پاکستان میں صنفی توازن اور موسمیاتی تبدیلی/ ڈاکٹر جواد ریاض

انسانی بقا انسان کے لیے ہمیشہ سب سے اہم مسئلہ رہا ہے۔ پہیہ کی ایجاد سے ایٹم بم کی اصطلاح تک انسانی فکر کبھی اس اہمیت سے باہر نہیں نکل سکی ۔ مگر اس تگ و دو میں آج انسان اپنے ہی ہاتھوں خود کو ان گنت خطرات سے دوچار کر چکا ہے۔ جنگیں، ایٹمی ہتھیار، دہشت گردی، وبائیں، خوراک اور پانی کی کمی، اور مصنوعی ذہانت کے بے قابو استعمال جیسے مسائل عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔ مگر موسمیاتی تبدیلی ان تمام خطرات میں سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی زمین کے درجہ حرارت، بارشوں کے نظام، موسموں کے دورانیے اور قدرتی آفات میں طویل المدتی تغیرات ہیں۔ جو انسانی بقا کے لیے خطرناک بحرانی کیفیت پیدا کر چکی ہیں۔ ان تغیرات کی سب سے بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں، خاص طور پر کوئلہ، تیل اور گیس جیسے ایندھن کا استعمال، جنگلات کی کٹائی، اور صنعتی آلودگی۔ ان سرگرمیوں سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دیگر گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے، جو زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ جسکی وجہ سے قدرتی موسمیات میں ایسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو انسانی بقا کو خطرات سے دوچار کر رہی ہیں۔

1994 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی مسائل انسانی بقا کے لیے پانچواں بڑا خطرہ تھے مگر آج اقوامِ متحدہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ہمارے دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج ہے۔ شدید گرمی، خشک سالی، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندری سطح میں اضافہ، اور غیر متوقع بارشیں دنیا بھر میں انسانی زندگی، معیشت اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

سب سے بڑی ناانصافی یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا شکار وہ ممالک زیادہ ہیں جن کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ نہایت کم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک صنعتی انقلاب سے لے کر آج تک سب سے زیادہ کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں مگراس بحران کی سب سے بھاری قیمت کم ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک ادا کر رہے ہیں۔ کیونکہ تابکاری کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے کوئی سرحد ہے نہ فضا اور ہوا کو روکا جا سکتا ہے۔ یہیں سے موسمیاتی ناانصافی کا آغاز ہوتا ہے۔ ترقی پذیر یا کم ترقی یافتہ ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے ہونے اور کمزور انفراسٹرکچر کی وجہ سے تباہ کن موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔

پاکستان اس کی واضح مثال ہے۔ پاکستان دنیا کے مجموعی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کا ذمہ دار ہے، مگر موسمیاتی تبدیلی کی بدولت سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2022 کے تباہ کن سیلاب کے باعث پاکستان اس سال موسمیاتی تبدیلیوں کی بدولت سب سے ذیادہ متاثر ہونے والا ملک تھا۔

2022 میں پاکستان میں آنے والا مون سون سیلاب ملکی تاریخ کے بدترین قدرتی سانحات میں شمار ہوتا ہیے۔ حکومت پاکستان کے شماریاتی اندازوں کے مطابق 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، 1700 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں، لاکھوں گھر تباہ ہوئے، اور 30 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا۔ سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

لیکن اس بحران کا ایک اور بھی پہلو ہے جس پر کم بات ہوتی ہے: موسمیاتی تبدیلی خواتین کو مردوں کی نسبت زیادہ متاثر کرتی ہے۔ پاکستان جیسے معاشروں میں خواتین پہلے ہی محدود وسائل، کم معاشی آزادی، محدود نقل و حرکت، اور صحت کی سہولیات تک محدود رسائی کا سامنا کررہی ہیں۔ ایسے معاشرے جہاں پہلے سے ہی صنفی توازن کے معاملات زیادہ حوصلہ افزا نہ ہوں وہاں جب سیلاب، خشک سالی یا شدید گرمی کی لہر آتی ہےتوخواتین مردوں کی نسبت زیادہ متاثر ہوتیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق 2022 کے سیلاب کے دوران تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار حاملہ خواتین متاثرہ علاقوں میں موجود تھیں، جن میں ہزاروں ایسی تھیں جن کے ہاں ولادت آئندہ چند ہفتوں میں متوقع تھی۔ سیلابی پانی، تباہ شدہ سڑکیں، اور تباہ شدہ ہسپتال ان میں سے بہت سی خواتین کے لیے جان لیوا ثابت ہوئے۔

اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا کہ خواتین سیلاب کے دوران زیادہ خطرات سے دوچار رہیں۔ انہیں محفوظ رہائش، صفائی سے متعلق بنیادی اشیا، طبی سہولیات، اور ذاتی بقاجیسی بنیادی ضروریات تک رسائی میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

دیہی پاکستان میں خواتین پانی، ایندھن اور خوراک کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ جب خشک سالی یا سیلاب آتا ہے تو یہی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ پانی دور سے لانا پڑتا ہے، خوراک کی قلت بڑھتی ہے، اور بچوں کی دیکھ بھال کا بوجھ بھی انہی پر آتا ہے۔ قدرتی آفات کے باعث اکثر مردوں کو روزگار کی تلاش میں دور دراز جانا پڑتا ہے تو خواتین خاندان کی واحد کفیل رہ جاتی ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں خواتین پر مشتمل خاندانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مردوں کے مقابلے میں زیادہ معاشی نقصان پہنچتاہے۔ ان کے روزگار کے مواقع مزید محدود ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا ایک انتہائی تشویشناک سماجی پہلو سندھ میں سامنے آ رہا ہے۔ بارشوں اور سیلاب کے بعد جب روزگار ختم ہوتا ہے، فصلیں تباہ ہوتی ہیں، اور خوراک مہنگی ہو جاتی ہے توسیلاب زدہ اضلاع میں غربت، بے گھری، اور معاشی تباہی کے باعث کئی خاندان مالی معاونت کے عوض اپنی کم عمر بیٹیوں کی جلد شادیاں کر رہے ہیں۔
یہ صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا بحران بھی ہے۔ کم عمری کی شادیاں لڑکیوں کی تعلیم روک دیتی ہیں، ان کی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں اور انکی اموات کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی۔ یہ خوراک، صحت، معیشت اور انسانی بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان میں یہ بحران ایک صنفی حقیقت اختیار کر چکا ہے، جہاں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے، موسمیاتی موافقت، اور سماجی تحفظ کی پالیسیاں مرتب کرتے ہوئے خواتین کے مسائل مدنظر رکھے ۔ محفوظ پناہ گاہیں، خواتیں کے لیے صحت اور تعلیم کی سہولیات اور روزگار کے ذرائع جیسے پہلووں کو موسمیاتی حکمت عملی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

موسمیاتی تبدیلی صرف موسموں کی تبدیلی نہیں بلکہ انسانی زندگیوں، معاشروں اور مستقبل کی تشکیل نو کا سوال ہے۔ اگر دنیا نے فوری، منصفانہ اور خواتین دوست اقدامات نہ کیے تو اس بحران کی سب سے بھاری قیمت خواتین، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی خواتین، ادا کرتی رہیں گی۔ آج سوال یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی حقیقی ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس بحران کے لیےکتنے تیار ہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں