چائے خانوں کی گفتگو ہو، بازاروں کی چہل پہل ہو یا گھروں میں ہونے والی روزمرہ بحثیں، ہر طرف ایک ہی موضوع زیرِ بحث ہوتا ہے۔۔۔بجٹ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا ملک کسی ایسے اعلان کا منتظر ہو جو زندگی کی مشکلات میں کمی لا سکے۔ عام آدمی کے لیے بجٹ محض اعداد و شمار کی ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ اس کی روزمرہ زندگی، اس کے خوابوں، اس کی ضروریات اور اس کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے عوام کی نظریں حکومت پر اور حکومت کی نظریں معیشت کے بوجھل اعداد پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف کھربوں روپے کے منصوبے ہوتے ہیں اور دوسری طرف چند ہزار روپے کے ماہانہ اخراجات میں الجھا ہوا عام آدمی۔ ایک طرف معاشی ترقی کے دعوے ہوتے ہیں اور دوسری طرف مہنگائی سے بے حال وہ چہرے جن کے لیے زندگی روز بروز ایک مشکل سوال بنتی جا رہی ہے۔ جون کی گرمی میں جب بجٹ کی دستک سنائی دیتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے پورا معاشرہ ایک ایسے پل پر کھڑا ہو جہاں ایک طرف امید کے چراغ روشن ہیں اور دوسری طرف اندیشوں کی دھند پھیلی ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ 2026 اس دھند کو چھانٹتا ہے یا عوام کو ایک بار پھر وعدوں کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔
معاشی ماہرین بجٹ کو مالی نظم و ضبط، ترقیاتی ترجیحات اور محصولات کے اہداف کے تناظر میں دیکھتے ہیں، مگر عام آدمی کی نگاہ میں بجٹ کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس کی جیب پر کیا اثر پڑنے والا ہے۔ اسے اس بات سے چنداں غرض نہیں ہوتی کہ مالی خسارہ کتنے فیصد کم ہوا یا محصولات کا ہدف کتنے کھرب تک پہنچ گیا، بلکہ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ بجلی کے بل میں کتنی کمی آئے گی، آٹا، چینی، گھی اور ادویات کی قیمتوں کا کیا بنے گا اور کیا اس کی تنخواہ مہنگائی کی رفتار کا ساتھ دے سکے گی یا نہیں۔ یہی وہ بنیادی سوالات ہیں جو بجٹ کے اصل سماجی اور انسانی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی نے جس شدت سے عوام کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے، اس نے صرف معاشی حالات ہی نہیں بلکہ انسانی نفسیات کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ اپنی آمدنی بڑھانے کے خواب دیکھتے تھے، نئے منصوبے بناتے تھے اور مستقبل کے امکانات پر گفتگو کرتے تھے، مگر آج صورتحال یہ ہے کہ بیشتر افراد آمدنی بڑھانے کے بجائے اخراجات کم کرنے کی تدبیریں سوچتے دکھائی دیتے ہیں۔ خواہشات محدود ہو چکی ہیں، ضروریات سکڑ گئی ہیں۔ ایسے میں بجٹ سے وابستہ امیدیں دراصل معاشی اعداد و شمار سے زیادہ انسانی بقا کی امیدیں بن چکی ہیں۔
غریب کے لیے امداد اور امیر کے لیے سہولتوں کے درمیان متوسط طبقہ اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ یہی طبقہ ٹیکس دیتا ہے، بچوں کو تعلیم دلاتا ہے، معیشت کے پہیے کو حرکت دیتا ہے اور سماجی استحکام کا ضامن بنتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہی طبقہ سب سے زیادہ دباؤ کا شکار بھی ہے۔ وہ نہ اتنا غریب ہے کہ ریاستی امداد کا مستحق قرار پائے اور نہ اتنا خوشحال کہ مہنگائی کے اثرات کو آسانی سے برداشت کر سکے۔ ایک سرکاری ملازم، ایک استاد، ایک کلرک، ایک چھوٹا تاجر یا نجی ادارے کا ملازم۔۔۔ سب بجٹ کی جانب اس امید سے دیکھ رہے ہیں جیسے طویل خشک سالی کے بعد بارش کا انتظار کیا جاتا ہے۔یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ کیا بجٹ واقعی عوامی فلاح و بہبود کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے یا پھر یہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط، قرضوں کے تقاضوں اور معاشی مجبوریوں کے درمیان ایک مشکل توازن قائم کرنے کی کوشش ہوتا ہے؟ حقیقت شاید ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ حکومتیں اپنی کامیابی کو معاشی اشاریوں میں تلاش کرتی ہیں جبکہ عوام اپنی کامیابی کا پیمانہ اپنے گھر کے بجٹ کو بناتے ہیں۔ اگر سرکاری اعداد و شمار ترقی کی نوید سنا رہے ہوں لیکن بازار میں روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں تو عام آدمی کے لیے ترقی کا تصور محض ایک خوبصورت نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔
بجٹ دراصل کسی بھی حکومت کی ترجیحات کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ریاست اپنے وسائل کو کس سمت میں خرچ کرنا چاہتی ہے اور کن شعبوں کو اہم سمجھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ترجیحات واقعی تعلیم، صحت، روزگار اور انسانی ترقی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم کیوں ہیں؟ سرکاری اسپتالوں میں علاج ایک امتحان کیوں بن جاتا ہے؟ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر کیوں ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر بجٹ کے ساتھ دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں اور جواب طلب رہتے ہیں۔وقت کا سب سے بڑا تضاد شاید یہی ہے کہ حکومتیں کھربوں روپے کی منصوبہ بندی کرتی ہیں جبکہ عوام چند ہزار روپے کے اضافی بوجھ سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ ریاست کی زبان اعداد و شمار کی زبان ہوتی ہے جبکہ عوام کی زبان ضرورتوں کی زبان ہے۔ حکومتیں معاشی ترقی کی شرح پر بات کرتی ہیں اور عوام بچوں کی فیس، بجلی کے بل اور باورچی خانے کے اخراجات کا حساب لگاتے ہیں۔ یہی فاصلہ اکثر عوامی توقعات اور حکومتی دعوؤں کے درمیان خلیج پیدا کر دیتا ہے۔
بجٹ ابھی پیش نہیں ہوتا مگر اس کے اثرات پہلے ہی بازاروں میں محسوس ہونے لگتے ہیں۔ افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں، قیمتوں میں متوقع اضافے کی باتیں ہونے لگتی ہیں، گویا بجٹ محض ایک مالیاتی دستاویز نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور سماجی واقعہ بھی بن جاتا ہے جو پورے معاشرے کے رویوں کو متاثر کرتا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ معیشت صرف اعداد و شمار سے نہیں چلتی بلکہ اعتماد سے بھی چلتی ہے۔ اگر عوام کو مستقبل پر یقین ہو تو سرمایہ کاری بڑھتی ہے، کاروبار پھلتے پھولتے ہیں اور معاشی سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں، لیکن جب غیر یقینی کیفیت غالب آ جائے تو لوگ اپنے وسائل محفوظ کرنے لگتے ہیں اور معاشی پہیہ سست پڑ جاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی بجٹ کی سب سے بڑی کامیابی صرف محصولات جمع کرنا نہیں بلکہ عوام کے اندر اعتماد پیدا کرنا بھی ہونی چاہیے۔
آج پاکستان کے عوام کسی معجزے کے منتظر نہیں ہیں۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کچھ آسانی پیدا ہو، مہنگائی کی رفتار کم ہو، روزگار کے مواقع بڑھیں، تعلیم اور صحت کی سہولتیں بہتر ہوں اور محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا مناسب صلہ ملے۔ یہ مطالبات غیر معمولی نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کے بنیادی تقاضے ہیں۔بجٹ 2026 کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ آیا یہ عوامی زندگی کے حقیقی مسائل کو سمجھنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ اعداد و شمار، دعوے اور اعلانات چند دن خبروں کی زینت بنیں گے، لیکن چند ہفتوں بعد تمام بحثیں ایک ہی سوال میں سمٹ جائیں گی کہ کیا عام آدمی کی زندگی پہلے سے بہتر ہوئی یا نہیں؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہو تو پھر بڑے سے بڑا معاشی منصوبہ اور شاندار ترین بجٹ تقریر بھی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔جب گھروں میں اطمینان ہو، بازاروں میں رونق ہو اور نوجوانوں کی آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہوں تو سمجھ لیجیے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ لیکن اگر امیدیں سکڑنے لگیں اور خواب مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے لگیں تو پھر اعداد و شمار کی کامیابیاں بھی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ بجٹ 2026 کے بارے میں اصل فیصلہ بھی شاید یہی ہوگا کہ آیا یہ کھربوں کے ہندسوں سے نکل کر عام آدمی کے دل تک پہنچ سکا یا نہیں۔


