قاسم یعقوب کے ناول خلط ملط کے کرداروں میں ایک نامعلوم سا ادھورا پن ہے ۔وہ کسی خواہش کی خلش میں مضطرب نہیں ہیں اور نہ ہی وہ معاشرے کے باغی ہیں اور نہ کسی فلسفے کے پر چارک ۔ان کرداروں کا آپس میں تعلق ریاضی کے tangent کی طرح کا ہے ۔Tangent ایک ایسی سیدھی لکیر ہے جو کسی دائرے کو صرف ایک نقطے پر چھو کر گزرتی ہے ۔بالکل اسی طرح خلط ملط کے کردار ایک دوسرے کے وجودی دائرے کو چھو کر گزرتے تو ہیں لیکن اس دائرے میں کبھی داخل نہیں ہو پاتے ۔یہ tangential تعلق ہی ان کے ادھورے پن کی وجہ ہے ۔
کیا انسان ہمیشہ دوسروں کے وجودی دائرے کا tangent ہی رہتا ہے ؟
کیا ہم واقعی کسی اور کے وجودی دائرے میں داخل ہو سکتے ہیں ؟ وہ کون سے عوامل ہیں جو ہمیں ایسا کرنے سے روکتے ہیں ؟ ناول پڑھتے ہوئے ایسے سوال بار بار ذہن میں سر اٹھاتے ہیں ۔
باوجود کوشش کے نورین اپنے خاوند کے وجودی دائرے سے باہر ہی رہتی ہے اور راجہ کے واقعے کے بعد وہ اپنے وجود سے بھی انجان ہو جاتی ہے ۔نورین اور وقاص کارشتہ ازلی فطری تقاضوں پر استوار ہوا تھا ۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے ۔ایک دوسرے کے وجودی دائرے میں داخل ہونے میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں تھی ۔لیکن شادی کے کچھ عرصے کے بعد نورین کا مسلک آڑے آنا شروع ہو گیا ۔حالانکہ نورین اپنی ذات کی تعریف اپنے عقیدے کے ذریعے نہیں کرتی اور نہ کرنا چاہتی ہے ۔ لیکن وقاص کے مفتی عنایت اللہ کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے عقیدہ ان کے درمیان ایک دیوار کی طرح کھڑا ہو جاتا ہے ۔ نورین جب مایوس ہو کر اس تعلق کو ختم کرنے کا سوچتی ہے تو پہلے تو معاشرہ اور معاشیات کا سوچ کر اس کا ارادہ متزلزل ہو جاتا ہے اور پھر خالدہ کے کلینک میں راجہ والا واقعہ اس کی شخصیت کو توڑ پھوڑ دیتا ہے ۔
حاملہ ہونے کے بعد وہ اپنے ہونے والے بچے کو ساتھ بھی کسی قسم کی کوئی اپنائیت محسوس نہیں کرتی کیوں کہ اس کی پیدائش فطری تو ہے لیکن معاشرتی حدود و قیود سے باہر ہے ۔
ناول کے آخر میں نورین اپنے خاوند سے ، اپنی ممتا سے ، حتی کہ اپنے آپ سے بھی بہت دور جا چکی ہے ۔اس کی زندگی میں آنے والا دوسرا مرد راجہ بھی اسے ایک tangent کی طرح چھوتا ہے لیکن یہ ایک نقطے کا مختصر لمس نورین کے وجودی دائرے کو تہس نہس کر دیتا ہے ۔
دوسری طرف ایشال کے وجودی دائرے کو بھی راجہ ایک tangent کی طرح ہی چھوتا ہے لیکن وہاں اس کا اثر بالکل الٹ ہے ۔اس کا لمس ایشال کے تباہ حال وجود کو از سر نو تعمیر کر دیتا ہے ۔
وہ ایشال کے وجودی دائرے میں داخل تو نہیں ہوتا، نہ ہی اس کی خواہش کرتا ہے لیکن اس کی وجہ سے ایشال اپنے خاوند سے طلاق لیتی ہے اور نئے سرے سے زندگی شروع کرتی ہے ۔راجہ کی اپنی زندگی میں خالدہ کا کردار بھی ایک tangent کی طرح کا ہی ہے جو اس کے وجودی دائرے میں داخل ہوئے بغیر اس کی ذات کے بہت سے پہلوؤں کو تبدیل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
رئيس اپنے ماحول اور معاشرے سے خود کو کٹا ہوا محسوس کرتا ہے ۔وہ بہت حد تک اپنے پیشے کو اس کا سبب سمجھتا ہے ۔اس کے ذہن میں بھی حرام حلال کی تقسیم کی کشمکش چلتی رہتی ہے ۔پھر وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ بینک سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ ادارہ ہے اور عام انسان کا استحصال کرتا ہے ۔یہ احساس اس کو اپنے آپ سے بھی دور کر دیتا ہے ۔وہ اس ذہنی اذیت سے چھٹکارا پانے کے لیے فطرت میں پناہ ڈھونڈتا ہے اور ناول کے آخر میں وہ اپنی بینک کی نوکری چھوڑ کر ایک فارم بنا لیتا ہے ۔
ہم نہیں جانتے کہ فطرت کی طرف اس کی واپسی اس کی زندگی میں معنی لے کر آتی ہے یا نہیں ۔اس کی زندگی میں واحد صغری ایک ایسا فرد ہے جس کے ساتھ اس کا ذہنی ہم آہنگی کا رشتہ ہے لیکن یہ رشتہ بھی tangential ہی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے وجودی دائرے میں داخل نہیں ہو سکتے ۔ صغری ایک شادی شدہ عورت ہے جس کا معاشرتی کردار پہلے سے ہی طے شدہ ہے ۔ بینک کی نوکری سے استعفیٰ کے بعد یہ تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے ۔
انسان نے معاشرہ اور اس سے جڑے عقائد و نظریات اپنے آپ کو دریافت کرنے کے لیے تشکیل دیے لیکن اکثر یہی عقائد و نظریات اس کی اپنی فطرت کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ کا کام کرتے ہیں ۔ یہ ہمارے ماحول کے ساتھ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلق کو مربوط رشتے کی بجائے ایک tangential ربط میں بدل دیتے ہیں ۔
ناول پڑھتے ہوئے ایک اور پہلو بھی بار بار ذہن میں آتا ہے کہ زندگی میں ہم نہ جانے کتنے لوگوں کے وجودی دائرے کو ایک tangent کی طرح چھو کر گزر جاتے ہیں اور کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتے بھی نہیں کہ ہمارے اس مختصر لمس نے کسی کی زیست میں کیا بھونچال برپا کیا ہے ۔ راجہ شاید کبھی نہ جان پائے کہ اس کی چند منٹ کی ہوسنا کی نورین کی پوری زندگی کو اتھل پتھل کر گئی ۔
بہت سے لوگوں کے لیے ہم اور بہت سے لوگ ہمارے لیے tangent ہی رہتے ہیں ۔
بشکریہ قاسم یعقوب فیس بک وال


