جب ہیرو ولین اور ولین ہیرو میں بدل دئے جایں-ڈاکو اور لٹیرا ہیرو (2)- سائرہ رباب

مورخ Eric Hobsbawm
اپنی مشہور کتاب
“Bandits” (1969)
کے لیے دنیا بھر کے ان گنت لوک گیتوں، داستانوں، رزمیہ شاعری، دیہی قصوں اور عوامی ادب پر تحقیق کرتا ہے جو سماجی ڈاکوؤں اور لٹیرے ہیروز کو گلوریفائی کرتے ہیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ “سوشل بینڈٹ” یا “لٹیرا ہیرو” کا تصور صرف کسی ایک ملک یا کلچر تک محدود نہیں بلکہ امریکا سے افریقہ، یورپ سے ایشیا، مشرق سے مغرب تقریباً ہر سماج میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔

روس، چین، جاپان، ایران، ہندوستان، اٹلی، فرانس، ترکی، سیسلی، میکسیکو، پیرو، کولمبیا، انڈونیشیا، جرمنی، اسپین، کوریا ۔۔۔۔ ہر جگہ ایسے باغیوں، ڈاکوؤں اور outlaw کرداروں کے گیت، داستانیں اور عوامی روایات ملتی ہیں جو ریاست کی نظر میں مجرم مگر عوام کی نظر میں ہیرو تھے۔

ہابسبام کے مطابق مختلف خطوں میں ایک ہی دور میں ان لٹیرے ہیروز کا ابھرنا محض اتفاق، cultural diffusion یا باہمی اثر پذیری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے گہرے معاشی، سیاسی اور تاریخی عوامل کارفرما تھے۔

پندرھویں اور سولہویں صدی میں دنیا کے کئی حصوں میں قدیم قبائلی، دیہی اور برادری پر مبنی معاشرے تیزی سے ماڈرن کیپٹلزم اور صنعتی سماج کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سماج کا پرانا فیبرک ٹوٹ رہا تھا۔ نئی کیپٹلسٹ ریاستیں وجود میں آ رہی تھیں اور زرعی کیپیٹلسٹ انقلاب (agrarian capitalism) کے نتیجے میں دیہی زندگی، زراعت اور مقامی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے تھے۔

یہ ایک نئے سامراجی دور کا آغاز تھا۔

زمینوں کی نئی تقسیم ہوئی۔
نئے ٹیکس اور لینڈ ریونیو نافذ ہوئے۔
کسانوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا گیا۔
زرعی پیداوار کو منڈی اور سرمایہ کے تابع کر دیا گیا۔

زراعت کی شکل جدید ہوئی مگر استحصال پر مبنی پرانے رشتے جوں کے توں قائم رہے۔ زمینیں لینڈ لارڈز، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے قبضے میں تھیں جبکہ کسان قرض، جبری مشقت، بانڈڈ لیبر اور سستی مزدوری کے جال میں جکڑے جا رہے تھے۔

پہلی مرتبہ یہ تصور ابھرا کہ خام مال ایک جگہ سے لوٹا جائے اور صنعت دوسری جگہ لگائی جائے۔

دیہی سماج کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔

بعض ممالک میں یہ عمل بعد میں، یعنی انیسویں اور بیسویں صدی میں آیا۔ اسی دور کو بعض مورخین
“Great Age of Banditry”
کہتے ہیں۔

لیکن پرو اسٹیٹ اور پرو آرڈر نقطۂ نظر نے اسی دور کو (Period of Thugs) یعنی “ڈاکوؤں کا زمانہ”قرار دے کر ان تمام مزاحمتی گروہوں کو محض جرائم پیشہ، جنگلی اور سماج دشمن عناصر کے طور پر پیش کیا۔

ہابسبام کے مطابق سوشل بینڈٹری کے ابھرنے کی دوسری بڑی وجہ متشدد کیپٹلسٹ ریاست کا قیام تھا، جہاں ریاست جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور طاقتور طبقات کے مفادات کے ماتحت کام کرنے لگی۔

