کہتے ہیں ایک شہر تھا۔شہرِ خاموشاں۔۔جہاں لوگوں کی زبانیں تو بولتی تھیں مگر ضمیر سوئے ہوئے تھے۔ گلیوں میں زندگی رواں تھی، بازار آباد تھے، مگر دلوں میں ایک انجانی تاریکی بسی ہوئی تھی۔
ایک دن ایک مسافر اس شہر میں آیا۔ وہ جسمانی طور پر وہاں موجود نہ تھا، مگر اس کی رُوح جیسے ہر گلی، ہر دروازے، ہر چہرے کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے سنا کہ اس شہر میں ایک ایسا عمل ہو رہا ہے جسے سن کر پتھر بھی شرما جائیں۔ایک شخص نے اپنی ہی حدود کو پامال کر دیا تھا، اور حیرت کی بات یہ تھی کہ لوگ اس پر افسوس کرنے کے بجائے فخر کرتے تھے۔
مسافر نے دل ہی دل میں کہا:”یہ کیسی بستی ہے جہاں گناہ پر شرمندگی نہیں، بلکہ شیخی ہے؟ کیا یہ نہیں جانتے کہ تھوڑا سا خمیر پورے آٹے کو خراب کر دیتا ہے؟“
وہ روحانی طور پر ان کے درمیان کھڑا ہوا اور گویا ہوا:”اگر تم نے اس اندھیرے کو اپنے اندر سے نہ نکالا تو یہ تمہیں نگل جائے گا۔ اپنے دلوں کو پاک کرو، کیونکہ پاکیزگی ہی زندگی ہے۔ تمہارا فخر تمہاری ہلاکت بن سکتا ہے۔“
شہر کے کچھ لوگ اس کی باتوں سے چونکے، مگر زیادہ تر نے اُس آواز کو نظرانداز کر دیا۔ وہ اپنے جشن، اپنی خواہشات اور اپنی انا میں مگن رہے۔
مسافر نے پھر کہا:”برائی کے ساتھ تعلق رکھنا صرف برائی کو بڑھاتا ہے۔ اگر تم خود کو روشنی کا دعویدار کہتے ہو، تو اندھیرے سے فاصلہ بھی رکھو۔ کیونکہ انصاف کا آغاز اپنے ہی گھر سے ہوتا ہے۔“
وقت گزرتا گیا، اور وہ شہر دو حصوں میں بٹنے لگا۔ایک وہ جو بیدار ہو گئے تھے، اور دوسرے وہ جو اپنی نیند کو ہی حقیقت سمجھ بیٹھے تھے۔
آخرکار، سچائی کی روشنی نے کچھ دلوں کو بدل دیا۔ انہوں نے اپنے اندر کے ”پرانے خمیر“ کو نکال کر ایک نئی زندگی شروعات کی،سادگی، سچائی اور پاکیزگی کے ساتھ۔
اور شہرِ خاموشاں، جو کبھی اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، آہستہ آہستہ ایک نئی صبح کی طرف بڑھنے لگا۔
مگر یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی،کیونکہ ہر شہرِ خاموشاں دراصل ہمارے اندر بستا ہے۔


