مغربی استعمار نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں قومیت کا تصور متعارف کرایا۔ قوم پرستی کا یہ تصور ہمارے ہاں زیادہ تر سیکولر افراد نے قبول کیا ہے۔ لیکن اگر استعمار مخالف نقد کے نقطہ ء نظر سے اس کا جائزہ لیا جائے تو کیا یہ تصور بھی مغربی نہیں؟ کیا اس نے ویسی ہی نفرتیں اور تقسیم پیدا نہیں کی جیسی مذہبی سیاست نے پیدا کی ہے؟
کینیا میں اس موضوع پر خاصی سٹڈی ہوئی ہے۔ دو ہزار پندرہ میں کینیا کے سفر کے دوران میں اس تنقید اور خاص طور پر نگوگی وا تھیونگ او کی تحریروں اور اس کے پس استعماری (پوسٹ کولونیل) نقد سے متعارف ہوا تھا۔ نگوگی نے لکھا ہے کہ مغرب کے تصور قومیت سے پہلے افریقہ میں تقسیم قبائل کی بنیاد پر تھی اور سرحدوں کا تصور نہیں تھا۔
انسان دنیا میں آتا ہے کچھ لوگ اسے اپنے اور کچھ پرائے لگتے ہیں۔ یہ انفرادی سطح پر شناخت کی تلاش ہوتی ہے۔ شناخت کی تلاش کی اجتماعی کوشش سے بڑے پیمانے پر سیاسی تحریکیں چلتی ہیں۔
لیکن شناخت کے دو پہلو ہیں: ایک تو یہی کہ آپ کس کس سے مختلف ہیں۔ مگر اس کا دوسرا پہلو بھی تو ہے کہ آپ کے کس کس سے مشترکات ہیں۔ جو لوگ بہت عرصہ ساتھ رہے ہوں وہ ایک دوسرے میں بالکل مختلف نہیں ہو جاتے۔ برعظیم کی مسلم تہذیب، ایرانی یا عرب مسلم تہذیب سے اسی لیے مختلف ہے۔
شناخت کی تلاش میں یہ دونوں پہلو مدنظر رکھنے ضروری ہیں۔
جب میں ہندستان گیا تھا تو وہ لوگ ہم سے کئی حوالوں سے مختلف نظر آئے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ تقسیم بڑھی ہے۔ لیکن دنیا میں کوئی اور ان جیسا اپنا بھی نہیں لگا۔ ایرانی اور عرب بھی نہیں۔ ہماری محبتیں تو کیا نفرتیں، حسد اور بغض بھی یک ساں ہیں۔
برعظیم میں شناخت کی بنیاد پر تقسیم ایک المیہ تھا اور آبادیوں کی منتقلی اس سے کہیں بڑا سانحہ۔ ایک تقسیم کے بعد اب اس خطے میں اور کوئی تقسیم کم از کم مجھے گوارا نہیں ہے۔ ہمارے مشترکات ہمارے اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔ ماضی میں اختلاف کی exclusivity کو ابھارا گیا۔ اب مشترکات تلاش کرنے کی کوشش کر کے دیکھ لی جائے تو معلوم ہوگا کہ
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم “الفت” کے۔
تقسیم کے بعد دہلی میں ایک مشاعرہ ہوا جس میں پاکستان سے استاد دامن بھی گئے تھے۔ جب انھوں نے اپنا یہ پنجابی شعر پڑھا تو مشاعرے میں موجود جواہر لال نہرو کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں۔ یہ اور بات ہے کہ شعر کے پیغام پر عمل کی انھیں اس کے بعد بھی توفیق نہیں ہوئی۔ اس شعر میں درد کے اشتراک کا ذکر تھا۔ شعر یہ تھا
لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے
روئے تسی وی او روئے اسیں وی آں
بشکریہ فیسبک وال