Charles Tilly
اپنی کتاب
“Sociology of Violence and States”
میں یہ نکتہ اٹھاتا ہے کہ ریاست کا وجود خود منظم تشدد/دہشت گردی (organized violence) کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اسٹیٹ کے پاس منظم تشدد، اسلحے اور جبری ٹیکس وصولی کی قانونی اجارہ داری ہوتی ہے۔ ریاستی مشینری کے ذریعے لوگوں کو ان کے وسائل، زمینوں اور حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔

اسی تناظر میں “ڈاکو” یا “سوشل بینڈٹ” ایک مقامی Para-statehood کی عملی شکل اختیار کرتا ہے۔ یعنی ایسا متبادل ڈھانچہ جو ریاستی اتھارٹی کے متوازی چلتا ہے اور اس کی طاقت کو چیلنج کرتا ہے۔

وہ ریاست کی منظم تشدد پر قائم اجارہ داری کو توڑ کر مقامی لوگوں کو تحفظ، بدلہ اور سپورٹ فراہم کرتا ہے۔ بدلے میں مقامی آبادی بھی انہیں خوراک، پناہ، علاج، معلومات اور ہر طرح کی مدد فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف معاشروں میں یہ لٹیرا ہیروز اکثر گوریلا وار فیئر، عوامی بغاوتوں اور قوم سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔

ریاست، جاگیردار اور سرمایہ دار کے ظلم کا شکار بے زمین کسان، چرواہے، خانہ بدوش، گانے بجانے والے، چھابڑی فروش، سابق فوجی، چوکیدار، فیلڈ گارڈ اور دوسرے آزاد مزاج لوگ آہستہ آہستہ ان باغی گروہوں کا حصہ بنتے گئے۔

یہ وہ لوگ تھے جن کے اندر بغاوت کی آگ موجود تھی اور جو استحصالی نئے آرڈر کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہ تھے۔

یہ زیادہ تر ان تاجروں، بنیوں، money lenders، ٹیکس کلکٹرز، امیروں اور ریاستی نمائندوں کو نشانہ بناتے تھے جنہیں وہ اپنی محرومیوں اور تباہی کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ تحقیق کے مطابق ان میں سے بہت سے لوگ لالچی یا پیشہ ور مجرم نہیں تھے بلکہ استحصالی نظام کے باغی تھے۔

یہ پولیس پوسٹس، سرکاری دفاتر، ٹیکس کلیکٹرز اور استحصالی طاقتوں پر حملے کرتے، لوگوں کو لوٹنے والوں کو لوٹتے اور بعض اوقات وہی دولت واپس عوام میں تقسیم کر دیتے تھے۔

بعض علاقوں میں یہی سماجی ڈاکو اپنی بہادری، آنر، ایمانداری اور مقامی حمایت کی وجہ سے کسی ہمدرد (sympathetic) مقامی اتھارٹی یا لوکل ایڈمنسٹریشن کے ساتھ مل کر نگرانی اور حفاظت کا کام بھی کرتے تھے۔ بدلے میں انہیں زمین، پناہ یا تحفظ فراہم کیا جاتا تھا۔

یہ اکثر ظلم کے مارے ہوئے لوگ تھے۔

رابن ہڈ کا ذکر چودھویں اور پندرھویں صدی کے انگلینڈ کے لوک گیتوں اور شاعری میں ایک عام مقامی شخص کے طور پر ملتا ہے جو جاگیردارانہ سسٹم اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ وہ Sherwood کے جنگلات میں پناہ لے کر اپنا گینگ بناتا ہے، امرا، پولیس افسران اور لینڈ لارڈز پر حملے کرتا ہے اور لوٹی ہوئی دولت غریبوں میں تقسیم کرتا ہے۔

اسی طرح اٹلی کا
Angelo Duca
ایک غریب کسان تھا جس کے مویشی مقامی نواب کے کھیتوں میں چلے گئے۔ شدید جھگڑے کے بعد وہ ریاستی عتاب سے بچنے کے لیے پہاڑوں میں فرار ہوا اور سماجی ڈاکو بن گیا۔

میکسیکو کا
Pancho Villa
ایک غریب کسان خاندان میں پیدا ہوا۔ ایک طاقتور لینڈ لارڈ نے اس کے خاندان کی زمین ہتھیا لی اور انہیں تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ Pancho Villa نے بدلہ لیا، باغی بنا اور پھر پوری زندگی لینڈ ریفارم، کسانوں کے حقوق اور اشرافیہ کے خلاف جدوجہد میں گزار دی۔ بعد ازاں وہ میکسیکن انقلابی تحریک کا اہم رہنما ثابت ہوا۔

اسی طرح
Angelo Macri
نے اس پولیس افسر کو قتل کیا جس نے اس کے معصوم بھائی کو مار ڈالا تھا۔

سیسلی کے
Guiliano
نے اس پولیس والے کو مارا جو ایک غریب شخص کو گندم کے تھیلے پر روک رہا تھا جبکہ بڑے سمگلروں کو رشوت لے کر آزاد چھوڑ دیتا تھا۔

اسپین کے
Diego Corrientes of Andalusia
کو مقامی لوگ “Second Christ” تک سمجھتے تھے۔

ریاست اور قانون کی نظر میں یہ سب اشتہاری مجرم تھے جن کے سروں کی قیمت مقرر تھی۔ مگر عوامی تخیل میں یہ مزاحمت، انصاف اور بغاوت کی علامت بن چکے تھے۔

البانیہ، یونان، ترکی، روس اور یوکرین کے
Haiduks، Cossacks
جبکہ ہندوستان کے
Bhadaks اور Ramosis
جیسے گروہ نہایت منظم اور militarized تھے۔ ان کے سردار منتخب ہوتے، آرمی جیسی یونٹس اور ریجمنٹس موجود ہوتیں اور ان کے نیٹ ورکس بہت مضبوط ہوتے تھے۔ مقامی آبادی انہیں مکمل سپورٹ فراہم کرتی تھی۔

یہ جنگجو گوریلا وار فیئر کے ماہر تھے۔ انہوں نے پولیس پوسٹس پر حملے کیے، سرکاری کاغذات جلائے، سول سرونٹس اور استحصالی ریاستی نمائندوں کو نشانہ بنایا۔

مگر یہ محض جرائم نہیں تھے بلکہ اکثر سامراج، استحصال اور جابرانہ ریاستی نظم کے خلاف آزادی اور خودمختاری کی جنگیں تھیں۔

ان گوریلا گروہوں میں صرف کسان اور نچلے طبقات ہی شامل نہیں تھے بلکہ سابق فوجی، قبائلی، پہاڑی لوگ، عام شہری بلکہ بعض اوقات اونچی ذاتوں اور اشرافیہ کے لوگ بھی شامل ہو جاتے تھے۔

مغرب میں ڈاکو اکثر انفرادی یا چھوٹے گروہوں کی صورت میں سامنے آئے جبکہ افریقہ، ایشیا اور خاص طور پر ہندوستان میں یہ سماجی ڈاکو اور bushmen سامراج اور یورو سینٹرک ڈسکورس کے خلاف ایک بڑی اینٹی کولونیل مزاحمتی قوت کے طور پر ابھرے۔

Michael Hardt اور Antonio Negri
اپنی کتابوں
“Empire”
اور
“Multitude”
میں گلوبل کیپٹلزم، طاقتور اسٹرکچرز اور ایمپائر کے خلاف ایسے ہی مقامی مزاحمتی کرداروں کی جدوجہد کو بیان کرتے ہیں جو کسی نہ کسی سطح پر اسی “سوشل بینڈٹ” کی روایت سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں