پاکستان میں جب بھی بجٹ پیش ہوتا ہے یا معاشی بحران شدت اختیار کرتا ہے تو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) بحث کا مرکز بن جاتا ہے۔ ایک طبقہ اسے غریبوں کے لیے زندگی کی آخری ڈھارس قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا اسے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ، سیاسی رشوت یا قومی وسائل کے ضیاع سے تعبیر کرتا ہے۔ بدقسمتی سے اس بحث میں اکثر جذبات غالب آجاتے ہیں اور حقائق پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا کا تقریباً ہر ملک کسی نہ کسی شکل میں سماجی تحفظ کے پروگرام چلا رہا ہے۔ برازیل کا بولسا فیمیلیا، جنوبی افریقہ کا سوشل گرانٹس سسٹم، انڈونیشیا کا پی کے ایچ، مصر کا تکافل و کرامہ، بھارت کی متعدد نقد امدادی اور روزگار اسکیمیں، حتیٰ کہ امریکہ جیسے سرمایہ دار ملک میں بھی فوڈ اسٹامپس اور سماجی تحفظ کے پروگراموں پر سالانہ سینکڑوں ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ غریبوں کی مدد کی جائے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مدد کس کو، کتنی، اور کس طریقے سے دی جائے۔
پاکستان کے حالیہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے تقریباً 838 ارب روپے مختص کیے گئے، جس سے 93 لاکھ سے زائد خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ یوں تقریباً پانچ کروڑ پاکستانی کسی نہ کسی شکل میں اس پروگرام کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہ پاکستان کی مجموعی معیشت کے تقریباً 0.6 فیصد کے لگ بھگ ہے، جو کئی دوسرے ممالک کے مقابلے میں غیر معمولی نہیں۔
اصل بحث پروگرام کے وجود پر نہیں بلکہ اس کی افادیت اور شفافیت پر ہونی چاہیے۔
تنقید کرنے والے اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر اتنے ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں تو غربت کیوں کم نہیں ہورہی؟ یہ سوال بجا ہے، مگر اس کا جواب پروگرام کے خاتمے میں نہیں بلکہ اس کی اصلاح میں پوشیدہ ہے۔
دنیا بھر کے تجربات بتاتے ہیں کہ درست طریقے سے چلنے والے نقد امدادی پروگرام معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ برازیل میں بولسا فیمیلیا نے سکولوں میں بچوں کی حاضری بڑھائی، ویکسینیشن کی شرح بہتر کی اور شدید غربت میں نمایاں کمی لائی۔ جنوبی افریقہ میں چائلڈ سپورٹ گرانٹ نے بچوں کی غذائی حالت اور تعلیمی نتائج پر مثبت اثرات مرتب کیے۔ انڈونیشیا اور میکسیکو کے مشروط نقد امدادی پروگراموں نے زچہ و بچہ کی صحت اور سکول داخلوں میں خاطر خواہ بہتری پیدا کی۔
پاکستان میں بھی صورتحال مکمل طور پر منفی نہیں۔ بے نظیر پروگرام کے تعلیمی جزو “وسیلہ تعلیم” کے تحت لاکھوں بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا گیا۔ مختلف ادوار میں اس پروگرام کے تحت 13 لاکھ سے 22 لاکھ تک بچوں کے سکول داخلے رپورٹ ہوئے جبکہ حالیہ تحقیقی جائزے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس پروگرام نے غریب خاندانوں کے بچوں کی سکولوں میں شمولیت اور حاضری میں اضافہ کیا۔
اسی طرح “بے نظیر نشوونما پروگرام” پاکستان میں غذائی قلت کے خلاف ایک اہم اقدام کے طور پر سامنے آیا۔ یہ پروگرام بچے کی زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں پر توجہ دیتا ہے، جسے ماہرین انسانی نشوونما کا سب سے اہم مرحلہ قرار دیتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں میں غذائی کمی، کم وزنی اور سٹنٹنگ (قد کا عمر کے لحاظ سے کم رہ جانا) ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ نشوونما پروگرام کے تحت حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور دو سال سے کم عمر بچوں کو غذائی معاونت، طبی معائنہ، ویکسینیشن اور غذائی آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں تقریباً 39 لاکھ مستفیدین اس پروگرام میں شامل ہوئے جن میں 20 لاکھ بچے اور 18 لاکھ سے زائد حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین شامل تھیں۔ بعض جائزوں کے مطابق دو سال سے کم عمر بچوں میں سٹنٹنگ کی شرح میں قابلِ ذکر کمی بھی دیکھی گئی ہے۔
یہ حقائق ان لوگوں کے لیے جواب ہیں جو ہر قسم کی سماجی امداد کو محض “خیرات” قرار دیتے ہیں۔ اگر ایک غریب ماں کو دورانِ حمل مناسب غذا ملتی ہے، اگر ایک بچہ غذائی کمی سے محفوظ رہتا ہے، اگر لاکھوں بچے سکول کا رخ کرتے ہیں، تو اسے محض پیسوں کا ضیاع قرار دینا حقیقت سے انکار کے مترادف ہوگا۔
تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے، اور وہی دراصل پاکستانی عوام کے اعتراضات کی بنیاد ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ “ٹارگٹنگ” کا ہے۔
اگر امداد صحیح مستحق تک پہنچے تو یہ ریاستی ذمہ داری ہے، لیکن اگر وہ ایسے افراد تک پہنچے جو اس کے مستحق نہیں تو یہ دراصل غریب کے حق پر ڈاکا ہے۔
پاکستان میں مستحقین کی نشاندہی نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری اور پراکسی مینز ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے۔ نظریاتی طور پر یہ ایک جدید نظام ہے، لیکن عملی طور پر اس میں کئی خامیاں موجود ہیں۔ ہزاروں ایسے گھرانوں کی مثالیں سامنے آتی ہیں جن کی معاشی حالت بدل چکی ہے، جن کے افراد بیرونِ ملک روزگار حاصل کر چکے ہیں یا جن کے پاس مستقل آمدنی کے ذرائع موجود ہیں، مگر وہ اب بھی امداد حاصل کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایسے غریب خاندان بھی موجود ہیں جو فہرست سے باہر ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈیٹا مسلسل اور بروقت اپ ڈیٹ نہیں ہوتا۔ غربت ایک متحرک حقیقت ہے، لیکن رجسٹری اکثر جامد رہتی ہے۔ سروے کے وقت جو خاندان غریب تھا، ضروری نہیں کہ پانچ سال بعد بھی اسی حالت میں ہو۔ اگر ڈیٹا کی بروقت تصحیح نہ ہو تو وسائل غلط سمت میں بہتے رہتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ شفافیت کا ہے۔ حکومتوں کی جانب سے مجموعی مستفیدین کی تعداد تو بتائی جاتی ہے، مگر یہ کم بتایا جاتا ہے کہ کتنے خاندان پروگرام سے نکلے، کتنے نئے شامل ہوئے، کتنے افراد کی اہلیت منسوخ ہوئی، اور کتنے خاندان امداد حاصل کرنے کے بعد خود کفیل بنے۔ یہی وہ معلومات ہیں جو عوامی اعتماد پیدا کرتی ہیں۔
تیسرا اور سب سے حساس اعتراض سیاسی اثر و رسوخ کا ہے۔ اگر کسی بھی سطح پر سیاسی وابستگی، سفارش یا مقامی اثر و رسوخ کی بنیاد پر مستحقین کا انتخاب ہوتا ہے تو یہ صرف بدعنوانی نہیں بلکہ غریبوں کے حق پر قبضہ ہے۔ ایسے حالات میں پروگرام فلاحی منصوبے کے بجائے سیاسی سرپرستی کے آلے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اصل سوال BISP کے حق یا مخالفت کا نہیں بلکہ اس کی سمت کا ہے۔
پاکستان کو اب محض نقد امداد کے ماڈل سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو ہمیشہ ریاستی معاونت کا محتاج رہے گا، جیسے بیوائیں، معذور افراد، یتیم بچوں کے سرپرست اور انتہائی ضعیف العمر لوگ۔ ان کے لیے نقد امداد ناگزیر ہے۔
لیکن دوسرا طبقہ ایسا ہے جسے مستقل امداد نہیں بلکہ مواقع درکار ہیں۔ اگر پروگرام کے وسائل کا ایک بڑا حصہ ہنر مندی، چھوٹے کاروبار، لائیوسٹاک، زرعی معاونت، خواتین کی گھریلو صنعتوں اور نوجوانوں کے روزگار پر صرف کیا جائے تو ہزاروں خاندان امداد لینے والوں کی صف سے نکل کر معیشت کا فعال حصہ بن سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں اسے “گریجویشن ماڈل” کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد غریبوں کو زندہ رکھنا نہیں بلکہ غربت سے نکالنا ہوتا ہے۔
ریاست کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس نے کتنے لوگوں میں امداد تقسیم کی، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ کتنے لوگ امداد لینے والوں کی فہرست سے نکل کر خود کفیل بن گئے۔
لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام موجود رہے یا ختم کر دیا جائے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ٹارگٹنگ کتنی درست ہے، اس کا ڈیٹا کتنا تازہ ہے، اس کے نتائج کتنے شفاف ہیں، اور اس کا کتنا حصہ لوگوں کو مستقل خود انحصاری کی طرف لے جا رہا ہے۔
اگر امداد درست مستحق تک پہنچے، اگر بچوں کی تعلیم اور غذائیت میں بہتری آئے، اگر حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی صحت بہتر ہو، تو یہ سرمایہ کاری ہے، ضیاع نہیں۔ لیکن اگر امداد سیاسی وفاداریاں خریدنے، ناقص ڈیٹا کو برقرار رکھنے یا غیر مستحق افراد تک وسائل منتقل کرنے کا ذریعہ بن جائے تو پھر یہ صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ غریبوں کے حق کی پامالی بھی ہے۔
پاکستان کو آج اس بحث کو “خیرات یا مخالفت” کے دائرے سے نکال کر “اصلاح یا جمود” کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ایک فلاحی ریاست کا مقصد صرف محتاجوں کی تعداد گننا نہیں، بلکہ محتاجی کی تعداد کم کرنا ہوتا ہے۔یہ ورژن اخباری کالم، پالیسی بحث اور عوامی اعتراضات تینوں کو یکجا کرتا ہے، اور نہ مکمل دفاع کرتا ہے نہ مکمل مخالفت، بلکہ توجہ ٹارگٹنگ، شفافیت، نتائج اور خود کفالت پر مرکوز رکھتا ہے۔


