کچھ واقعات تاریخ کے صفحات میں دفن نہیں ہوتے، وہ وقت کی گرد سے نہیں ڈھکتے بلکہ ہر نئے دن کے ساتھ اور زیادہ روشن ہو جاتے ہیں۔ کربلا بھی انہی میں سے ایک ہے۔ یہ محض 61 ہجری کا ایک المناک واقعہ نہیں تھا، نہ ہی یہ صرف ایک جنگ تھی جس میں چند نفوس شہید ہوئے۔ کربلا دراصل انسان کے اندر جاری وہ معرکہ ہے جو ہر دور میں حق اور باطل کے درمیان برپا رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر زمانہ اپنا چہرہ دیکھتا ہے۔۔۔کبھی حسینؑ کے قافلے کی صورت میں، کبھی یزید کے نظام کی شکل میں۔کربلا کی فضا آج بھی سانس لیتی ہے۔ یہ صرف ریگزارِ نینوا کی کہانی نہیں، یہ ہر اس دل کی کہانی ہے جہاں ضمیر زندہ ہو، جہاں سچائی کی شمع بجھنے نہ پائے اور جہاں انسان ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کر دے۔ امام حسینؑ نے اس معرکے کو صرف جیتنے کے لیے نہیں چنا تھا، بلکہ اس لیے چنا تھا کہ انسانیت کو یہ پیغام دے سکیں کہ حق کی قیمت چاہے جان ہو یا خاندان، کبھی کم نہیں ہوتی۔
یزیدی نظام کوئی ایک شخص نہیں تھا، یہ ایک طرزِ فکر تھا۔۔۔وہ طرزِ فکر جو طاقت کو حق پر فوقیت دیتا ہے، جو ضمیر کو خریدنا چاہتا ہے، جو سچائی کو خاموش کرنے کے لیے تلوار کا سہارا لیتا ہے۔ کربلا اسی نظام کے خلاف وہ اعلانِ بغاوت تھا جس نے ثابت کیا کہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ ہمیشہ کمزور ہوتا ہے جب اس کے مقابلے میں سچائی کھڑی ہو جائے۔امام حسینؑ کا قافلہ جب مکہ سے کربلا کی طرف روانہ ہوا تو وہ جانتے تھے کہ واپسی شاید نصیب نہ ہو۔ مگر یہ سفر کسی جغرافیائی منزل کا نہیں تھا، یہ ایک فکری اور روحانی سفر تھا۔ ایک ایسا سفر جس کا مقصد انسان کو یہ سمجھانا تھا کہ زندگی کا معیار لمبائی نہیں، بلکہ اس کا وقار ہے۔ اور وقار وہی ہے جو حق کے ساتھ جُڑا ہو۔
کربلا میں پانی بند ہوا، حضرت علی اصغرؑ کا نازک گلا دراصل انسانیت کے ضمیر پر وہ سوال ہے جو آج بھی جواب مانگتا ہے کہ کیا طاقت واقعی اتنی اندھی ہو سکتی ہے کہ وہ ایک بچے کی پیاس کو بھی نہ دیکھ سکے؟یہاں کربلا ایک علامت بن جاتی ہے۔۔۔ایسی علامت جو ہر دور میں نئے معنی پیدا کرتی ہے۔ کبھی یہ سیاست میں نظر آتی ہے، کبھی معاشرت میں، کبھی عدل کے ایوانوں میں اور کبھی عام انسان کے روزمرہ فیصلوں میں۔ جب کوئی شخص سچ بولنے کے باوجود دبایا جاتا ہے، جب انصاف کمزور کے لیے اور قانون طاقتور کے لیے بدل جاتا ہے۔۔۔تو کربلا دوبارہ جنم لیتی ہے۔امام حسینؑ نے اپنے عمل سے یہ فلسفہ دیا کہ خاموشی کبھی کبھی سب سے بڑا جرم بن جاتی ہے۔ اگر باطل کو دیکھ کر زبان بند کر لی جائے تو تاریخ صرف ظالموں کو نہیں لکھتی، خاموش رہنے والوں کو بھی شریکِ جرم سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا صرف ایک ماتم نہیں، ایک مکالمہ ہے۔۔۔انسان کے ضمیر اور اس کی ذمہ داری کے درمیان مکالمہ۔آج کے دور میں اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو کربلا کے رنگ مختلف صورتوں میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ کہیں کرسی کی خاطر اصول قربان کیے جا رہے ہیں، کہیں دولت کے لیے سچ کو بیچا جا رہا ہے، کہیں انصاف بک رہا ہے اور کہیں انسانیت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ سب مناظر ہمیں بتاتے ہیں کہ کربلا ختم نہیں ہوئی، اس نے صرف اپنی شکل بدل لی ہے۔
ایک اور زاویہ یہ ہے کہ کربلا ہمیں صبر اور استقامت کا درس دیتی ہے۔ لیکن یہ صبر محض خاموشی نہیں، یہ وہ صبر ہے جو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی طاقت دیتا ہے۔ امام حسینؑ نے ہمیں یہ سکھایا کہ حالات چاہے جتنے بھی نامساعد ہوں، اگر نیت صاف ہو اور مقصد حق پر مبنی ہو تو شکست بھی فتح میں بدل جاتی ہے۔ کیونکہ تاریخ کا پیمانہ صرف نتیجہ نہیں، نیت بھی ہوتی ہے۔کربلا انسان کی سربلندی کا سب سے بڑا حوالہ ہے۔ وہاں انسان کو یہ سمجھایا گیا کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔ یہ جملہ محض ایک نعرہ نہیں، یہ انسانی آزادی کا فلسفہ ہے۔ امام حسینؑ نے یہ ثابت کیا کہ انسان اگر اپنے اصولوں پر قائم رہے تو وہ وقت کے جبر سے بلند ہو جاتا ہے۔
یزیدی نظام کا سب سے بڑا ہتھیار خوف تھا، مگر حسینؑ کا سب سے بڑا جواب بے خوفی تھی۔ وہ بے خوفی جو اللہ پر توکل سے جنم لیتی ہے۔اگر ہم آج کے انسان کو دیکھیں تو وہ ایک نئے یزید کے نظام میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے۔۔۔کبھی مفاد کی شکل میں، کبھی سیاست کی شکل میں، کبھی معاشرتی دباؤ کی صورت میں۔ انسان جانتا ہے کہ سچ کیا ہے، مگر اس پر قائم رہنے کی ہمت کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کربلا ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ کیا ہم واقعی حسینؑ کے پیروکار ہیں یا صرف ان کے نام لیوا؟کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ قیادت صرف طاقت کا نام نہیں، کردار کا نام ہے۔ امام حسینؑ نے قیادت کو نئے معنی دیے۔۔۔ایسی قیادت جو اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے نہیں، بلکہ اصولوں کو بچانے کے لیے قربانی دیتی ہے۔ یہ وہ معیار ہے جو آج کی دنیا میں ناپید ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کربلا ایک اجتماعی ضمیر کی کہانی ہے۔ وہاں ہر کردار ایک سوال ہے۔۔۔حرؒ کا کردار ہمیں بتاتا ہے کہ انسان بدل سکتا ہے، شمر ہمیں دکھاتا ہے کہ طاقت انسان کو کس حد تک گرا سکتی ہے اور حضرت زینبؑ ہمیں سکھاتی ہیں کہ صبر صرف برداشت نہیں بلکہ ایک طاقتور احتجاج ہے۔ حضرت زینبؑ کا خطبہ دراصل کربلا کا وہ باب ہے جس نے یزید کے محل میں زلزلہ پیدا کر دیا۔کربلا کا پیغام یہ ہے کہ تاریخ کبھی بند نہیں ہوتی، وہ ہر دور میں لکھی جا رہی ہے۔ ہر وہ شخص جو حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، وہ کربلا کے قافلے کا حصہ بن جاتا ہے اور ہر وہ شخص جو ظلم کے سامنے جھک جاتا ہے، وہ یزیدی نظام کا کردار ادا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کربلا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل تحریک ہے۔ یہ تحریک ہر اس دل میں زندہ ہے جو سچائی سے محبت کرتا ہے، ہر اس ذہن میں موجود ہے جو انصاف چاہتا ہے اور ہر اس روح میں رواں ہے جو انسانیت کو زندہ دیکھنا چاہتی ہے۔
کربلا ہمیں ہر دن یہ دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنے فیصلوں کا احتساب کریں اور یہ طے کریں کہ ہم حق کے ساتھ ہیں یا خاموشی کے ساتھ۔ کیونکہ کربلا کا اصل پیغام یہی ہے کہ غیر جانبداری بھی اکثر ظلم کی حمایت بن جاتی ہے۔کربلا ختم نہیں ہوئی ۔۔۔وہ آج بھی جاری ہے اور جب تک ایک بھی ضمیر زندہ ہے، یہ تحریک جاری رہے گی۔


