وہ رات جب نیند ہار گئی/محمد علی افضل

ابھی آنکھ بند ہوئی تھی اور میٹھی نیند کی گود میں تھا کہ ہلکی ہلکی سرسراہٹ کی آواز آئی ۔جیسے ہولے سے چلتی ہوئی بادِ نسیم کاغذ پَتر کو کھڑکھڑائے۔مگر کتابیں تو دوسرے کمرے میں ہیں یہ ضرور خواب ہے۔ لیکن اگر خواب ہے تو منظر کیوں نہیں ؟ صرف آواز ہے۔
یہ کیسا ریڈیو خواب ہے۔ چلو صبح اس پر سوچوں گا۔ ابھی سوتا ہوں۔ پھر وہی کھڑ کھڑ۔ کررر کرڑ۔ کڑ۔ کڑ۔

کتاب کھلی رہ گئی۔ لیکن کونسی کتاب؟ میری روم میٹ تو کتابیں پڑھتی نہیں۔ پھر یہ میری ہی کوئی کتاب کون یہاں پھینک گیا؟ گھپ اندھیرا ہے۔ چلو جانے دو۔ سوتے ہیں۔ اب کے میری پنڈلی پر کسی نے چھوا۔ گدگدی سی ہوئی۔ میں نے کھیس اور اوپر کھینچ لیا۔ پھر سے وہی کرڑ کررکر کڑ۔

یاخدا۔ پہلے اس کتاب کو ٹھکانے لگاتا ہوں۔ موبائل کی بتی جلا کر اندھیرے میں ادھر ادھر دیکھا۔ سامنے ایک چوہا دروازے کے تلوے کو کاٹنے میں مشغول ہے۔ یہ آواز اسی کی تھی۔
مونہہ اس کا باہر کو ذرا زیادہ نکلا ہوا ۔ یعنی چھچھوندر ۔یعنی ہائیبرڈ سسٹم کی پیداوار۔

اب کیا کروں؟ نیند ہوا ہوگئی۔ اللہ سے ڈر نہیں لگتا لیکن چوہے سے بہت لگتا ہے۔ روم میٹ کو جگایا ۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور دیکھتے ہی اس کے منہ سے جو آخری الفاظ سنے گئے وہ یہ تھے۔ ہائیں۔ وئی۔
اس کے بعد مجھے معلوم تھا کہ فلک شگاف چیخ نکلے گی لہذا بجلی کی سی تیزی سے میرا ہاتھ اس کے منہ پر مضبوطی سے ایسے فکس ہوا کہ کہیں سے چیخ باہر نہ نکل سکے۔

چوہے کی حالت اس وقت اس مشہور پاگل کی سی تھی جو جنگ تو چھیڑ بیٹھے مگر اس سے باہر نہ نکل پا رہا ہو۔ وہ بھی بوکھلا کر ادھر ادھر منہ مار رہا تھا۔ واپسی کا راستہ مگر نہ تھا۔ اسے مرنا تھا۔

کڑکی کہاں ہے؟

میں نے سرگوشی میں پوچھا۔

اوم۔

میں نے جواباً کہا۔ ہاں ہری اوم۔ ہری اوم۔ لیکن کڑکی کہاں ہے؟

اومممم۔ ہیں؟ یہ کیا۔ منہ سے ہاتھ تو ہٹایا نہیں۔

شششی کر کے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ پھر دھیرے سے ہاتھ ہٹایا۔

سیڑھیوں کے نیچے پڑی ہے۔ لینے جاؤ گے تو یہ بھاگ جائے گا۔ رات کو ہمیں کاٹے گا۔ رندھی ہوئی آواز میں روم میٹ نے سرگوشی کی۔

اور ڈنڈا؟
وہ اوپر پڑا ہے۔ لیکن جاؤ گے کیسے۔ ؟ دروازہ کھولو گے؟ نہیں نہیں۔ میں نہیں۔ ہائے میری بچی۔ ہم یہاں نہیں بیٹھیں گے اکیلے۔ ہمیں ساتھ لے کر جاؤ. .

اب کیسے بتاؤں کہ جو تیرا حال ہے وہ میرا حال ہے۔
اچھا میں ڈنڈا لاتا ہوں۔ لیکن مارنا تم۔
نن ننہیں نہیں۔ پاگل ہو کیا۔

اچھا ہٹو آرام سے جاتا ہوں۔ جیسے ہی اٹھا ہوں وہ پلید سُرک کر کے دروازے کی اوٹ سے پیچھے تنگ گیلری میں قید ہوگیا۔

اہل و عیال نے تامل فلموں والا جمپ مارا اور وہ سامنے کے صوفے پر۔

اوپر سے ڈنڈا تو میں لے آیا۔ ماروں کیسے؟

بہت منتیں کی۔ مگر کچھ پیش نہ گئی۔

ویسے تو بڑی دلیر ہو۔ ہاں میں ہوں لیکن ممم میں نہیں ہوں۔

اچھا۔ چلو۔ گیلری کا دروازہ کھولا ۔ فلموں کی طرح ڈنڈا بندوق کی طرح پکڑے فوراً میں نے سچ میں کہا ہینڈز اپ !!!
وہ ملعون واشنگ مشین کے پیچھے سے نکلا اور اس نے میری شلوار کی سمت دوڑ لگا دی۔

میرا دل زندگی میں کئی بار اچھل کر حلق میں آیا تھا لیکن جیسے ہی اس نے میرے پائینچے کو چھوا تو معلوم ہوا صرف دل ہی حلق میں نہیں آیا کرتا۔

خدا جانے کیسے میرا ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور جیسے کوئی برق کوندے ڈنڈا اس کی تھوتھنی پر پڑا۔
وہیں ڈھیر ہوگیا۔

مر گیا ۔ مرگیا۔

خس کم جہاں پاک۔

میری سانسیں تو پندرہ منٹ میں بحال ہوگئیں لیکن وہ جاتے جاتے میری روم میٹ کا پندرہ سال کا جاہ و جلال اپنے ساتھ لیتا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں