چراغ جلانے والے اگر خود اندھیروں کے سوداگر بن جائیں تو پھر روشنی کا نوحہ کون لکھے گا؟ اور اگر قانون کے نام پر چلنے والی بندوقیں ہی سڑکوں پر فیصلہ کرنے لگیں تو عدالتوں کے دروازے آخر کس امید پر کھلیں گے؟ یہ وہ سوال نہیں جو صرف اخبارات کی سرخی بن کر گزر جائے، یہ وہ سوال ہے جو ہر اس ماں کی آنکھ میں اتر آتا ہے جس کی گود اجڑ جائے، ہر اس باپ کے سینے میں اترتا ہے جو اپنی اولاد کا جنازہ کندھے پر اٹھائے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو کہ وہ جرم کیا تھا جس کی اتنی بڑی قیمت وصول کر لی گئی ۔ جب قانون کے ہاتھ میں موجود بندوق انصاف کے بجائے خوف کی علامت بننے لگے تو سوال صرف ایک واقعے کا نہیں رہتا، پورے سسٹم پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ آخر ایک مہذب معاشرے کی پہچان کیا ہے؟ عدالتیں، آئین، قانون اور ریاستی ادارے یا پھر وہ طاقت جو چند سیکنڈ میں زندگی اور موت کا فیصلہ کر دے؟ یہ سوال آج پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے۔
گزشتہ ہفتےچکوال کی ایک رات، جو دوسری راتوں کی طرح معمول کی ہونی چاہیے تھی، ایک ایسے سانحے میں بدل گئی جس نے نہ صرف ایک خاندان کو اجاڑ دیا بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ غلط فہمی کے باعث سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے ایک معصوم بچی جاں بحق ہو گئی جبکہ خاندان کے دیگر افراد زخمی ہوئے۔آسٹریلیا سے واپس آنے والے ایک خاندان کے خواب، خوشیاں اور مستقبل چند لمحوں میں گولیوں کی آواز میں تحلیل ہو گئے۔ ہانیہ احمد کے والد عدیل احمد چوہان جن کا تعلق ڈھڈیال ( چکوال) سے ہے اپنی فیملی کے ساتھ آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے مضافاتی علاقے Kewdale میں رہتے ہیں۔ عدیل احمد اپنی فیملی کے ساتھ کچھ روز قبل پاکستان آئے تھے جبکہ اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کر کے بدھ کی صبح چکوال پہنچے تھے۔ بدھ کی شب رات پونے 12 بجے خمینی چوک کے قریب اس المناک سانحے کا شکار ہوئے تھے۔ نو سالہ ہانیہ احمد کی موت محض ایک خبر نہیں تھی، وہ ایک ایسا سوال تھی جو ہر حساس دل کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ ایک ایسی بچی جو کسی جرم کا حصہ نہیں تھی، کسی مقدمے میں نامزد نہیں تھی، کسی تعاقب کا ہدف نہیں تھی، آخر کس جرم کی سزا پا گئی؟اصل المیہ صرف یہ نہیں کہ ایک معصوم جان چلی گئی، اصل المیہ یہ ہے کہ ہم ایسے واقعات کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہماری سماعتوں نے چیخوں کو معمول سمجھ لیا ہے اور ہماری آنکھوں نے خون کو خبر کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ یہی وہ خطرناک مرحلہ ہوتا ہے جہاں معاشرے اپنی اخلاقی حساسیت کھونے لگتے ہیں۔ جب ظلم چونکانا چھوڑ دے تو سمجھ لیجیے انصاف مرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
یہ واقعہ محض ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ایک پورے نظام کا آئینہ ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں اکثر اوقات گولی پہلے چلتی ہے اور سوال بعد میں پوچھے جاتے ہیں۔ جہاں تحقیقات حادثے کے بعد شروع ہوتی ہیں اور احتیاط حادثے سے پہلے کہیں نظر نہیں آتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بعض اوقات طاقت کو اپنی طاقت ثابت کرنے کی جلدی ہوتی ہے، مگر ذمہ داری قبول کرنے میں غیر معمولی تاخیر۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار تو بے شمار دیے جاتے ہیں لیکن ان اختیارات کے ساتھ جوابدہی کا نظام اسی رفتار سے مضبوط نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ جمہوری معاشروں میں طاقت کا حسن اس کے استعمال میں نہیں بلکہ اس کے احتساب میں ہوتا ہے۔ بندوق کسی بھی شخص کے ہاتھ میں ہو سکتی ہے، مگر قانون صرف اسی کے ہاتھ میں ہونا چاہیے جو جوابدہی کے لیے بھی تیار ہو۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوام کو پہلے ہی خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ڈکیتی، راہزنی، چوری اور وارداتوں کی خبریں روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ شہری سڑک پر نکلتے ہیں تو انہیں مجرم کا خوف ہوتا ہے، مگر جب قانون کے محافظوں کی کارروائیوں پر بھی سوالات اٹھنے لگیں تو پھر خوف کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ اس وقت شہری خود سے پوچھنے لگتا ہے کہ آخر وہ کس سے محفوظ رہے؟چکوال کے حالیہ واقعات نے ایک اور سنگین مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ مختلف شہروں اور اضلاع سے آنے والے جرائم پیشہ عناصر کی موجودگی، ان کے سہولت کاروں کا کردار اور مقامی سطح پر ان کے نیٹ ورک ایسے سوالات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر وہ کون لوگ ہیں جو مجرموں کو پناہ دیتے ہیں؟ وہ کون سے مفادات ہیں جو قانون شکنی کو سہارا دیتے ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ قانون ان جڑوں تک کیوں نہیں پہنچ پاتا جہاں جرم جنم لیتا ہے؟
جب ریاست جرم روکنے میں ناکام دکھائی دے تو عوام سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مگر جب یہی سختی بے گناہوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو وہی عوام انصاف کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ اصل دانشمندی ان دونوں انتہاؤں کے درمیان توازن پیدا کرنے میں ہے۔ قانون کا مقصد انتقام نہیں، انصاف ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض اوقات کارکردگی کو نتائج کی تعداد سے ناپا جاتا ہے، طریقۂ کار سے نہیں۔ حالانکہ ایک مہذب ریاست میں کامیابی اس بات سے نہیں ماپی جاتی کہ کتنے لوگ مارے گئے، بلکہ اس سے ماپی جاتی ہے کہ کتنے مجرم قانون کے مطابق عدالتوں کے سامنے پیش کیے گئے۔ اگر بندوق ہی ہر مسئلے کا حل ہوتی تو دنیا میں عدالتوں، وکیلوں اور ججوں کی ضرورت ہی نہ رہتی۔
ہانیہ کی موت نے ایک اور حقیقت بھی بے نقاب کی ہے۔ ہمارے ہاں متاثرہ خاندان اکثر دوہری اذیت سے گزرتے ہیں۔ پہلے سانحہ انہیں توڑ دیتا ہے، پھر انصاف کا طویل انتظار انہیں تھکا دیتا ہے۔ کمیٹیاں بنتی ہیں، جے آئی ٹیز تشکیل دی جاتی ہیں، بیانات جاری ہوتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملہ کہیں کھو جاتا ہے۔جب شہری یہ محسوس کرے کہ قانون اس کے تحفظ کے لیے موجود ہے تو وہ سسٹم پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن جب اسے اپنی جان، عزت اور حقوق کے بارے میں غیر یقینی محسوس ہونے لگے تو اعتماد کی بنیادیں ہلنا شروع ہو جاتی ہیں اور یاد رکھیے، کوئی بھی ریاست صرف اسلحے سے مضبوط نہیں ہوتی، وہ اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔
یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں احتساب اکثر کمزوروں کے لیے سخت اور طاقتوروں کے لیے نرم دکھائی دیتا ہے۔ یہی احساس لوگوں کے دلوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے تو پھر اس کی عملداری بھی سب کے لیے یکساں نظر آنی چاہیے۔ انصاف صرف ہونا کافی نہیں۔۔۔ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے جرم سے نہیں ٹوٹتے، ناانصافی سے ٹوٹتے ہیں۔ مجرم ایک فرد کو نقصان پہنچاتا ہے، لیکن ناانصافی پورے معاشرے کے اعتماد کو زخمی کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مہذب قوم نے احتساب کو اپنی بقا کا ستون بنایا۔ کیونکہ جہاں احتساب ختم ہو جائے وہاں طاقت خود کو قانون سمجھنے لگتی ہے۔
آج سوال صرف ہانیہ کی موت کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں بندوق پہلا آپشن ہو یا آخری؟ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں شہری جرم سے بھی ڈرے اور قانون کے نفاذ کے انداز سے بھی؟ کیا ہم نے واقعی ترقی کر لی ہے اگر ایک معصوم جان کی موت کے بعد بھی ہمارے پاس صرف رسمی بیانات اور روایتی یقین دہانیاں ہی باقی رہ جائیں؟ہانیہ واپس نہیں آئے گی۔ اس کی ہنسی دوبارہ اس گھر میں گونج نہیں سکے گی۔ اس کے والدین کی آنکھوں میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔ مگر اس سانحے کے بعد بھی اگر ہم نے کچھ نہ سیکھا، اگر ہم نے نظام کی کمزوریوں کو دور نہ کیا، اگر ہم نے احتساب کو محض ایک لفظ ہی رہنے دیا، تو پھر کل کسی اور گھر میں ایک اور ہانیہ کی تصویر دیوار پر آویزاں ہوگی اور ہم پھر وہی سوال دہراتے رہیں گے۔ بات پھر وہیں آ کر رک جاتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ اگر قانون کی بندوق بے گناہ اور مجرم میں فرق کرنے کی صلاحیت کھو دے تو پھر عدالتوں کی عمارتیں کس امید پر کھڑی رہیں گی؟ اگر چراغ جلانے والے خود اندھیروں کے سوداگر بن جائیں تو روشنی کی فریاد کون سنے گا؟ اور اگر ایک معصوم بچی کے خون کے سوال کا جواب بھی وقت کی دھول میں گم ہو گیا تو پھر تاریخ صرف یہ نہیں لکھے گی کہ ایک بچی ماری گئی تھی، بلکہ یہ بھی لکھے گی کہ ایک معاشرہ اپنے ضمیر کے امتحان میں ناکام ہو گیا تھا۔


