تہذیب، طاقت اور قانون/ڈاکٹر اظہر وحید

تہذیب اُس دَور کو کہتے ہیں، جس دَور میں طاقت قانون کے سامنے سر جھکانا سیکھ لیتی ہے۔اگر کسی معاشرے میں بلا چون و چرا طاقت کا حکم تسلیم کر لیا جاتا ہے، اور اسے ہی مجوزہ معیار، معمولِ عام اور norm of the day سمجھ لیا جاتا ہے تو یہ معاشرہ ایک مہذب معاشرہ نہیں — یہ انسانی معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔ ڈنڈے کے زور پر بھیڑ بکریوں کو چلایا جاتا ہے، معاشروں کو نہیں۔ معاشرہ ایک زندہ شناخت رکھتا ہے۔ معاشرہ ایک living entity ہے— دھڑکتے ہوئے دلوں کی ایک چلتی پھرتی شناخت ہے۔ جس طرح ایک انسانی بچے کو طفولیت سے جوانی تک پہنچنے کے لیے خوراک کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت بھی درکار ہوتی ہے، اسی طرح ایک انسانی معاشرہ بھی اپنی نمو کے لیے اخلاقی تربیت کا محتاج ہوتا ہے۔ وہی قوم تہذیب یافتہ کہلاتی ہے جو اپنے ہاں طاقت کو کسی قانون کے سامنے جوابدہ کر دیتی ہے۔ اگر طاقت اور صرف طاقت ہی قانون ٹھہرے تو ایسے شہروں سے جنگل بھلے— ایسے میں موت زندگی سے زیادہ بھلی ہے — زمین کی گود، زمین کی چھاتی سے زیادہ پرسکون معلوم ہوتی ہے۔

وہی قوم آزاد کہلاتی ہے جو جبر کا حکم ماننے سے اِنکار کر دیتی ہے۔ اگر آج کسی قوم نے اپنے ہاں کسی جابر کے حکم کے سامنے اپنی آزادانہ رائے کو سرنگوں کر دیا ہے تو جلد یا بدیر کوئی بیرونی طاقت بھی اُس پر حکمران ہو جائے گی۔ غلام قوم کے لیے یکساں ہے، بھلے اُس کا آقا گندم گوں ہو یا سفید۔ زیادہ دُور نہ جائیں، گزشتہ چند سَو برس کی تاریخ گواہ ہے ، مسلم خطے جابر حکمرانوں کے زیر تسلط تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بیرونی طالع آزما اِن پر حکمران بن گئے۔ برس ہا برس کی ملوکیت نے قوم کے خمیر میں غلامی کے بیج بو دیے تھے، اسلام کے پیغامِ حریت سے انہیں ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت بیگانہ کر دیا تھا — ایسے میں یورپی ممالک کا اِن پر آن قابض ہونا کچھ مشکل نہ تھا۔ یاد رہے کہ ہم پر حکمرانی کرنے والی قومیں اپنے ہاں آزاد تھیں— وہ ملوکیت کو شکست دے کر آزادئ فکر میں قدم رکھ چکیں تھی۔ ہمارے مفتوح اور اُن کے فاتح ہونے میں صرف ٹیکنالوجی کا فرق نہیں تھا،بلکہ ذہنی اُپچ اور اُفتادِ طبع کا فرق تھا۔ اُن کی افتادِ طبع میں سوال ،تحقیق اور تخیل تھا۔ ہماری خو ئے فکر میں طاقت کو بلاچون و چرااپنا آقا تسلیم کرنا شامل تھا۔ آج کے اِس ٹیکنالوجی کے دَور میں بھی غلام قوموں کے ہاں رائج ٹیکنالوجی اُن کی ایجاد کردہ نہیں ہوتی ، بلکہ مستعار ہوتی ہے، اُن کی ٹیکنالوجی کا بٹن غیرملکی آقاؤں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی پالیسیاں خود نہیں بنا سکتے تو آپ قطعاً آزاد نہیں ہیں۔ اگر آپ کی معیشت غیرملکی قرضوں پر چل رہی ہے تو آپ بالکل بھی آزاد نہیں ہیں۔ ریموٹ کنڑول ایجاد ہونے سے بہت پہلے ریموٹ کنٹرول حکومتیں ایجاد ہو چکی تھیں۔

آزادی اور غلامی ایک اتفاقیہ واردات نہیں۔ آزادی اور غلامی کی ایک پوری کیمسٹری ہے— اِن کا اپنا اپنا الگ مزاج ہے۔ آزادی سوال پر اکساتی ہے، غلامی خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ غلامی سر جھکانے میں عافیت محسوس کرتی ہے— آزادی سر کٹانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ غلامی تحقیق نہیں کر سکتی ہے— غلامی کوئی چیز ایجاد نہیں کر سکتی — یہ صرف نقل کرتی ہے اور نقل کرنے میں مہارت رکھتی ہے— اور پھر اس نقالی پر فخر کرتی ہے۔ آزادی — سب سے پہلے آزادئ اِظہارِ رائے طلب کرتی ہے۔ ایجاداتِ عالم کا اعزاز صرف آزاد قوموں کے حصے میں آتا ہے۔ آزادی — ہر حال میں دل کو شکم پر ترجیح دیتی ہے۔ آزاد ہوئے بغیر ہم معتبر قوموں کی فہرست میں شامل نہیں ہوسکتے۔ آزاد لوگوں کے پاس ایک ایسا اسمِ اعظم ہوتا ہے جو غلاموں کے پاس نہیں ہوتا ۔ یہ اسمِ اعظم حرفِ ”لا“ ہے۔ آزاد لوگ اپنے پاس ایک حرفِ انکار رکھتے ہیں۔ وہ اپنی آزادی، اپنے آدرش اور اپنے مقصدِ زیست کے متعلق کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کرتے۔

کربلا — ایک حرفِ لا ہے۔ “لا” کے بغیر “الااللہ” کا راز نہیں کھل سکتا ۔ “لا”— حروفِ مقطعات نہیں ، نہ حروفِ متشابہات میں شامل ہے — یہ ایک واضح حرفِ انکار ہے— یہ ایک سچا اور سُچّا کردار ہے۔ ملوکیت کے خلاف کربلا پہلی آواز ہے! کربلا دین کو ملوکیت کے ہاتھوں یرغمال بننے کے خلاف پہلی جدو جہد ہے۔ کربلا ایک فکری قافلہ ہے— دنیا کا ہر وہ انسان اس قافلے میں شریک ہے جو طاقت کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ہروہ شخص کربلائی سفر میں شامل ہے جو قانون کو طاقت کے ہاتھوں مسخ نہیں ہونے دیتا۔ ملوکیت زدہ اَذہان دینِ فطرت کو اپنے مسخ شدہ نظریات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔ نواسہِ رسولؐ نے دینِ رسولؐ کی حُرمت کو بچا لیا— اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی حُرمت کو دین کی حُرمت پر قربان کر دیا۔ آپؑ چاہتے تو اُمّت سے اپنے ہونے کا خراج لے سکتے تھے، افواج کھڑی کر سکتے تھے، بلادِ اسلامیہ کے بڑے حصہ— خطہِ حجاز پر بلاشرکتِ غیرے حکمران بن سکتے تھے۔ لیکن آپؑ نے اپنی حکمرانی پر اُمّت کی وحدت کو ترجیح دی۔ آپؑ اگر خطہ حجاز پر اپنی حکومت قائم کر لیتے تو معصوم اُمّت دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ آپؑ نے حشر تلک انسانی شعور کو یہ پیغام دے دیا کہ اصل فتح اخلاقی ہوتی ہے— اور اخلاقی فتح قربانی مانگتی ہے۔ دین کی اصل قوّت اِخلاقی قوت ہے— مادّی قوت خیر و شرّ دونوں کے لیے یکساں ہوتی ہے۔ مادّی قوّت حق پر ہونے کا جواز نہیں بنتی۔ حق پر ہونے کا جواز— اخلاق ہے، قانون ہے اور طاقت ور ہونے کے باوجود قانون اور اخلاق کے سامنے سرنگوں ہونے کا ظرف ہے۔

وہ شخص آزاد ہے جو اپنی خواہش، جبلّت اور اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کو دین کے قانون کے تابع کر دیتا ہے۔ وہ شخص غلام ہے جو اپنی خواہش کی غلامی قبول کر لیتا ہے اور قانون اور دین کی آواز سننے سے اپنے کان بند کر لیتا ہے۔ ایسا شخص خواہ دوسروں سے بڑھ کر عبادت کرے، فی الاصل دین سے دُور ہے۔ ایسا شخص ظالم ہوتا ہے۔ وہ پہلے اپنے نفس پر ظلم کر تا ہے اور پھر باہر کمزور نفوس پر بھی ظلم کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ اُس کی خواہشِ نفس اُسے مجبور کر دیتی ہے کہ وہ دین کی اپنے تئیں ذہنی تفسیر کرے — اس کی بشری طبع اسے مجبور کر دیتی ہے کہ وہ الہامی کلام کی تشریح اپنی اُفتادِ طبع کے مطابق کرے۔ اپنی طبع کا اَسیر آزاد نہیں ہوتا۔ القصہ وہ جو خود کو کسی قانون کے تابع نہ کر سکے ، تہذیب کی لغت میں اسے آزاد نہیں کہتے۔ کسی انسان کے مہذب یا غیر مہذب ہونے کے لیے یہی نشانی کافی ہے کہ وہ طاقت کو حجت سمجھتا ہے یا کسی اخلاقی و قانونی شق کو حجت گردانتا ہے۔

خود کو خدا کے حکم کا پابند کر دیا جائے — غیر مشروط طور پر حکمِ خدا ماننے کے لیے خود کو آمادہ کر لیا جائے تو انسان غلامی سے نکل کر آزادی میں داخل ہو سکتا ہے۔ آزادی روح کی آزادی ہے۔ غلامی —جسم اور جسم کے تقاضوں کی غلامی ہے۔ جس کی روح لالچ ، نفرت ، غصہ اور حسد کی بیڑیوں میں جکڑی ہوئی ہے ، اُس کا جسم بھلے آزاد ہو، اُس کی روح قید میں ہے۔

دِل یا شکم کے درمیان فیصلہ کرنے کی طرح یہ فیصلہ بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم نے تہذیب کے دائرے میں قدم رکھنا ہے یا ہنوز وحشت کے جنگل میں ہنہنانا ہے۔ تہذیب — طاقت کا اخلاق کے سامنے سرنگوں ہونے کا نام ہے۔ تہذیب دل کی دنیا ہے اور بدتہذیبی نری پُری شکم کی دنیا۔ دل — خیال ہے— شکم مفاد ہے۔ طلبِ شکم دنیا ہے اور طلبِ دل — خدا ہے۔ بندہِ خدا — خدا کے آگے جھکنے والا — خدا کے حکم کے سامنے جھکنے والا — مہذب ہوتا ہے ۔ بندہِ نفس غیر مہذب ہوتا ہے۔ صرف ایک تہذیب یافتہ بندے سے مکالمہ ہو سکتا ہے۔ مکالمہ دو نظریات کے درمیان ہوتا ہے— مفادات کے درمیان نہیں۔ مفادات کے درمیان صرف جنگ و جدال کا امکان ہوتا ہے۔

بشکریہ فیسبک وال

اپنا تبصرہ لکھیں