کل فاطمہ میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں اگلے مہینے ریٹائر ہونے والے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کے اعزار میں انڈر گریجویٹس سٹوڈنٹس نے الوداعی تقریب کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔
مجھے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک سر گنگا ہسپتال میں آرتھوپیڈک سرجری کی ٹریننگ کرتے ہوئے چوتھا سال شروع ہے،اور میں نے ان چاروں سالوں میں یونیورسٹی کا آڈیٹوریم کچھا کھچا بھرا ہوا پہلی بار دیکھا تھا۔
فرسٹ ائیر سے لیکر فائنل ائیر تک تمام سٹوڈنٹس نے بھرپور جوش و ولولے سے اس پروقار تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب کی مہمان اعزاز پروفیسر ڈاکٹر منزا اقبال تھیں، جبکہ تمام specialities کے ڈینز بھی اس تقریب میں شریک تھے۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا، اس کے بعد مہمانوں کے لئے ویلکم ایڈریس ڈین آف انڈر گریجویٹس پروفیسر ڈاکٹر بلقیس شبیر نے دیا، جس میں انہوں نے یونیورسٹی کی ترقی کے لئے پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کی خدمات کے حوالے سے تفصیلاً شرکاء کو آگاہ کیا۔
فائنل ائیر ایم بی بی ایس کلاس کی سی آر ( class representative) مس فاطمہ نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کی فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے لئے خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی کہ کس طرح انہوں نے یونیورسٹی کو اس قابل بنایا کہ آج یونیورسٹی پاکستان کی ٹاپ فائیو میڈیکل یونیورسٹیز میں شامل ہے ۔ انڈر گریجویٹ سٹوڈنٹس نے ڈاکومنٹری ویڈیو چلائی جس میں پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کے چار سالہ دور بطور وائس چانسلر کا احاطہ کیا گیا۔
ڈین آف میڈیسن و رجسٹرار یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ندیم نے سر کیساتھ اپنی رفاقت اور دوستی کو موضوع سخن بنایا ۔ ڈین آف سرجری پروفیسر ڈاکٹر عمران اسلم نے شرکاء کو بتایا کہ انہوں نے اپنی سروس بطور سینیر رجسٹرار،پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کسیاتھ شروع کی اور تب سے لیکر آج تک انکے ساتھ ہیں۔ ڈین آف گائنی اینڈ آبز پروفیسر ڈاکٹر عائشہ ملک نے بھی یونیورسٹی بلخصوص مدر اینڈ چائلڈ بلاک کی تعمیر و ترقی پر وائس چانسلر صاحب کے کردار پر روشنی ڈالی۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سر گنگارام ہسپتال / فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی نمائیندگی راقم الحروف نے کی۔ میں نے شرکاء کو بتایا کہ کس طرح پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے زاتی دلچسپی لیکر پی جی آرز نے تمام مسائل حل کروائے اور آج یونیورسٹی کا ایم ایس / ایم ڈی پروگرام پنجاب بھر میں سب سے زیادہ منظم ہے تو یہ سر کی مرہونِ منت ہے۔
مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے بطور وائس چانسلر جب یونیورسٹی کی بھاگ دوڑ سنبھالی اور آج چار سال کے بعد یونیورسٹی کو جس حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں اس کے آپ سبھی گواہ ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ آج یونیورسٹی کے تمام ایم ایس/ ایم ڈی پروگرامز پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے منظور شدہ ہیں ۔ یونیورسٹی نے ایم فل پروگرام شروع کیا،اور Basic سائنسز میں پی ایچ ڈی شروع کرنے کے لئے ایچ ای سی کی انسپکشن جلد متوقع ہے۔ ہیلتھ پروفیشنل ایجوکیشن میں ماسٹرز کروانے کے لئے بھی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔ یونیورسٹی کا ایم ایس / ایم ڈی پروگرام اب دوسری یونیورسٹیز کے لئے رول ماڈل بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گائنی اینڈ آبز میں چار فیلوشپ کا آغاز کیا گیا جو کہ سی پی ایس پی سے منظور شدہ ہیں،جبکہ ان چاروں فیلو شپ میں ایم ایس پروگرام بھی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے یونیورسٹی کو بطور وائس چانسلر جائن کیا تب یونیورسٹی ایک نومولود بچے کی طرح تھی ،لیکن انتھک محنت اور بہترین ٹیم کی بدولت یونیورسٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوع اور پہلی میڈیکل یونیورسٹی بنی جسے ایچ ای سی سے فنڈنگ موصول ہوئی ۔ یونیورسٹی سے منسلک سر گنگارام ہسپتال میں نیا ڈے کئیر سنٹر اور جبکہ یونیورسٹی میں نیا ایگزامیشن ڈیپارٹمنٹ تعمیر کیا گیا ۔ ایمرجنسی میں لیپرو سکوپک سرجریز شروع کی گئی ، جبکہ شعبہ ایمرجنسی میڈیسن میں ایم ڈی و ایف سی پی ایس میں ٹرینگ شروع کی گئی ۔ میڈیسن کی الائیڈ میں Rehumatology, Endocrinology اور Gastroentrology میں فیلو شپ شروع کی گئیں ، میڈیسن کی ان تینوں فیلو شپ میں ایم ڈی پروگرام بھی جاری ہے ۔فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پہلی یونیورسٹی بنی جسکا دورہ چاروں رائل کالجز آف سرجنز اینڈ فزیشنز کے صدور نے کیا۔ اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے اس تقریب کی انتظامیہ بلخصوص فائنل ائیر کلاس کا شکریہ ادا کیا۔
مہمان اعزاز پروفیسر ڈاکٹر منزا اقبال نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کیساتھ انکا تعلق تین دہائیوں سے زائد پر محیط ہے۔ وہ ایک بہترین شوہر،ڈاکٹر اور ایڈمنسٹریٹر ہیں، زاتی و پروفیشنل مصروفیات کے باوجود وہ اپنی فیملی اور دوستوں کو ہر ممکن وقت دیتے ہیں، سیاسی مخالفین سے بھی خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں ۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے تقریب انتطامیہ کے لوگوں کو فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی ہسٹری بک پیش کی،جبکہ یونیورسٹی انتطامیہ نے وائس چانسلر کو اعزازی شلیڈ دی۔ تقریب کا اختتام کیک کیٹنگ سرمنی سے ہوا۔
بلاشبہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بطور وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی،آپکا دور مثالی رہا۔ یونیورسٹی کی نیشنل اور انٹرنیشنل رینکنگ میں بہتری آئی اور آج یونیورسٹی پاکستان کی بہترین میڈیکل یونیورسٹیز میں سے ایک ہے،جسکا سہرا پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کو جاتا ہے۔ انہوں نے جب یہ کہا کہ ” یہ میرا اس یونیورسٹی کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کیساتھ آخری فارمل انٹرکشن ہے” تو آڈیٹوریم کی فضا یکدم سوگوار ہو گئی ،جسکا میں چشم دید گواہ ہوں۔ یہ وہ محبت ہے جو کہ آپ نے کمائی ہے۔فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی ایک چھوٹا درخت تھی جب آپ نے اس کی بھاگ دوڑ سنبھالی، آپ کی محنت سے یونیورسٹی ایک تناور درخت بن چکی ہے۔


