ہاتھوں میں آسمان’ پر دستک/ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

دروازہ کھولنے کے لیے دستک ایک سنہری اُصول ہے۔حکمت و معرفت کی اعلی مثال ہے۔معاشرے کا بہترین اصول و ضوابط ہے۔ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کی پیروی کا نشان ہے۔مذکورہ تمام جملہ حقوق میں آدابِ زندگی میں اُفق کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔اس حقیقت کی کئی دلیلیں ہیں جو بڑے بڑے گناہوں اور الزامات سے بچا لیتی ہیں۔عموماً ہمارے الفاظ اس وقت تماشا بنتے ہیں جب وہ عمل سے خالی ہوتے ہیں۔ اگر انھیں دل جمی سے عملی جامہ پہنا دیا جائے تو زندگی خواب سے حقیقت بن جاتی ہے۔اس دنیا میں انسان اصولوں کا جتنا زیادہ پیروکار ہوگا۔ وہ اتنا ہی زیادہ متحرک اور زیرک نکتہ شناسی کا حامل بن جائے گا۔ وہ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی رکاوٹیں اور گراوٹیں گراتا جائے گا۔ زہر ناکیوں کو شکست دیتا جائے گا۔ یہ بات آداب کے زمرے میں معنی خیز ہے کہ اخلاقیات کا دروازہ مشرق و مغرب میں یکساں کُھلا ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ مشرق کے باسی ہیں یا مغرب کے باشندے۔بلکہ زیادہ معتبر بات یہ ہے کہ آپ کتنے سچے کھرے اور محنتی انسان ہیں۔ یقینا مہذب اور تہذیب یافتہ قوموں نے انھی خصوصیات کا ہاتھ پکڑ کر چلنے ، بھاگنے اور دوڑنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس لیے انھیں کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ وہ خوب پھلے اور پھولے ہیں۔ خوب نام کمایا اور شہرت پائی ہے۔پھر اسی ماحول اور معاشرے نے انھیں عزت کا مقام بھی دیا ہے۔جن لوگوں نے زندگی بھراخلاق کا دامن نہیں چھوڑا وہ اپنے معاشرے میں ضرور سرخرو ہوئے ہیں۔
وہ کامیابی کی زینہ پر چڑھے ہیں۔ انھوں نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا ہے۔عموما ایسے لوگ اس لیے کامیاب رہتے ہیں۔کیوں کہ وہ اپنے آپ کو معاشرے اور تہذیب کی مٹی میں گوند لیتے ہیں۔ اس رنگ، ماحول اور تہذیب میں رنگے جاتے ہیں۔ کتابیں تجزیے اور تبصرے پڑھنا میری عادت ہے۔میں اسی ماحول کو پسند کرتا ہوں۔ کیوں کہ میرے خون میں علم و ادب کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ سخنِ آبیاری کے لیے میرے پاس “ہاتھوں میں آسمان ” فاضل دوست سرفراز تبسم کا شعری مجموعہ جس پر لکھے گئے بے شمار مضامین اس بات کا پرتو ہیں کہ فاضل دوست نے جس بھی ادیب و شاعر کو اپنا شعری مجموعہ مطالعاتی غرض و غائیت سے پیش کیا۔انھوں نے اسی پیش رفت سے متاثر ہو کر شاعر کی محبت کا کم از کم تبصرے کی صورت میں اپنا قرض ضرور اتارا ہے۔ کتاب پر جتنے بھی مضامین لکھے گئے ہیں۔وہ ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ سب کے سب انفرادیت کے لبادے میں لپٹے ہوئے ہیں۔ ان میں اظہار کی نت نئے زاویے و دروازے ہیں۔ دنیائے ادب کی خوشبو و راحت ہے۔ فلسفہ کی اُمید ہے۔ تاریخ کا نچوڑ ہے۔ سمندر جیسا زور و شور ہے۔ موتیوں جیسی چمک دمک ہے۔ آب زر جیسے نقوش ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شاعری کی بنت جس مہارت کے ساتھ کی گئی ہے۔ اس میں تنقید کو موقع نہیں ملا۔اس متحرک اور نہ قابل فراموش فرض کے پیچھے محترم فاضل دوست سرفراز تبسم کی ریاضت کے نہ جانے کتنے عشروں کی محنت شاقہ شامل ہے۔
آج کل لوگ تاثرات یا رائے لکھنے سے گھبراتے ہیں۔لیکن کمال شرف و توجہ ہے ان دوستوں کی جنھوں نے سرفراز تبسم کے تخیلات کو آنا فاناً جذبات نگر بنا دیا۔کھل کر فکری اور فنی محاسن کو مشاہداتی آنکھ سے تعبیر و تفسیر کے میدان میں کھڑا کر دیا۔ یوں کہہ لیجئے پذیرائی کا ماحول سازگار بنا دیا۔ تحقیق و جستجو کی کئی نئی راہیں متعین کر دیں۔ مضامین میں محبت کے موتی بانٹے گئے ہیں ۔ علم و ادب کو فروغ دیا گیا ہے۔ کتاب کی افادیت ثابت کی گئی ہے۔مثبت نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ اس لیے فاضل دوست نے کتاب کی ماہیت اور روایت کا دامن وسیع کرنے کے لیے کتاب کا دوسرا کرشماتی نام “فلک کا کھلا دروازہ” رکھ دیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تاثرات اور اظہار خیال کرنے والوں نے ذرائع ابلاغ کی بھرپور حمایت کی ہے۔
کیونکہ” فلک کا دروازہ” تو سب کے لیے کھلا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کون اپنے ہاتھ اٹھا کر بلا ناغہ دعا مانگتا ہے۔ لگتا ہے فاضل شاعر نے اپنا شاعرانہ وصف حاصل کرنے کے لیے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے۔ یہ اس کی بلند نظری ہے کہ اس نے ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے اپنی آنکھیں آسمان پر بچھا دیں۔ اس لیے قدرت اس پر کثرت سے مہربان ہوگی۔اس پر رحمت کی بارش کھل کر برسی۔ وہ اپنے ایک ایک تخیل کو قدرت کی مرضی سے قلم کی سیاہی سے معمور کرتا جاتا ہے۔اس لیے رب کائنات نے اس کی منشاء کو بغیر کسی رنگ، نسل اور تفریق کے ادب کے ذروں کو سرفراز تبسم کی جھولی میں ڈال دیا۔
میں نے جب کتاب کے اوراق کھول کر پڑھے تو مجھے ادب کے زعفران جیسی خوشبو کا احساس لگا ۔ تمام مضامین اپنے اندر علم و ادب کی چاشنی اور فطری تجسس کے لمس سے بھرپور لگے۔ تحریروں میں محبت کی جمال پرستی کے عناصر بکھرے پڑے ہیں۔مضامین کا حسن و جمال ایک پھلواری کی طرح سجا ہے۔جو بھی اس پھلواری میں داخل ہوگا وہ لطافت کی برتاؤ کے ذائقہ سے ضرور لطف اندوز ہوگا۔ جن لوگوں نے “ہاتھوں میں آسمان ” پر دستک دی ہے۔ وہ ایک طاقت ور ادب قبیلہ ہے جس نے قانون فطرت کی پیروی کرتے ہوئے حفاظتی باڑ لگا کر تنقید کے موسموں کی شدت کم کر دی ہے.الفاظ کا تانہ بانہ اور حسن و ادا دل کش ماحول اور منظرکشی کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔لہذاً شخص سے شخصیت بن جانا گوناں گوں خوبیوں کا ارتعاشی عمل ہے۔ فاضل دوست نے اپنے اثرو رسوخ اور تعلقات و روابط کے بل بوتے علمی و ادبی حلقوں میں دامن گیر ہونے کا پورا پورا حق ادا کر دیا۔اس سلسلے میں ایک خوب صورت سنگم کرشماتی و معجزاتی ہے جو ادب پرور اور ادب شناسوں کے درمیان فروغ پایا ہے۔وہ ادبی محبت و خوشی ہے، جسے اس وقت تک زوال نہیں جب تک صفحہ مذکورہ تحریر کو ضائع نہیں کرتا۔ میں فاضل شاعر کی ہمت بڑھاتے ہوئے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جنھوں نے اپنے تمام تر لکھے ہوئے مضامین کی ناقابل فراموش لڑی بنا دی جو دیر تک لوگوں کے اذہان و قلوب کو اپنی چمک کا احساس دے گی۔ اس امر کے ساتھ ساتھ قدر شناسی بھی ادب کی شناخت و ساخت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔میں ساری باتوں کے ساتھ ساتھ پروفیسر عامر زرین کا ممنون ہوں جن کی محبت اور فراخ دلی کے باعث تاثرات لکھنے کی قوت و توانائی کا جذبہ عطا ہوا۔
آخر میں، میں اس جمالیاتی نوجوان کے لیے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے اس شعر سے اجازت چاہوں گا۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

اپنا تبصرہ لکھیں