میری پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل سے پہلی ملاقات کوئی ایک سال قبل ہوئی تھی ۔ جب میں آرتھوپیڈک سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کرنے سر گنگارام ہسپتال لاہور آیا ۔ یہ ہسپتال فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک ہے اور آپ اس کے وائس چانسلر ہیں ۔ جب میں فیصل آباد میں ہاؤس آفیسر تھا تو میں نے ان کے متعلق کافی سن رکھا تھا کہ یہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے اعلی عہدیدار بھی ہیں ۔
میری سر سے ملاقات اچانک ہوئی، وہ ملاقات کیسے ہوئی ، وہ ایک الگ داستان ہے۔ لیکن وہ ملاقات پھر ایک استاد شاگرد کے پاکیزہ رشتہ میں بندھ گئی ۔ انہوں نے میری فیسبوک پر ایک تحریر پڑھی تھی،جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو بولے کہ شافع تم تو بہت اچھا لکھتے بھی ہو، میں نے جواب دیا کہ بس کوشش کرتا ہوں،بولے مسلسل کوشش سے تحریر میں پختگی آئے گی۔
میں سر کے پاس جب بھی یونیورسٹی کے ایم ایس/ڈی کے پی جی آرز کا کوئی بھی مسئلہ بطور نمائندہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن لیکر گیا، انہوں نے ہمارے تمام جائز مطالبات تسلیم کیے ۔ یونیورسٹی میں پی جی آرز کے synopsis کے بہت زیادہ ایشوز تھے، آپ نے وہ سارے مسائل حل کروائے۔ آج ایف جے ایم یو کا ایم ایس / ایم ڈی پروگرام پنجاب بھر میں سب سے زیادہ منظم ہے تو وہ آپکی مرہون منت ہے۔
ان کی زیر صدارت فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی نے خوب ترقی کی۔ یونیورسٹی کا سب سے اہم ترین مسئلہ اس کے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز ایم ایس/ڈی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے منظور شدہ نہیں تھے۔ آپ نے زاتی دلچسپی لیکر یہ دونوں مسئلے حل کروائے، اور یوں فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پنجاب کی پہلی پبلک میڈیکل یونیورسٹی بن گئی جس کے سارے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز پی ایم ڈی سی اور ایچ ای سے منظور شدہ ہیں ۔
آپ ہی کی زیر صدارت ایف جے ایم یو نے ایم فل پروگرام شروع کیا۔ یونیورسٹی نے سرٹیفکیٹ ان ہیلتھ پروفیشنل ایجوکیشن ( CHPE) شروع کیا، جب یہ پروگرام شروع ہوا تو یہ واحد پروگرام تھا جو کہ پی ایم ڈی سے منظور شدہ تھا۔ ایف جے ایم یو نے ریسرچ میں بے مثال کام کیا۔
یونیورسٹی کو TALLOIRES نیٹ ورک کی ممبر شپ ملی۔ یونیورسٹی نے گائنی اور آبز میں چار فیلو شپ شروع کی، جو کہ سی پی ایس پی سے منظور شدہ ہیں۔ سپائن سرجری میں بھی فیلو شپ شروع ہوئی ،انہی فیلوشپ میں ایم ایس پروگرام بھی جاری ہیں۔ان کی ہی زیر صدارت یونیورسٹی کی نیشنل اور انٹرنیشنل رینکنگ میں بہتری آئی۔
پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے بطور سرجن ڈاکٹر ، بطور وائس چانسلر ایف جے ایم یو و کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور بطور صدر سی پی ایس پی اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ آپ کو طب کے شعبے میں اعلی کارکردگی دکھانے پر حکومت پاکستان نے ” تمغہ امتیاز ” اور پھر ” صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ” سے نوازا۔
پاکستان میں میڈیکل ایجوکیشن کی ترویج اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینگ نظام کی تعمیر و ترقی آپ کے بنا ادھوری ہے۔ ان دونوں ڈسپلنز میں جتنا کام پاکستان میں آپ نے کیا اسکی مثال نہیں ملتی۔ انہیں خدمات کے صلے میں رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز ایڈنبرا نے پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کو اپنی اعزازی فیلو شپ اور صدارتی تمغے سے نوازا ہے۔ وہ پہلے پاکستانی ڈاکٹر ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ وہ مختلف ممالک کے کالجز آف سرجنز کے ممبر اور فیلو بھی ہیں ۔ وہ انٹرنیشنل فورمز پر پاکستان کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں ۔وہ پاکستان کی مختلف سرکاری و نجی یونیورسٹیز کے سنڈیکیٹ کے ممبر بھی ہیں۔ کرونا وبا کے دنوں میں انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی / میو ہسپتال لاہور میں ٹیلی میڈیسن کا شعبہ قائم کیا۔
یہ قانون فطرت ہے کہ جب آپ اعلی عہدے پر فائز ہوتے ہیں،تو آپ کے حاسدین کی تعداد بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ کچھ لوگ تو آپ سے فائدے حاصل کرنے کے لئے آپ کے قریب آتے ہیں ۔ میں نے ایسی کئی حضرات کو دیکھا ہے جو سر کے منہ پر کچھ اور پیچھے کچھ اور، انکا انہیں علم بھی ہوتا ہے لیکن وہ پھر بھی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں، انکی یہی خوبی انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ میں نے انکے مخالفین کو بھی انکی اس خوبی کا اعتراف کرتے دیکھا ہے۔
ڈاکٹرز کی سیاست عام سیاست سے الگ ہے۔ کیونکہ اس میں آپس کے مخالفین کسی نا کسی طریقے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ یہاں مخالفت بھی بڑی ناپ تول کر کی جاتی ہے۔ ڈاکٹرز کی سیاست کا محصور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز ہے۔ جسکے الیکشن ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں ۔ ہماری میڈیکل فیلڈ میں لوگ سر کو سیاست کا بے تاج بادشاہ سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ انکا زاتی ووٹ بینک باقی سبھی ڈاکٹرز کی بانست سب سے زیادہ ہے۔
سی پی ایس پی کی سیاست کی وجہ سے اگر آپ کے حامی کی تعداد کافی ہے تو مخالفین بھی موجود ہیں۔ لیکن مخالفین کیساتھ بھی انکا رویہ قابل دید ہے، ان کی انہی خوبیوں اور کردار کی پختگی کی وجہ سے لوگ انہیں ہمیشہ ووٹ دیکر کامیاب کرواتے ہیں ۔
انکے سیاسی مخالفین نے انکی کردار کشی کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات ہمیشہ جاری و ساری رہتے ہے۔ لیکن وہ ان الزامات کا جواب نہایت خوش دلی سے دیتے ہیں ۔ جب تک انکی زات پر حملہ نا ہو،یہ جواب تک نہیں دیتے ۔ میرے استفسار پر بولے،انکا کام ہے جھوٹے الزامات لگانا،میں اپنی مصروفیات میں اتنا مصروف ہوتا ہوں کہ ان الزامات کا جواب دینے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔
ان کے مخالفین جو مرضی کہیں،لیکن بطور وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی انکا دور مثالی رہا۔ ان کے دور میں یونیورسٹی نے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنائی، پی جی آرز کے ایشوز مستقل حل کر دیئے گئے ۔لوگ جو مرضی کہیں،یہی حقیقت اور سچائی ہے۔ جھوٹ جتنا مرضی زیادہ ہو،وہ سچائی کا سامنا نہیں کر سکتا۔
بطور صدر کاج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان انہوں نے کالج میں اصلاحات کی ۔ جس میں ای لاگ سسٹم بھی فنکشنل انکی زیر صدارت ہوا۔ کالج میں بھی ریسرچ سسٹم کو بھی مزید بہتر کیا جارہا ہے۔
وہ بطور وائس چانسلر ایف جے ایم یو پندرہ جولائی کو ریٹائر ہوں گے۔ کیا وہ دوبارہ وائس چانسلر شپ کے لئے اپلائی کریں گے( وہ پہلے والے قانون کے تحت بھی اپلار کر سکتے تھے اور اب نئے آرڈیننس کے بعد بھی ) یا نہیں؟؟ اس کے متعلق قیاس آرائیاں سوشل میڈیا پر شروع ہو چکی ہیں، کوئی کہہ رہا ہے وہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وی سی بنیں گے تو کوئی انہیں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا وی سی بنتا دیکھ رہا ہے۔ سب کی اپنی اپنی تھیوریاں اور نظریات ہیں، اس پر میں کچھ کہہ نہیں سکتا ۔ البتہ میں یہ بات پورے یقین اور اعتماد کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ جس بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنیں گے،وہ یونیورسٹی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے گی اور یہ اٹل حقیقت ہے۔ ایک دن انہوں نے مجھے ایک نصحیت کی کہ مسلسل محنت، انسانیت کی بے لوث خدمت، اپنے مزہب اور وطن سے محبت سے ہی کامیابی ممکن ہے۔
میں ان کی لمبی زندگی اور اچھی صحت کے لئے دعا گو ہوں۔


