ہم نے کیا ڈھونڈا، کیا پایا/محمد کوکب جمیل ہاشمی

کچھ لوگ نشے کا دھندہ کرتے ہیں اور کچھ ایک دوسرے پہ الزام دھرنے کا۔ صبح کی دھند ہو یا دوپہر کی چلچلاتی دھوپ، یہ اپنا کام دھڑلے سے کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ڈھول کی دھم دهم کی مانند شور کرنے والے اسکول کے بچوں کی دھما چوکڑی سے محلے کے لوگ تو عاجز ہوتے ہی ہیں، سارے شہر میں ان شرارتی بچوں کی دھوم مچ جاتی ہے۔ چنانچہ استانیوں اور ہیڈ مسٹریس کو ایسا غصہ آتا ہے کہ وہ ضدی بچوں کی دھن دھنا دھن پٹائی کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس سزا کا کچھ دھن کے پکے بچوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ بڑے ہوکر دھیرے دھیرے دھرتی پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ انکا چال چلن ایسا بن جاتا ہے کہ ان سے سامنا ہو جائے تو خوف سے دل دھک دھک کرنے لگتا ہے کہ وہ کچھ اورکریں نہ کریں، دھکا دے کر ہمیں گرا ضرور ڈالتے ہیں۔ کبھی یہ شریر لوگ بازیگر بن کر کھلا دھوکا دیتے ہیں۔
دکھ ہوتا ہے ایسے لوگوں کو دیکھ کر جو ایسے ہاتھ چھوٹ ہوتے ہیں کہ ہر راہ چلتے کو دھپ لگا کر بھاگ جاتے ہیں۔ وہ اپنے مرچیلے مزاج کی ایسی پھونکیں مارتے ہیں جن کی دھسک دور دور تک پھیل جاتی ہے۔ ان میں سے چند لوگ لوٹ مار کرنے لگتے ہیں اور اپنی دیدی دلیری پر شرمسار ہونے کی بجاۓ دھمالیں ڈالنے لگتے ہیں۔ انکے گروہوں میں آئے دن سماج دشمن عناصر کی دھماکے دار اینٹری ہوتی رہتی ہے۔
وہ پولیس کی گرفت میں آ بھی جاتے ہیں۔ لیکن وہ جلد ہی اس طرح چھوٹ جاتے ہیں جیسے وہ کچے دھاگے سے بندھے ہوں۔ ان کی پکڑ دھکڑ ہوتی رہتی ہے لیکن وہ دھڑا دھڑ چھوٹتے بھی رہتے ہیں۔ وہ کبھی کسی الزام میں دھر لئے جائیں، تو دھن دولت کے بل بوتے پر چھوٹ جاتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہر معاشرے میں اچھے برے سب لوگ موجود ہوتے ہیں۔جہا ں برے لوگ بری شہرت رکھتے ہیں وہاں اچھے افراد کی بھی خوب دھوم ہوتی ہے۔ ان میں اکثر دودھ کے جلے ہوتے ہیں اس لئے چھا ج بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں۔ انکا مشن اصلاح کرنا اور غلیظ کاموں کی دھلائی کرنا ہوتا ہے۔ وہ کبھی کبھی دھنائی کرکے بھی برے عناصر کو دھول چٹا تے ہیں۔ ان کے سنہرے کاموں کو دیکھ کر دعا دیتے ہیں کہ دودھوں نہاؤ پوتوں پلو۔ اچھے اور برے لوگوں کے درمیان معرکہ آرائی میں جب دھول اڑتی ہے تو کپڑوں پر میل آ جاتا ہے۔ اس لئے ان کی صفائی کے لئے دھوبی کی خدمات لینا پڑتی ہیں۔ دھوبی بھی کپڑوں کو کوٹ کوٹ کر دھو نے کا ایسا ظلم کرتے ہیں انکی دھجیاں بکھر جاتی ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب کچھ سیاسی جماعتیں مظاہروں اور احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو وہ اہم مقامات پر دھرنا دینے لگتی ہیں۔ ایسے میں طاقت کے نشے میں دھت کچھ من چلے دھینگا مشتی شروع کر دیتے ہیں۔ دنگا فساد شروع ہو جاتا ہے اور پولیس والوں پر تیز دھار آلوں سے حملے ہونے لگتے ہیں۔ دھونس کا مظاہرہ ہونے لگتا ہے۔ اپوزیشن اسمبلی میں سابق الیکشن میں دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیتی ہے۔ کچھ ممبران اسمبلی اجلاس میں دھنیا پی کر سو رہے ہوتے ہیں۔ اور کچھ اپنے لیڈر کی جذباتی تقریریں سن کر سر دھنتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ عید آنے سے چند دن پہلے بازاروں میں خریداروں کا ہجوم بڑھ جاتا ہے۔ دھکم پیل شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں دھان پان لوگوں کی خیر نہیں ہوتی۔ وہ دھیمے قدموں سے بھی چل رہے ہوں تو دھم سے نیچے گر کر کچلے جاتے ہیں۔ ان دنوں میں کراچی کا علاقہ دھورا جی ہو یا دھوبی گھاٹ یا لاہور کا دھرم پورا ہو، یہاں جیب کتروں کی چاندی ہوتی ہے۔ لوگوں کی جانب سے ذرا دھیرج اور ندیا دھیرے بہو کی صدائیں صدا بصحرا بن جاتی ہیں۔ ادھر ڈھول باجے کا شور سروں کو دھمک پہنچا رہا ہوتا ہے۔ مانا کہ عید کی خوشیاں دھوم دھام سے منانا سب کا حق ہے لیکن ہم اسے زحمت بنا دیتے ہیں۔ ہمارا مزاج کچھ ایسا بن گیا ہے کہ ہم بلا وجہ ہاتھ دھو کر کسی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ چاہے ہمیں ہاتھ دھو کر کھانا کھانے کی عادت ہی نہ ہو۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ہم نیک اور پارسا بزرگوں کے ہاتھ کیا، پاؤں بھی دھو دھو کر پیتے ہیں۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب دھواں دھار بارش کے نتیجے میں سڑکیں زیر آب آ جاتی ہیں اور گاڑیاں پانی میں بند ہو جاتی ہیں تو کچھ بنیان دھوتی پہنے خیر خواہ لوگ گاڑی کو دھکا لگانے پہنچ جاتے ہیں۔ اچھے معاشرے کے درد مند لوگ نیکی کے کام کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ ہوں تو دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں دھڑے باز لوگ غالب نہ آجائیں۔ میں سمجھتا ہوں اچھے لوگ ڈھونڈھیں تو ایک نہیں لاکھوں مل جاتے ہیں لیکن جو بھی ملتے ہیں وہ سب لاکھوں میں ایک ہوتے ہیں۔ مگر ہم انہیں ڈھونڈتے نہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بچے بغل میں اور ڈھنڈھورا شہر میں ہوتا ہے۔ اب یہ قارئین ہی بتا سکیں گے کہ لفظوں کی تلاش میں ہم نے کیا ڈھونڈا، کیا پایا۔

اپنا تبصرہ لکھیں