کربلا’ڈاکٹر علی شریعتی اور شہید مرتضی مطہری کی نظر میں/ شیر علی انجم

کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ابدی پیغام ہے جو ہر عصر میں انسانیت کو ظلم کے خلاف قیام، انصاف کی جدوجہد اور شہادت کے فلسفے کی طرف بلاتا ہے۔ اہل تشیع کے نظریے کی بنیاد پر، امام حسین علیہ السلام کا قیام اسلام کی بقا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عملی مظہر ہے۔ تاہم آج کے منبروں پر اکثر اس کے ثواب اور فضائل پر زور دیا جاتا ہے جبکہ اس کے انقلابی، سیاسی اور فلسفیانہ پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی اور شہید مرتضی مطہری جیسے مفکرین نے کربلا کو ایک زندہ قیام کے طور پر پیش کیا ہے، نہ کہ صرف ماتم کی رسم۔
ڈاکٹر علی شریعتی نے کربلا کو شیعیت کے دو رخوں سرخ شیعیت (علوی تشیع) اور سیاہ شیعیت (صفوی تشیع) کے تناظر میں بیان کیا۔ سرخ شیعیت یعنی شہادت، مزاحمت، انصاف اور انقلاب کا مذہب ہے، جبکہ سیاہ شیعیت ماتم، سوگ اور غیر فعال عزاداری کا مذہب بن گیا ہے۔
ڈاکٹر علی شریعتی کے مطابق شیعیت کی ابتدا حضرت علی علیہ السلام کے نہیں سے ہوئی، جو ظلم اور جبر کے خلاف تھا۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار کر کے تاریخ کے اس عجیب راستے کے خلاف بغاوت کی جس میں خلافت اور حکومت اہل بیت سے چھین لی گئی۔ سرخ شیعیت خونِ شہادت کا رنگ ہے یہ مزاحمت، قربانی اور مظلومین کی آواز ہے۔ امام حسین کا قیام خون کا انقلاب ہے جو ہر دور میں ظالموں کو چیلنج کرتا ہے۔ جس کی تازہ مثال ایران ہے۔
ان کا مشہور نعرہ ہے کہ ہر جگہ کربلا، ہر مہینہ محرم، ہر دن عاشورا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کربلا ایک ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کا نمونہ ہے۔ صفوی دور میں تشیع کو دربار کی سرپرستی میں سیاہ تشیع میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور صرف رونے، ماتم اور رسمی رسومات تک محدود کر کے اس کے انقلابی جذبے کو ختم کر دیا گیا تھا ۔
ڈاکٹر علی شریعتی کہتے ہیں کہ آج بھی کربلا کا اصل پیغام عوام کو جوش دلانے اور ثواب کمانے تک محدود رکھا جاتا ہے، جو روحِ عزاداری کے خلاف ہے۔ یہ عوام کو حقیقی فلسفہ کربلا سے دور رکھتا ہے۔
ڈاکٹر علی شریعتی کربلا نے کو سماجی انصاف، استکبار کے خلاف مزاحمت اور توحید کی جدوجہد سے جوڑا گیا ہے۔ ان کے نزدیک امام حسین کا خون یزیدیت (ظلم کی نمائندگی) کو بے نقاب کرتا ہے اور ہر دور کے مظلومین کو بیدار کرتا ہے۔
اسی طرح اگر ہم کربلا کو شہید مرتضی مطہری کی نظر سے دیکھیں تو شہید مرتضی مطہری، جو ایک فلسفی، فقیہ اور انقلابی مفکر تھے، نے کربلا کو ایک حماسہ کے طور پر بیان کرتے ہیں ۔ ان کی کتاب حماسہ حسینی میں کربلا کا فلسفہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
شہید مطہری کے مطابق امام حسین علیہ السلام کا قیام اصلاح امت،مر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نتیجہ تھا۔ یزید کی حکومت میں اسلام کے بنیادی اصولوں (توحید، عدل، اخلاق) کی دھجیاں اڑ رہی تھیں۔ امام حسین علیہ السلام نے بیعت سے انکار کر کے یہ واضح کر دیا کہ ظالم حکمران کی اطاعت جائز نہیں۔ یہ ایک سیاسی اقدام بھی تھا کیونکہ یہ اموی خلافت کی جبریت اور فساد کے خلاف بغاوت تھی۔ لیکن آج ہم بڑے سے بڑے عالم کو ظالم جابر حکمرانوں کی دسترخوان سے اٹھ کر کربلا کو بیان کرتے دیکھتے ہیں ۔
شہید مطہری فرماتے ہیں کہ شہادت کو صرف ماتم کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ شہید وہ ہے جو شعوری طور پر حق کے لیے جان دیتا ہے۔یہ موت سے بڑھ کر زندگی ہے۔ کربلا کا پیغام یہ ہے کہ جب حق پر عمل نہ ہو رہا ہو اور باطل غالب آ رہا ہو تو قیام ضروری ہے، چاہے نتائج کتنے ہی دردناک ہوں۔ ان کے نزدیک عزاداری کا مقصد شہید کے انقلاب میں شریک ہونا ہے، نہ کہ صرف آنسو بہانا۔ یہ معاشرے میں روحانی تبدیلی پیدا کرتی ہے جو حقیقی اصلاح کا باعث بنتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں کربلا کی رسومات میں ہر سال جدت آتا ہے لیکن فلسفہ کربلا مسلسل عوام سے دور ہوتا جارہا ہے جسکا اصل زمہ دار وہ صاحبان منبر ہیں جو کربلا برائے انقلاب کے بجائے کربلا برائے ثواب اور جنت کی چابی کے طور پر بیان کرتے ہیں ۔
شہید مرتضی مطہری نے تحریفات عاشورا پر بھی تنقید کی جیسے صرف مظلومیت پر زور دینا جبکہ امام علیہ السلام کا قیام ایک فعال، شعوری اور سیاسی جدوجہد تھی۔ کربلا کا فلسفہ انسانی اقدار (عدل، آزادی، سچائی) کا تحفظ ہے۔
پس ہمیں سبق یہ ملا کہ کربلا قیام ہے، رواج نہیں اور ڈاکٹر علی شریعتی اور شہید مرتضی مطہری دونوں کربلا کو ایک زندہ، انقلابی اور سیاسی پیغام کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ آج منبروں پر صرف فضائل اور ثواب پر توجہ اس پیغام کو کمزور کر رہی ہے، جو معاشرے کو حقیقی تبدیلی سے دور رکھتا ہے۔ حالانکہ عزاداری کا مقصد بیداری، مزاحمت اور انصاف کی جدوجہد ہے۔
امام حسین علیہ السلام کا خون آج بھی ہمیں پکار رہا ہے: ہر زمین کربلا بناؤ، ہر دن عاشورا۔ صرف ماتم نہیں، قیام کرنا سیکھیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں