پاکستان کی تازہ مردم شماری 2023 کے اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ ملک کی پانچ اعشاریہ چار فیصد آبادی نے اپنا صوبہ تبدیل کیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ معیشت اپنے لوگوں کو جذب کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن میڈیا کا اپنا ایک الگ ہی رنگ ہے — جہاں پنجاب کو خوشحالی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، وہیں مردم شماری کی یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ پنجاب سے باہر جانے والوں میں سے پچاس اعشاریہ دو فیصد سندھ کی طرف جاتے ہیں، اور زیادہ تر کراچی میں جا بسے۔ یہ اعداد و شمار پنجاب کے نام نہاد ترقیاتی دعوؤں پر حقیقت کی ٹھنڈی چوٹ کی مانند ہیں۔ یہ منظر نامہ ایک نئے نوآبادیاتی نظام کی یاد دلاتا ہے، جہاں پنجاب اپنے مزدوروں کا خون جذب کرتا ہے اور سرمایہ اپنے پاس رکھتا ہے۔
اس صورتحال کو دو حصوں میں دیکھنا ضروری ہے: پہلا، جہاں پنجاب سے محنت کش طبقہ کراچی کی سڑکوں پر بھیڑ بڑھانے کے لیے مجبور ہے، وہیں دوسری جانب اسلام آباد کی طرف جانے والی یہ پونے چالیس فیصد سے زائد آبادی سرکاری نوکریوں اور مضافاتی رہائش کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ اور یہ وہی اسلام آباد ہے جس کی تقریباً ساڑھے ستالیس فیصد آبادی باہر سے آ کر بسی ہے۔ یہ تعداد بتاتی ہے کہ بیوروکریسی کی بھوسی اور معاشی قحط کی چکی کے درمیان پنجاب کا متوسط طبقہ کس طرح پیس رہا ہے۔
یہ صرف پنجاب کا معاملہ نہیں۔ خیبر پختونخواہ سے باہر جانے والوں میں سے پینتالیس فیصد پنجاب اور چونتیس فیصد سندھ کی طرف جاتے ہیں، جو اس صوبے کے روایتی مزدور برآمد کنندہ ہونے کی علامت ہے۔ دوسری طرف بلوچستان تنہا کھڑا ہے جہاں نقل مکانی کی شرح صرف ڈھائی فیصد کے قریب ہے۔ یہ تضاد پاکستان کے اندر ہی ایک علیحدہ ملک کی صورت پیدا کر چکا ہے — ایک طرف وہ علاقے جو کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی محور پر پروان چڑھ رہے ہیں، تو دوسری طرف وہ علاقے جو سرمایہ دارانہ نظام کے حاشیے پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔
مردوں کی بڑی تعداد نوکریوں کے پیچھے بھاگ رہی ہے جبکہ خواتین کی بڑی تعداد شادی یا خاندانی وجوہات کی بنا پر نقل مکانی کر رہی ہے۔ یہ تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی معاشرہ کس طرح خواتین کو معاشی فیصلوں سے دور رکھتا ہے۔ ہجرت کی سب سے بڑی تعداد پچیس سے چالیس سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے — وہی طبقہ جو انقلاب کی روح ہوا کرتا ہے، لیکن یہاں وہ مجبوراً محنت کے لیے اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ مردم شماری کی رپورٹ پاکستان کی حقیقی تصویر ہے۔ جہاں لاہور اور اسلام آباد کی چمکتی عمارتوں کے پیچھے ایک بھوکا پنجاب چھپا ہے، وہیں کراچی کی بندرگاہ پر اترنے والے مہاجرین اپنے ہی ملک میں بیگانگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔


