تھوڑی پابندی، تھوڑی آزادی
افسانہ۔۔۔حامد یزدانی
جیسے ہی میں اپنا دفتر کا لیپ ٹاپ آن کرتا ہوں، سولہ انچ کی ہائی ریزولیوشن سکرین پر جوڈی لارسن ابھرتی ہے، سیدھے سنہری بال، وی نیک شرٹ کے گلابی رنگ سے ہم آہنگ لپ اسٹک، اور پس منظر میں رکھے ٹیولپ کے پانچ گل رنگ پھول۔ اس کی غزال آنکھیں یوں لگتی ہیں جیسے براہِ راست مجھ ہی کو دیکھ رہی ہوں۔ شاید ہر دیکھنے والا یہی سمجھتا ہو۔ شاید ہر سکرین کے سامنے بیٹھا شخص اسی خوش گمانی میں مبتلا ہو کہ جوڈی کا شفاف لہجہ اسی سے مخاطب ہے، اس کی آواز کا اتار چڑھاؤ، اس کے احتیاط سے چُنیدہ الفاظ ، تاریخی اورا دبی حوالوں سے سجی اس کی گفتگو،سب اسی کے لیے ہیں۔
موضوع تکلیف دہ ہے “کووڈ 19 کی عالمی وبا کے اثرات ‘‘ مگر اس وقت یہ تکلیف دہ موضوع بھی مجھے عجیب راحت دے رہا ہے۔ جوڈی کے لبوں سے آزاد ہونے والے الفاظ نیٹ کا طویل سفر طے کر کے چند سیکنڈ بعد مجھ تک پہنچتے ہیں، مگر اس کی پلکوں کی جنبش جیسے فوراً ہی میرے سامنے آ جاتی ہے۔ یہ تضاد عجیب ہے، جیسے وقت دو مختلف رفتاروں میں چل رہا ہو۔
وہ کہتی ہے: “ہماری زندگی یکسر بدل گئی ہے۔ نہ پہلے والے طور طریقے رہے، نہ انداز۔ سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے، باہر بھی، اندر بھی۔”
وہ لمحہ بھر رُکتی ہے، جیسے دوڑ میں شامل کوئی ایتھلیٹ سانس برابر کر رہا ہو۔ پھر اس کی آواز دوبارہ رفتار پکڑتی ہے:
“یہ رکاوٹ معمول کا حصہ نہ تھی۔ اچانک کیوں آ گئی؟ ہم دوڑ کیوں رہے تھے؟ منزل کیا تھی؟ قواعد کس نے بنائے؟ اور ہم نے کبھی پوچھا بھی تھا؟”
اس کے سوالات ایک ایک کر کے ابھرتے ہیں، جیسے کسی سمفنی کے سُر آہستہ آہستہ بلند ہوتے جائیں۔ نہ کوئی جنگ، نہ کوئی لاؤلشکر۔۔۔محض ایک نادیدہ دشمن جس نے زندگی کو ٹھٹھکا دیا۔ کووِڈ 19 کی یہ رکاوٹ ہمیں پہلی بار ٹھہر کر سوچنے کا موقع دے رہی ہے۔
“میرے نزدیک اس لمحے کا عنوان ہے۔۔۔ ’اجازت‘۔” جوڈی کہتی ہے۔ “مادر پدر آزادی نہیں،صرف یہ اختیار کہ ہم اپنے کاموں، اپنے معمولات کو نئے ڈھنگ سے سوچ سکیں۔ یہ لمحہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم پرانی ڈگر سے ذرا ہٹ کر دیکھیں۔”
ویبینار کے پہلے دس منٹ وہ کسی کو بولنے نہیں دیتی۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ ایک وسیع اسکرین پر تنہا دوڑ رہی ہو، اور باقی سب کردار منجمد ہوں۔ اس کی رفتار، اس کا لہجہ، اس کی ترتیب،سب کچھ اس کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں بیٹھے شرکا صرف لِسننگ موڈ میں ہیں۔ جوڈی انہیں بولنے کی اجازت دے گی،مگر اپنی فتح کے اعلان کے بعد۔
میں سوچتا ہوں: کچھ تو بدل گیا ہے۔ وبا نے ٹیکنالوجی کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ زندگی ورچوئل ہو گئی ہے،ڈاکٹر، کالج، خریداری، عبادت،سب آن لائن۔ دفتر بھی آدھا کھلا ہے، آدھا بند۔تین دن دفتری عمارت میں، دو دن گھر سے۔ ماسک کہیں اب بھی ضروری ہےاور کہیں نہیں۔۔۔ تھوڑی پابندی، تھوڑی آزادی۔
جوڈی اور اس جیسے ماہرین جسمانی دُوری کی احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے تئیں وبا کے چیلنج کو قبول کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں انسان نے کچھ نہ کچھ جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔
کیا واقعی؟ ۔۔۔میں ابھی تک سوچ رہا ہوں۔
سکرین پر جوڈی قدم قدم اپنی کامیابی کے زبانی پرچم لہرا رہی ہے۔ اس کی صورت تبھی ہٹتی ہے جب کوئی سلائیڈ ابھرتی ہے،اعداد و شمار، گرافکس، تصاویر۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ اس حادثاتی موقع کو خوش حالی کا ضامن بنانے کی دعوت دے رہی ہے۔
“ہمیں اس غیر معمولی دور میں خود کو وہ کچھ کرنے کی اجازت دینی چاہیے جو پہلے کے عام دنوں میں نہیں کر سکے۔یہ اختیار ہمیں ضرور دینا چاہیے کہ ہم پرانی ڈگر سے ہٹ کر سوچ سکیں۔”
میں جانتا ہوں کہ ساٹھ منٹ کے بعد سوالات کا سلسلہ شروع ہو گا۔ شرکا باری باری ہاتھ اٹھائیں گے، جوڈی اعتماد سے جواب دے گی، وقت کم ہو گا، اور وہ جلدی جلدی سب کا شکریہ ادا کرے گی۔ ای میل ایڈریس والی سلائیڈ چند لمحوں کے لیے سکرین پر ٹھہری رہے گی، پھر وہ اعلان کرے گی کہ ویبینار کی ریکارڈنگ بعد میں دستیاب ہو گی۔ ایک کلک کی آواز آئے گی، اور سکرین پر کھلی ونڈو اچانک غائب ہو جائے گی۔
میں لیپ ٹاپ کی سکرین پر خالی جگہ کو دیکھتے ہوئے اپنی دفتری ای میل کھولوں گا اور حسبِ معمول اپنی مینیجر کو لکھوں گا:
۔۔۔۔۔
سہ پہر کا آداب،
ابھی ویبینار سے فارغ ہوا ہوں۔ خوب تھا۔ بہت سی نئی معلومات حاصل ہوئیں۔ جوڈی کا اندازِ پیش کش مؤثر تھا۔ اس نے موضوع کے ساتھ انصاف کیا۔ تاریخ اور عصرِ حاضر سے مثالیں دے کر گفتگو کو مضبوط بنایا۔ سوال و جواب میں بھی عمدہ جوابات دیے۔ یہ ویبینار شعبے کے دیگر کارکنوں کے لیے بھی مفید ہو سکتا ہے۔ دیگر یہ کہ ضروری فائلیں آج سہ پہر تک نمٹا لی جائیں گی تاکہ کل سے سالانہ رپورٹ پر پیش رفت ہو سکے۔ اس موقع کی فراہمی کا شکریہ۔
میں اپنا نام لکھوں گا، اور تھوڑی ہی دیر میں کمپیوٹر پر نئی ای میل کی دھیمی سی گھنٹی بجے گی۔ یہ میری مینیجر کا جواب ہو گا:
۔۔۔۔۔
ہیلو ڈیئر،
مجھے خوشی ہے کہ آپ نے تربیت کے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اسے پسند بھی کیا۔ ہم ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے عملے کو ایسے مواقع فراہم کریں جو ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں مددگار ثابت ہوں۔ امید ہے آپ کا باقی دن بھی اچھا گزرے گا۔ مصروفیات سے آگاہ رکھنے کا شکریہ۔
مینیجر شعبۂ خدمات
۔۔۔۔۔
اس جواب کا ایک ایک لفظ مجھے ازبر ہے، پھر بھی میں اسے شروع سے آخر تک پڑھوں گا۔ ای میل کے اوپر دائیں کونے میں چھپے انگوٹھے والے ایموجی پر کلک کر کے اپنی پسندیدگی کا علامتی اظہار ریکارڈ کرواؤں گا۔
پھر میری نظر دفتری فون کی سکرین پر جائے گی۔ کہیں کوئی تازہ پیغام تو منتظر نہیں؟ کتنی کالز مِس ہو چکی ہیں؟ ویبینار کے دوران میں، مجھے فون سائیلنٹ کرنا پڑاتھا، اس لیے اب میں اس کی گھنٹی آن کردوں گا۔
نئے پیغامات میں فوری نہیں سنوں گا۔ پہلے مجھے استقبالیہ پر بیٹھی جینی کو اطلاع دینا ہو گی کہ میں فارغ ہوں اور اگر کوئی مجھ سے ملنے آئے تو مجھے بتا سکتی ہے۔
جینی سے بات ختم کرتے ہی میں فون پر موصول ہونے والے پیغامات سنوں گا اور زرد رنگ کے چوکور چپکنے والے ٹیگز پر فون کرنے والوں کے نام، نمبر، اور مقصد لکھتا جاؤں گا تاکہ سب کو باری باری جواب دے سکوں۔
پھر میں دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف لوٹوں گا۔ ای میلز دیکھوں گا۔
کچھdelete،، کچھFlag، کچھUnread چھوڑوں گا۔
یہ سب ایک روزمرہ کی مشینری ہے، ایک ایسا سلسلہ جو نہ رکتا ہے، نہ بدلتا ہے، بس چلتا رہتا ہے۔
اب مجھے جلدی کرنا ہو گی۔ لنچ کا وقفہ ہونے والا ہے۔ فون کالز لنچ کے بعد تک مؤخر کرنا ہوں گی کیونکہ اگلے چند لمحوں میں میرے ہم کار ڈیوڈ اور یاسمین شیشے کے شفاف دروازے کے سامنے کھڑے مجھے باہر نکلنے کا اشارہ کر رہے ہوں گے۔
ہمیں اس نئے صومالی ریستوران جانا ہے جس کے بارے میں یاسمین کا کہنا ہے کہ وہاں کی ڈِش چکن کینجیرو بہت لذیذ ہے۔ وہ ویک اینڈ پر اپنی فیملی کے ساتھ وہاں گئی تھی اور آج مجھے اور ڈیوڈ کو اس کی پسند کی تصدیق کرنا ہے۔
لیجیے، دو چہرے نمودار ہو گئے ہیں شیشے کے دروازے کے اس پار۔
وہ چہرے ہیں… یا عکس؟
یہ سوال تو مجھے جوڈی لارسن سے پوچھنا چاہیے تھا، کیونکہ وہی ہے جس کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ مگر تب میں نے پوچھا نہیں۔
اور اب۔۔۔ اب مجھے اختیار حاصل نہیں، نہ سوال کا، نہ انکار کا، نہ تاخیر کا۔
میں کرسی سے اٹھتا ہوں۔ فون کی گھنٹی اب بھی اونچی ہے، مگر میں اسے نظرانداز کرتا ہوں۔ ای میلز کے آئیکنز اب بھی چمک رہے ہیں، مگر میں انہیں کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ زرد چپکنے والے ٹیگز پر لکھے نام اب بھی میز کے کنارے سے جھانک رہے ہیں، مگر میں ان کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا۔
لنچ کا وقت ہو چکا ہے۔ اور لنچ کا وقت، وبا کے بعد کی دنیا میں، ایک عجیب طرح کی اجتماعی رسم بن گیا ہے۔ جیسے ہم سب ایک ہی رفتار میں چلنے پر مجبور ہوں، ایک ہی وقفے میں کھانے پر، ایک ہی لمحے میں اٹھنے پر، ایک ہی طرح کے اشاروں کی تعمیل کرنے پر۔
میں دروازے کی طرف بڑھتا ہوں۔ ڈیوڈ مسکرا رہا ہے۔ یاسمین ہاتھ کے اشارے سے جلدی کرنے کو کہہ رہی ہے۔ ان کے چہروں پر روشنی پڑتی ہے، اور مجھے پھر شک ہوتا ہے—،یہ چہرے ہیں یا عکس؟ یہ لوگ ہیں یا ان کی پیشہ ورانہ مسکراہٹیں؟ یہ دنیا ہے یا اس کا ورچوئل سایہ؟
ہم تینوں لفٹ کی طرف چلتے ہیں۔ لفٹ کے آئینے میں ہماری تصویریں ایک دوسرے میں گھلتی جاتی ہیں،جیسے تین الگ انسان نہیں، بلکہ ایک ہی رفتار، ایک ہی نظام، ایک ہی مشینری کے پرزے ہوں۔
لفٹ کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ ایک ہلکے جھٹکے کے ساتھ ہم نیچے اترنے لگتے ہیں۔ لفٹ کی خاموشی میں مجھے جوڈی لارسن کی آواز یاد آتی ہے:
“یہ لمحہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم پرانی ڈگر سے ہٹ کر سوچ سکیں۔۔۔”
میں سوچتا ہوں: کیا واقعی؟ کیا مجھے اجازت ہے؟ کیا مجھے اختیار ہے؟ یا یہ سب محض الفاظ تھے،،خوبصورت، چمکدار، مگر حقیقت سے دور؟
ریستوران تک کا راستہ ایک لمبی، سیدھی، خاموش راہداری ہے۔ ہم تینوں چل رہے ہیں، مگر قدموں کی آواز کہیں گم ہو جاتی ہے۔ جیسے ہم چل نہیں رہے، بس حرکت کر رہے ہیں،
ایکpredetermined راستے پر،ایکpredetermined رفتار سے۔
ریستوران کے دروازے پر پہنچ کر یاسمین خوشی سے کہتی ہے: “تم دونوں کو چکن کینجیروضرور پسند آئے گی!”
میں مسکراتا ہوں۔ یا شاید صرف مسکرانے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ آخری بار میں نےکب کسی ذائقے کو واقعی محسوس کیا تھا یا کھانے کی رسم ادا کی تھی۔
ہم بیٹھتے ہیں۔ ویٹر آرڈر لیتا ہے۔ یاسمین باتیں کر رہی ہے۔ ڈیوڈ سر ہلا رہا ہے۔ میں سن رہا ہوں، یا شاید صرف سننے کا تاثر دے رہا ہوں۔
اور اچانک، ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب سب کچھ ٹھہر جاتا ہے۔
ریستوران کی آوازیں پس منظر میں دھندلا جاتی ہیں۔ روشنی مدھم ہو جاتی ہے۔ اور مجھے احساس ہوتا ہے:
میں اب بھی وہی کر رہا ہوں جو صبح سے کر رہا تھا، جو کل کیا تھا، جو پرسوں کیا تھا، جو شاید کل بھی کروں گا۔
میں ایک ایسی دوڑ میں شامل ہوں جس کی منزل مجھے معلوم نہیں۔ ایک ایسی رفتار میں جس پر میرا اختیار نہیں۔ ایک ایسے نظام میں جہاں پابندی بھی ہے، اور آزادی بھی، مگر دونوں ادھوری، دونوں مشروط، دونوں نامکمل۔
میں یاسمین کی طرف دیکھتا ہوں۔ پھر ڈیوڈ کی طرف۔ پھر اپنی پلیٹ کی طرف۔ اور پھر اچانک،مجھے جوڈی لارسن کی آنکھیں یاد آتی ہیں، سکرین کے اس پار سے مجھے دیکھتی ہوئی آنکھیں۔
کیا وہ واقعی مجھے دیکھ رہی تھیں؟ یا میں صرف دیکھے جانے کی خواہش میں یہ سب سمجھ بیٹھا تھا؟
میں گہری سانس لیتا ہوں۔
اور مجھے پہلی بار پورے دن کی حقیقت سمجھ آتی ہے:
مجھے اختیار حاصل نہیں، نہ سوال کا، نہ انکار کا، نہ تاخیر کا۔
مجھے جانا ہو گا۔ جی، ابھی۔ اسی وقت۔۔۔کیونکہ میری زندگی بھی اسی طرح معلق ہے،
تھوڑی پابندی، تھوڑی آزادی کے بیچ کہیں ۔
——————-



بہت شکریہ، احمد رضوان بھائی
ممنون ہوں۔
بہت خوبصورت، نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ ۔ نپا تلا۔ پوسٹ ماڈرن عہد میں میں انسان کے وجود و اختیار سے جڑا کلیدی سوال ۔ ضیاء الحسن
شاہدہ حسن صاحبہ کی رائے:
“کیسی سچی اور زندگی کے تازہ ترین شب و روز سے جُڑی ہوئی تحریر ہے ۔ آنے والے وقت کی آہٹوں سے سجی اور نت نئے اندیشوں اور انجانے خوف میں لپٹی ۔۔مگر کمال یہ ہے کہ ان سب کے باؤجود کہیں بوجھل پن نہیں ہے ۔ ہم میں سے بیشتر کے گھروں میں ہو بہو انھی منظروں میں گھری صبح طلوع ہوتی ہے ۔ آپ کی نثر خوبصورت ہے اور بیانیہ دلچسپ۔۔ داد قبول کریں۔”