آرزو، مرگِ آرزو، یوٹوپیا، ڈسٹوپیا/ناصر عباس نیّر

ادب تناقضات کو پیش کرتا ہے۔ زندگی کے واقعی تناقضات کو، جنھیں روزمرہ معمولات میں نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔

جارج برناڈ شا جب کہتے ہیں کہ زندگی کے دوالمیے ہیں۔پہلا یہ کہ اپنی دلی آرزو کو ہاردینا؛ دوسرا یہ کہ اس آرزو کو پالینا،تو زندگی کے تناقض ہی کو پیش کرتے ہیں۔

نیز یہ کہتے ہیں کہ آرزو کے اندر، آرزو ہی کا ایک جہان موجود ہے۔ آرزو، کے تاریک وروشن رخ ہی نہیں، ان سے ماورا بھی بہت کچھ موجود ہوا کرتا ہے۔

آدمی کی دنیا کی کوئی چیز، سادہ ہے نہ اکہری۔اس سچائی سے ،ادب ہی آدمی کو آگاہ کرتا ہے۔

کیا یہ معمولی تناقض ہے کہ آرزو ہی میں، آرزو کی شکست موجود ہے؟ آرزو میں خود شکنی کا یہ سامان ، ہستی کے عظیم تماشے ہی کا ایک جز ہے۔

شخصی آرزو کی ساری گرمی وگہماگہمی، اس وقت تک ہے، جب تک وہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچتی۔ اپنے محبوب کو پانے کے بعدکا اگلا سفر ،اسے کھونے کا ہے۔

علامہ اقبال نے وصل کو مرگ ِ آرزو کہا تھا:
عالم سوزوسازمیں وصل سے بڑھ کر ہے فراق
وصل میں مرگِ آرزو، ہجر میں لذت طلب

،لیکن ہجریعنی آرزو کی شدت میں مبتلا رہنا، اس تناقض کا حل نہیں ہے جو ہستی میں موجود ہے اور جس کا سایہ مسلسل عام انسانی آرزوؤں پر پڑتا رہتا ہے۔

آرزو اگر وصل کی جانب سفر نہ کرے ،یا یہ سفر لامتناہی ہوجائے تو تب بھی آرزو کو اپنی مرگ کا سامنا کرنے پڑے گا۔ آرزو کی آگ اگر وصل سے نہ بجھ سکے تو یہ آرزو ہی کو خاکستر کر دیا کرتی ہے۔

ایک اور صورت بھی ہوا کرتی ہے۔ آرزو کی آگ خود ہی بجھ جایا کرتی ہے ،اور آرزو کی دنیا میں ویرانی کے بھوت نوحے پڑھا کرتے ہیں۔ آرزو میں آخر کتنی آگ ہوسکتی ہے؟ یا آدمی میں کسی بھی شے کے لیے کتنی تاب وتواں ہوسکتی ہے؟ جون ایلیا کا شعر ہے:
ہے مرے شوق وصل کو یہ گلہ
اس کا پہلو سرائے فانی ہے
بشیر بدر کا شعر بھی یاد آتا ہے:
شام آنکھوں میں ، آنکھ پانی میں
اور پانی سرائے فانی میں

شخصی آرزو کا یہی تناقض ،سیاسی یوٹوپیا میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی یوٹوپیا،اجتماعی سماجی آرزو کا دوسرا نام ہے۔

جس طرح شخصی آرزو پر خوداس کی دنیا رفتہ رفتہ کھلتی ہے، یعنی آرز وجب اپنے ہدف کی جانب یا اپنے خاتمے کی طرف سفر کرتی ہے تو اس کے سب بھید خود اسی پر کھلنے لگتے ہیں، اسی طرح سیاسی یوٹوپیا بھی ابتد امیں آگ ہی کی مانند ہوتا ہے، اپنے ہدف کے حصول کے لیے غیر معمولی طور پر سرگرم ، ہر طرح کے ایثار وقربانی اور تمام کشتیاں جلانے پر آمادہ ہوا کرتا ہے، اور اس سے غافل ہوا کرتا ہے کہ خود اس عظیم آرزو ہی میں خود شکنی کا سامان موجود ہے۔یعنی یوٹوپیا ہی میں ڈسٹوپیا موجود ہے۔

ڈسٹوپیا کیا ہے؟ سادہ لفظوں میں، یہ ایک نئی دنیا کے پرشکوہ خواب میں مضمر ، اسے خواب کو مسمار کرنے والا بھوت ہے۔

خود ہی خواب جس قدر پرشکوہ ہے، اس کا بھوت بھی اتنا ہی پر جلال ہے۔ اہرمن، یزداں کی ٹکر کا ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ یہ بھوت ، اس خواب میں کہیں باہر سے نہیں آتا؛ اس خواب میں کوئی ایسا خفیہ دروازہ موجود نہیں کہ کوئی اس میں داخل ہوسکے، یہ خود اسی تخیل سے جنم لیتا ہے، جو عظیم خواب کا منبع بھی ہے۔

ایک نئی دنیا کی تعمیر کا خواب جیسے ہی عمل میں آتا ہے، یہ بھوت بھی رفتہ رفتہ ظاہر ہونے لگتا ہے۔ تعمیر ہی میں مضمر ایک صورت خرابی کی منکشف ہونے لگتی ہے۔

عالمی ادب کی جدید تاریخ میں روسی مصنف زمیاتن (Yevgeny Zamyatin) پہلا شخص ہے ،جس نے ڈسٹوپیا لکھا۔سوویت ، انقلاب، ایک عظیم خواب،ایک یوٹوپیا کی تکمیل تھا۔

امریکی صحافی جان ریڈ(John Reed) ، اس انقلاب کا چشم دید گواہ تھا۔ اس نے اپنی کتاب، ’’وہ دس دن جنھوں نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا‘‘(Ten Days That Shook the World) میں لکھا کہ’’ میں نے دفعتاً محسوس کیا کہ خدا پرست روسی عوام کو اب ایسے پادریوں کی ضرورت نہیں رہی جو انھیں جنت میں جانے کے لیے دعائیں دیں۔

وہ زمین پر ایک ایسی سلطنت تعمیر کررہے تھے،جو کسی بھی جنت سے زیادہ روشن تھی،اور جس کے لیے مرنا بھی باعث فخر تھا۔

چناں چہ توپ خانے کی گرج کے ساتھ،اندھیرے میں ،نفرت، خوف، لاپروا جرأت کے ماحول میں ،ایک نئے روس نے جنم لیا‘‘۔ یہ وہی سرشاری ہے جو آرزو کی وصل یاب ہونے کے لمحوں میں ہوا کرتی ہے۔

اس انقلاب کے بس دو تین سال بعد زمیاتن نے (۱۹۲۱ء اور ۱۹۲۲ء) میں ناول ’’ہم ‘‘ (We) لکھا۔ ناول کے عنوان ہی سے ظاہر ہے کہ یہ انقلاب، ہم کا تھا، میں کا نہیں، اجتماعی سیاسی تھا، انفرادی نفسیاتی نہیں۔

روس نےا س انقلاب کی مدد سے جس جنت کی تعمیر کی تھی ، اس میں شخص ، شخصی شناخت، شخصی ملکیت، شخصی آرزو ، شخصی نفسیاتی وروحانی سفر یکسر غیر اہم ہوکر رہ گئے تھے؛ یہ ایک بالکل نئی دنیا تھا، ایک واقعی انقلاب تھا۔ پرانی دنیا کو راکھ کردیا گیا تھا۔

پرانے سیاسی ومعاشی نظام ہی کو نہیں ، تمام پرانے تصورات کو بھی۔ پوری دنیا کی آنکھیں واقعی چندھیا گئی تھیں، مگر زمیاتن (۱۸۸۴ء…۱۹۳۷ء) نے ،جو نیوی انجینئر تھا، اس نے یوٹوپیا میں اس بھوت کو دیکھ لیا تھا، جو اسے ڈسٹوپیا بنانے کے لیے آغازہی سے سرگرم ہوگیا تھا۔ وہ اس بات سے بھی واقف تھا کہ یہ بھوت رفتہ رفتہ ہی ظاہر ہوگا۔ اسی لیے وہ ناول کی کہانی کو مستقبل بعید میں لے جاتا ہے۔

ناول کی کہانی ، ایک چیف انجینئر(ممکنہ طور پر خود مصنف ) کی زبانی پیش کی گئی ہے۔ اسے ایک خلائی جہاز(Integral) بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔وہ خلائی جہاز بنانے کا ریکارڈ مرتب کررہا ہے۔

اس طور یہ ناول ، روسی فکشن کو بھی ایک نئی صورت دے رہا ہے۔ اس جنت ِ ارضی میں ، پرانی طرز کا فکشن نہیں لکھا جاسکتا؛ واقعات کی حقیقی ، سائنسی تصویر پیش کرنے والا فکشن لکھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے جرنل لکھنے کی تکنیک ہی کی اجازت ہے۔ یعنی جنت سے باہر ،کسی بعید ماضی یا جنت کے برعکس کی دنیا کی کہانی نہیں لکھی جاسکتی ۔

یہی وجہ ہے کہ ناول میں ریاضیاتی صحت کے ساتھ واقعات پیش کیے گئے ہیں۔ یہ سب واقعات متحد ریاست (One State) میں پیش آتے ہیں۔لوگوں کے نام، پرانی ریاستوں میں ہوا کرتے تھے۔ یہاں ہر ایک کو مخصوص عدد عطاکیا گیا ہے۔ناول کا راوی ، چیف انجینئرڈی…۵۰۳ ہے۔ خاتون کا عدد آئی…۳۳۰ ہے۔ان سب کا لباس ، ایک جیسا ہے۔ وہ سب شفاف شیشے کی بنی عمارتوں میں رہتے ہیں۔

ہر کام مقررہ وقت پر کیا جاتا ہے۔ نظام الاوقات (Table of Hours) کی مکمل پابندی کی جاتی ہے۔ یہ دنیا ، سبز دیوار کی مدد سے پرانی دنیا سے جدا کی گئی ہے۔ یہ مکمل طور پر ’جدید‘ یعنی تصور کیے گئے یوٹوپیا کے عین مطابق ہے۔ ایک ریاست کا مہربان آقا(Benefactor) ، شیشے کے گھروں کی مدد سے ، ہرایک کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ڈی…۵۰۳ ،پہلے اس کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، وہ خالص عقلی ،ریاضیاتی زندگی بسرکرنے کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے، آئی …۳۳۰ سے محبت کرنے لگتا ہے جو یکسر غیر عقلی اور قدیمی عمل ہے، مگر ایک ریاست ایک بڑے اقدام کے نتیجے میں ، اس کی مزاحمت ختم کردیتی ہے۔

سوویت انقلاب اس مثالی تصور کا حامل تھا کہ انسانی سماج میں مکمل مساوات ممکن ہے۔ ہر قسم کی تفریق ، درجہ بندی ، افضل و اسفل کی تقسیم کا خاتمہ ممکن ہے،یعنی ایک واقعی جنت ِ ارضی کا قیام کیا جاسکتا ہے۔

یہ ایک عظیم آرزو اور ایک پرشکوہ یوٹوپیا تھا، مگر زمیاتن دکھاتا ہے کہ مکمل مساوات ہی کی آرزو نے ، مکمل نگرانی کے نظام کو جنم دیا۔ ہر طرح کی تفریق اور درجہ بندی کے خاتمے کی آرزو کی تکمیل ، مکمل ومطلق اختیار (اقلیتی گروہی آمریت ) پر منتج ہوئی۔ یعنی جنت ِ ارضی کے پہلو سے ،رفتہ رفتہ ایک جہنم نمودار ہوا۔ یوٹوپیا، ڈسٹوپیا میں بد ل گیا۔

یہ ناول اگرچہ سائنسی فنتاسی پر مبنی تھا ،مگر پیش گوئی کی صلاحیت کا حامل تھا۔ سٹالن کا عہد، جب گلاگ یعنی جبریہ مزدوری کا نظام شروع ہوا۔الیگذنڈر سولزے نٹسن نے اپنے ناول ’’پہلا دائرہ ‘‘(The First Circle ) میں سٹالن ہی کے عہد کو موضوع بناتے ہوئے سوال کیا کہ اگر آپ مستقل خوف میں جیتے ہیں تو کیا آپ اپنی انسانی حیثیت برقرار رکھ سکتے ہیں؟

کیسا انوکھا اتفاق ہے کہ جان ریڈ نے کہا کہ وہ جنت سے زیادہ روشن ، سلطنت تعمیر ہوتا دیکھ رہا ہے، جب کہ ۱۹۶۸ء میں، الیگزنڈر سولزے نٹسن نے ، ۱۹۴۹ء کے زمانے کی کہانی لکھتے ہوئے،اس کا عنوان ، دانتے کی طربیہ خداوندی سے لیا۔ دانتے نے جہنم کے نو دائرے بتائے ہیں۔

سولزے نٹسن پہلے دائرے کی کہانی لکھتا ہے۔ گویا ، وہ سوویت جنت ارضی میں ، واقعی جہنم کودیکھتاہے۔ سولزے نٹسن سے پہلے ، آلڈس ہکسلے (The Brave New World) اور جارج آرویل اپنے ناول ۱۹۸۴ء میں، زمیاتن ہی کے تھیم کو آگے بڑھا چکے تھے۔

جارج آرویل تو زمیاتن کا سب سے زیادہ مقروض ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں