شیطان، خدا اور انسان کا سایہ/محمد عامر حسینی

بڑا ادب کہاں ختم ہوتا ہے اور اشتعال انگیزی کہاں شروع ہوتی ہے؟

کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو پہلی نظر میں سادہ لگتے ہیں مگر دراصل پورے عہد کی فکری الجھن اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں۔

ایسا ہی ایک سوال یہ ہے:

اگر مذہب، خدا، پیغمبروں، مقدس متون اور عقائد پر تنقید یا ان سے اختلاف ادب میں جائز ہے، تو پھر آخر کیا فرق ہے The Satanic Verses اور لجا جیسی کتابوں میں، اور دوسری طرف Divine Comedy کے “انفرینو”، Paradise Lost، Faust، Thus Spoke Zarathustra یا Ezra Pound کی “ملحد کی دعا” میں؟

آخر کیوں ایک طرف دنیا کے بڑے ادبی نقاد ان متون کو انسانی تہذیب کے عظیم شاہکاروں میں شمار کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض جدید تنازعات پر مبنی کتابیں ادبی شہرت کے باوجود وہی مقام حاصل نہیں کر پاتیں؟

اس سوال کا جواب سنسرشپ میں نہیں ہے۔

اور نہ ہی آزادیِ اظہار کے نعروں میں۔

اس کا جواب ادب کی فطرت میں پوشیدہ ہے۔

کیونکہ ہر وہ تحریر جو خدا کے بارے میں بات کرے، عظیم ادب نہیں بن جاتی۔

اور ہر وہ تحریر جو مذہب پر تنقید کرے، خودکار طور پر فکری شاہکار نہیں بن جاتی۔

اصل سوال یہ ہے:

مصنف کس چیز کی تلاش میں ہے؟

شیطان بطور دشمن یا شیطان بطور استعارہ

دانتے کے ہاں شیطان موجود ہے۔

ملٹن کے ہاں شیطان موجود ہے۔

گوئٹے کے ہاں میفسٹوفیلس موجود ہے۔

نطشے کے ہاں خدا کی موت کا اعلان موجود ہے۔

لیکن ان سب میں ایک چیز مشترک ہے۔

ان کا اصل موضوع شیطان نہیں ہے۔

ان کا اصل موضوع انسان ہے۔

دانتے جہنم کی سیر کرواتے ہوئے دراصل انسان کی اخلاقی اور روحانی گمراہی کا نقشہ بناتا ہے۔

ملٹن خدا اور شیطان کی جنگ بیان کرتے ہوئے دراصل آزادی، تکبر، اطاعت اور بغاوت کے ازلی سوالات سے نبرد آزما ہوتا ہے۔

گوئٹے کا فاؤسٹ شیطان سے سودا کرتا ہے، مگر اصل کہانی انسانی خواہش، علم کی پیاس اور تکمیلِ ذات کی ہے۔

نطشے خدا کی موت کا اعلان کرتا ہے، لیکن اس کا اصل سوال یہ ہے کہ خدا کے بعد انسان اپنی اخلاقی بنیاد کہاں سے لائے گا؟

یہ سب متون مقدس کو تباہ کرنے کے لیے نہیں لکھے گئے۔

یہ مقدس کے ساتھ ایک خطرناک، پیچیدہ اور اذیت ناک مکالمہ ہیں۔

یہ خدا سے لڑتے ہیں۔

خدا کا مذاق نہیں اڑاتے۔

یہ ایمان سے کشتی لڑتے ہیں۔

ایمان کی کارٹون سازی نہیں کرتے۔

یہ انسان کے اندر موجود روشنی اور تاریکی کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں۔

اسی لیے ان کے صفحات میں نفرت کم اور المیہ زیادہ ملتا ہے۔

تمسخر کم اور جستجو زیادہ ملتی ہے۔

عظیم ادب کی پہلی شرط

کارل ژونگ شاید یہاں کہتا کہ عظیم ادب اجتماعی لاشعور سے ابھرتا ہے۔

وہ آرکی ٹائپس کی زبان بولتا ہے۔

اس کے کردار محض افراد نہیں ہوتے بلکہ انسانی روح کے قدیم استعارے بن جاتے ہیں۔

فاؤسٹ صرف ایک شخص نہیں۔

وہ انسانی خواہش کا استعارہ ہے۔

دانتے صرف ایک شاعر نہیں۔

وہ گمشدہ روح کا استعارہ ہے۔

ملٹن کا شیطان صرف شیطان نہیں۔

وہ بغاوت، تکبر اور خود فریبی کا استعارہ ہے۔

اسی لیے ان متون میں مذہب، خدا یا شیطان اپنی ظاہری شکل سے کہیں زیادہ بڑے معنی اختیار کر لیتے ہیں۔

جبکہ اشتعال انگیز ادب اکثر استعارے کو سطحی واقعے میں تبدیل کر دیتا ہے۔

وہ انسانی المیے کو تہذیبی اشتہار میں بدل دیتا ہے۔

وہ سوال کم اٹھاتا ہے، موقف زیادہ فروخت کرتا ہے۔

ادب اور تہذیبی انتقام

یہاں ایک اور فرق بھی ہے۔

عظیم ادب اپنے مخالف سے بھی انصاف کرتا ہے۔

ملٹن ایک مومن مسیحی تھا۔

مگر اس نے شیطان کو بھی ایسی پیچیدگی اور عظمت دی کہ بعد کے کئی قارئین اس کردار سے متاثر ہوئے۔

یہ عظیم فن کی طاقت ہے۔

وہ اپنے مخالف کو بھی کارٹون میں تبدیل نہیں کرتا۔

جبکہ کمزور ادب اکثر اپنے مخالف کو ایک ہی جہت میں قید کر دیتا ہے۔

وہ زندہ انسان کو پوسٹر بنا دیتا ہے۔

وہ پیچیدگی کو پروپیگنڈے میں بدل دیتا ہے۔

وہ سوال کو نعرے میں بدل دیتا ہے۔

نطشے اور خدا کی موت

شاید اس پوری بحث میں سب سے زیادہ غلط سمجھی جانے والی مثال نطشے ہے۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ نطشے نے خدا کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔

حالانکہ نطشے کا جملہ ایک فتح کا نعرہ نہیں تھا۔

وہ ایک ماتمی اعلان تھا۔

اسے خوف تھا کہ جب پرانی مذہبی اور اخلاقی بنیادیں ٹوٹ جائیں گی تو انسان نِہلزم، طاقت پرستی اور روحانی خلا میں گر جائے گا۔

اسے اس خلا کا خوف تھا۔

اور بیسویں صدی نے ثابت کیا کہ اس کا خوف بے بنیاد نہیں تھا۔

اس لیے نطشے کا سوال الحاد نہیں تھا۔

معنی تھا۔

اور یہی عظیم ادب کی شناخت ہے۔

وہ خدا کے بارے میں کم اور معنی کے بارے میں زیادہ ہوتا ہے۔

اصل فرق کہاں ہے؟

اصل فرق یہ نہیں کہ کوئی متن مذہبی ہے یا غیر مذہبی۔

اصل فرق یہ بھی نہیں کہ وہ خدا کے حق میں ہے یا خدا کے خلاف۔

اصل فرق یہ ہے کہ وہ انسانی روح کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

کیا وہ ہمیں اپنے سائے سے ملواتا ہے؟

یا صرف دوسروں سے نفرت کرنا سکھاتا ہے؟

کیا وہ ہمیں مزید پیچیدہ بناتا ہے؟

یا مزید سطحی؟

کیا وہ ہمیں سوالوں کے قریب لے جاتا ہے؟

یا نعروں کے؟

عظیم ادب کا قاری کتاب بند کرنے کے بعد پہلے جیسا نہیں رہتا۔

اسے اپنے اندر ایک نئی تاریکی اور ایک نئی روشنی کا احساس ہوتا ہے۔

وہ اپنے یقین پر بھی دوبارہ غور کرتا ہے۔

اور اپنے انکار پر بھی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ دانتے، ملٹن، گوئٹے اور نطشے صدیوں بعد بھی زندہ ہیں۔

انہوں نے خدا کو نہیں مارا۔

انہوں نے انسان کو اس کے خدا، اس کے شیطان، اس کے خوف اور اس کے سائے کے سامنے لا کھڑا کیا۔

اور ادب کا اس سے بڑا کارنامہ شاید کوئی نہیں۔

شطیحات، ابلیس اور عوام کی خفیہ بصیرت

لیکن اگر ہم ذرا مشرق کی طرف پلٹ کر دیکھیں تو پوری بحث ایک نئے رخ پر کھلتی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ جب کوئی جدید ناول مذہب، خدا یا مقدس شخصیات کے بارے میں کوئی اشتعال انگیز بات لکھتا ہے تو دنیا بھر میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے، لیکن اسی مشرقی دنیا میں صدیوں سے ایسے متون پڑھے جا رہے ہیں جن میں بظاہر اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور چونکا دینے والی باتیں موجود ہیں؟

صوفی روایت میں ان باتوں کو “شطیحات” کہا جاتا ہے۔

یعنی وہ جملے، اشعار یا مکاشفات جو ظاہری مذہبی منطق کو توڑ دیتے ہیں اور سننے والے کو حیرت، خوف یا استعجاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

جب منصور حلاج کہتا ہے:

“انا الحق”

تو ایک سطح پر یہ جملہ کفر محسوس ہوتا ہے۔

جب ابن عربی وحدت الوجود کی بات کرتا ہے تو ظاہری مذہبی ذہن کو یوں لگتا ہے جیسے خالق اور مخلوق کے درمیان حدیں مٹ رہی ہیں۔

جب مولانا رومی بانسری، شراب، ساقی اور رقص کے استعاروں میں خدا سے گفتگو کرتا ہے تو واعظ پریشان ہو جاتا ہے۔

جب بلھے شاہ کہتا ہے:

“مسجد ڈھا دے، مندر ڈھا دے، ڈھا دے جو کچھ ڈھندا
پر کسی دا دل نہ ڈھاویں”

تو وہ صرف مذہبی عمارتوں کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوتا بلکہ پورے رسمی مذہبی شعور کو چیلنج کر رہا ہوتا ہے۔

اور پھر اقبال کو دیکھیے۔

محمد اقبال کے ہاں ابلیس محض لعنتی کردار نہیں۔

وہ ایک مکالمہ کرنے والا، دلیل دینے والا، اپنی منطق رکھنے والا کردار ہے۔

بال جبریل اور ضرب کلیم میں ابلیس بعض اوقات پورے عہد کے بارے میں ایسی بصیرت کا اظہار کرتا ہے جو فرشتوں کے حصے میں بھی نہیں آتی۔

سوال یہ ہے کہ عوام ان متون کو قبول کیوں کر لیتے ہیں؟

کیوں صدیوں سے لوگ بلھے شاہ گاتے ہیں؟

کیوں وارث شاہ کے ہیر کے اشعار درباروں، چوپالوں اور گھروں میں زندہ رہتے ہیں؟

کیوں رومی آج بھی لاکھوں دلوں کو چھوتا ہے؟

اور کیوں عوام اکثر ملاں، پنڈت، پادری یا براہمن کی ممانعت کے باوجود ان متون کو ترک نہیں کرتے؟

میرے خیال میں اس کی وجہ بہت گہری ہے۔

عوام فلسفیانہ اصطلاحات نہیں جانتے۔

وہ ژونگ نہیں پڑھتے۔

وہ فرائڈ یا ہیگل سے واقف نہیں ہوتے۔

لیکن ان کے پاس ایک وجدانی بصیرت ہوتی ہے۔

وہ محسوس کر لیتے ہیں کہ کون سا متن روح کے کسی زخم سے گفتگو کر رہا ہے اور کون سا متن محض اشتعال پیدا کر رہا ہے۔

صوفیانہ شطیحات کا مقصد مقدس کی تذلیل نہیں ہوتا۔

وہ مقدس کے ساتھ ایک اور سطح کا رشتہ قائم کرنے کی کوشش ہوتی ہیں۔

وہ دیوار نہیں گراتیں۔

وہ دیوار کے پیچھے موجود افق کو دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

بلھے شاہ مسجد اور مندر کو رد نہیں کرتا۔

وہ دل کی مرکزیت کو دریافت کرتا ہے۔

رومی خدا کا انکار نہیں کرتا۔

وہ خدا کو فقہی تعریفوں سے بڑا بنا دیتا ہے۔

ابن عربی عقیدے کو تباہ نہیں کرتا۔

وہ وجود کے اندر اس کی گہرائی تلاش کرتا ہے۔

حتیٰ کہ حلاج بھی خدا کا انکار نہیں کرتا۔

وہ خدا کے ساتھ ایسی قربت بیان کرتا ہے جسے رسمی مذہبی زبان برداشت نہیں کر پاتی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں عظیم عرفانی ادب اور محض اشتعال انگیز تحریر کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔

ایک متن قاری کو اپنے وجود کی گہرائی میں لے جاتا ہے۔

دوسرا متن قاری کو اپنے مخالف سے نفرت کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

ایک متن سوال پیدا کرتا ہے۔

دوسرا محاذ آرائی۔

ایک متن روح کو وسیع کرتا ہے۔

دوسرا صرف ردعمل پیدا کرتا ہے۔

اسی لیے عوامی حافظے نے صدیوں تک صوفیوں، سنتوں، جوگیوں اور بھگتی شاعروں کو محفوظ رکھا۔

اس لیے نہیں کہ وہ ہمیشہ مذہبی مقتدرہ کے پسندیدہ تھے۔

بلکہ اس لیے کہ وہ انسان کے اس باطنی تجربے سے جڑے ہوئے تھے جسے کوئی فتویٰ، کوئی فرمان اور کوئی سنسرشپ مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی۔

عوام آخرکار اس ادب کو بچا لیتے ہیں جس میں انہیں اپنا دل دھڑکتا ہوا سنائی دیتا ہے۔

اور وہ ادب، چاہے کتنا ہی شور مچائے، تاریخ کی گرد میں گم ہو جاتا ہے جس میں صرف مصنف کا غصہ بولتا ہو، انسان کی روح نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں