہ سیاسی حقیقت سے خود کو مکمل طور پر آزاد نہیں کر سکیں۔ اقتدار سے باہر ہوں تو عوامی حاکمیت، آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار کی علمبردار بن جاتی ہیں، لیکن اقتدار میں آتے ہی اکثر وہی جماعتیں تنقید کو سیاسی مخالفت، احتساب کو انتقامی کارروائی اور احتجاج کو کسی سازش یا بیرونی ایجنڈے سے جوڑنے لگتی ہیں۔ اس طرزِ سیاست نے عوام میں یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح جمہوری اداروں کا استحکام نہیں بلکہ اقتدار کا حصول اور اس کا تحفظ ہے۔ جب سیاست اصولوں کے بجائے مفادات کے گرد گھومنے لگے تو عوام کا اعتماد بھی بتدریج کمزور ہونے لگتا ہے، اور اعتماد کا یہی بحران جمہوری نظام کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور تلخ حقیقت بھی موجود ہے۔ پاکستان میں انتخابی سیاست کو اکثر عوامی اعتماد سے زیادہ طاقت کے دیگر مراکز کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ اس تاثر نے جمہوریت کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کیا، کیونکہ جہاں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اقتدار تک رسائی صرف عوامی رائے سے مشروط نہیں، وہاں سیاسی جماعتوں کی توجہ بھی عوامی خدمت سے زیادہ طاقت کے دیگر مراکز کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس تجزیے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر اس تاثر کے وجود سے انکار ممکن نہیں۔ جب تک سیاست کا مرکز عوام کی رائے نہیں بنتا، جمہوریت بھی اپنی حقیقی معنویت حاصل نہیں کر سکتی۔

تاہم اس تمام صورتِ حال کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جمہوریت کی مضبوطی کسی ایک ادارے، ایک جماعت یا ایک حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ اگر سیاسی جماعتیں داخلی جمہوریت سے محروم ہوں، اگر پارلیمان قومی پالیسی سازی کا حقیقی مرکز نہ بن سکے، اگر ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود سے متعلق مسلسل کشمکش کا شکار رہیں، اور اگر شہری انتخابات کے بعد اپنی جمہوری ذمہ داریوں سے لاتعلق ہو جائیں، تو پھر جمہوریت کا بحران کسی ایک فریق کی ناکامی نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کی کمزوری بن جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جنوبی ایشیا کے حالیہ تجربات پاکستان کے لیے ایک اہم سبق بن کر سامنے آتے ہیں۔ سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور بھارت کے سیاسی حالات یقیناً ایک دوسرے سے مختلف ہیں، مگر ان سب میں ایک قدرِ مشترک نمایاں ہے۔ جب نوجوان نسل نے اجتماعی طور پر یہ باور کرا دیا کہ وہ خاموش تماشائی نہیں رہے گی تو اقتدار کے ایوانوں کو اپنے فیصلوں، اپنی ترجیحات اور اپنے طرزِ حکمرانی پر نظرثانی کرنا پڑی۔ اس سے بھی اہم حقیقت یہ ہے کہ ان تحریکوں کی اصل قوت کسی ایک شخصیت یا جماعت کی حمایت میں نہیں بلکہ ایک واضح، مشترکہ اور جائز عوامی مسئلے پر قومی یکجہتی میں پوشیدہ تھی۔ یہی وہ فرق ہے جو کسی احتجاج کو وقتی سیاسی سرگرمی کے بجائے ایک مؤثر عوامی تحریک میں تبدیل کرتا ہے۔

یہ تجربات ایک اور حقیقت بھی واضح کرتے ہیں۔ عوامی تحریکیں اس وقت دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں جب ان کی بنیاد کسی شخصیت، جماعت یا اقتدار کی کشمکش پر نہیں بلکہ اصولوں، آئینی حقوق اور عوامی مفاد پر ہو۔ شخصیات کے گرد جمع ہونے والے ہجوم وقتی سیاسی شور تو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن اصولوں کے گرد متحد ہونے والے شہری تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی کامیاب تحریکوں نے کسی ایک رہنما کو نہیں بلکہ جواب دہی، شفافیت، انصاف، تعلیم، معاشی تحفظ اور شہری وقار جیسے مشترکہ مطالبات کو اپنی شناخت بنایا۔ درحقیقت یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے تجدیدِ جمہوریت کا عملی سفر شروع ہوتا ہے۔

اس لیے تجدیدِ جمہوریت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر مسئلے کا حل سڑک پر تلاش کیا جائے یا احتجاج کو حکمرانی کا مستقل متبادل سمجھ لیا جائے۔ احتجاج کسی جمہوری معاشرے کا مقصد نہیں بلکہ ایک آئینی اور اخلاقی ذریعہ ہے، جس کے ذریعے شہری ریاست کو اس کی آئینی اور عوامی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ جب احتجاج جواب دہی، شفافیت، آئین کی بالادستی اور عوامی شرکت کے مطالبے کی صورت اختیار کرے تو وہ جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے، لیکن جب وہ محض اقتدار کی کشمکش، جماعتی مفادات یا شخصی وفاداریوں میں تبدیل ہو جائے تو رفتہ رفتہ اپنا اخلاقی جواز بھی کھونے لگتا ہے۔

اکیسویں صدی کا جنوبی ایشیا شاید اسی نئے سیاسی شعور کے دور سے گزر رہا ہے۔ اب حکومتیں صرف انتخابات جیت کر مطمئن نہیں رہ سکتیں، سیاسی جماعتیں صرف ماضی کی قربانیوں کے سہارے عوامی اعتماد برقرار نہیں رکھ سکتیں، اور ریاستی ادارے بھی محض قانونی اختیارات کی بنیاد پر دیرپا سماجی قبولیت حاصل نہیں کر سکتے۔ Gen Z نے اس پورے خطے کو یہ احساس دلایا ہے کہ جدید ریاست میں طاقت سے زیادہ اہم اعتماد ہے، اور اعتماد صرف اسی کو ملتا ہے جو خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھے۔

جنوبی ایشیا کے حالیہ واقعات کو اگر مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ عوام اب صرف حکومتوں کے انتخاب تک محدود کردار ادا کرنے پر آمادہ نہیں۔ وہ حکمرانی کے پورے عمل پر نظر رکھتے ہیں، سوال کرتے ہیں، وضاحت چاہتے ہیں اور اپنے بنیادی حقوق سے متعلق ریاست کو مسلسل جواب دہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہی تبدیلی اس خطے کی نئی سیاسی حقیقت ہے۔ شاید اسی لیے حالیہ تحریکوں کی سب سے بڑی کامیابی حکومتوں کی تبدیلی نہیں بلکہ حکمران طبقات کے طرزِ فکر میں پیدا ہونے والا وہ احساس ہے کہ عوام کو مسلسل نظر انداز کرنا اب پہلے کی طرح آسان نہیں رہا۔

یہی دراصل تجدیدِ جمہوریت کی روح ہے۔ جمہوریت کی تجدید ہر پانچ سال بعد اقتدار کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ اقتدار کے ہر مرکز میں جواب دہی کے احساس کی واپسی کا نام ہے۔ جب حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے یہ تسلیم کر لیں کہ عوام صرف ووٹ ڈالنے والے نہیں بلکہ شعور رکھنے والے شہری ہیں، تو جمہوریت محض ایک آئینی بندوبست نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ سماجی معاہدہ بن جاتی ہے۔

شاید اسی لیے تجدیدِ جمہوریت کا آغاز بیلٹ بکس سے نہیں بلکہ اس لمحے سے ہوتا ہے جب اقتدار یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ عوام صرف حکومتیں بنانے کی طاقت نہیں رکھتے بلکہ حکمرانی کا معیار متعین کرنے اور اقتدار کے ہر مرکز کو مسلسل جواب دہ رکھنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ طاقت اقتدار کو قائم رکھ سکتی ہے، مگر جواب دہی ہی اسے اخلاقی جواز عطا کرتی ہے، اور شاید اسی احساس کی واپسی کا نام تجدیدِ جمہوریت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں