مرکز کا شعور، حاشیے کی اجنبیت/محمد عامر حسینی

یہ تحریر کسی ایک ماہر نفسیات، ادیب یا نوجوان ترقی پسند کی فکری لغزش پر گرفت نہیں۔ اصل سوال اس سے کہیں زیادہ گہرا اور پریشان کن ہے۔ پاکستان کے شہری سماج، بالخصوص پنجاب کے بڑے شہری مراکز میں، ایک عام تعلیم یافتہ شخص سے لے کر دانش ور، صحافی، ادیب، استاد اور ترقی پسند کارکن تک، بلوچ، پشتون، سندھی، سرائیکی اور دوسری محکوم اقوام کے قومی سوال کے سامنے تقریباً ایک جیسی ذہنی الجھن کا شکار کیوں ہو جاتا ہے؟ وہ شخص جو فلسطین میں آبادکار استعمار، الجزائر میں فرانسیسی نوآبادیاتی جبر، ویت نام میں سامراجی جنگ اور جنوبی افریقا میں نسلی بالادستی کو فوراً پہچان لیتا ہے، بلوچستان کے معاملے میں اچانک “پیچیدگی”، “دونوں طرف کی زیادتی”، “بیرونی ہاتھ”، “مقامی سردار”، “ریاستی مجبوری” اور “نامکمل معلومات” کی بھول بھلیاں میں کیوں داخل ہو جاتا ہے؟

یہ محض معلومات کی کمی نہیں۔ یہ ایک تاریخی طور پر تشکیل دی گئی مرکزی قومی نفسیات ہے۔

پاکستان کا شہری شعور، خصوصاً پنجاب کے شہری متوسط طبقے کا شعور، خود کو ریاست سے الگ سمجھتا ضرور ہے، مگر اس کی قومی دنیا، سیاسی لغت اور تاریخی حافظہ بڑی حد تک اسی ریاست نے تشکیل دیا ہے۔ نصاب، ذرائع ابلاغ، فوجی تاریخ، سرکاری جغرافیہ، قومی تہوار، جنگی اسطورے، عدالتی زبان اور ترقی کے منصوبے اسے بچپن سے یہ سکھاتے ہیں کہ پاکستان ایک فطری، یک جان اور ازلی قومی وحدت ہے۔ اس وحدت کے اندر اٹھنے والا ہر قومی سوال پہلے ہی مشکوک ہوتا ہے۔ اسے حق خود ارادیت، قومی برابری یا اقتدار میں شراکت کے سوال کے طور پر نہیں، بلکہ “علاقائی بے چینی”، “احساس محرومی”، “شرپسندی”، “سرداری سیاست”، “دہشت گردی” یا “غیر ملکی سازش” کے طور پر سمجھنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

یوں ریاستی بیانیہ صرف اخبار، فوجی ترجمان یا سرکاری تقریر میں موجود نہیں رہتا۔ وہ شہری فرد کے اندر عقل عام بن کر آباد ہو جاتا ہے۔

اسی لیے ایک دانش ور ریاستی جبر کی مذمت کرتے ہوئے بھی انہی سوالوں سے آغاز کرتا ہے جو ریاست اس کے سامنے رکھتی ہے: لاپتا شخص کہیں دہشت گرد تو نہیں تھا؟ بلوچ مزاحمت کے پیچھے بیرونی طاقت تو نہیں؟ مقامی سردار زیادہ ذمہ دار تو نہیں؟ ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کیوں کی جا رہی ہے؟ ریاست آخر اپنی رٹ کیسے چھوڑ دے؟

لیکن سوالوں کی یہ ترتیب خود غیر جانب دار نہیں۔ لاپتا فرد کے ممکنہ جرم پر سوال پہلے اٹھتا ہے، ریاست کے اسے قانون سے غائب کر دینے کے اختیار پر بعد میں۔ بیرونی مداخلت کا امکان فوراً سامنے آتا ہے، مگر یہ سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے کہ کسی خطے میں بیرونی طاقت کے لیے سیاسی گنجائش پیدا ہی کیوں ہوتی ہے۔ مقامی سرداروں کی بدعنوانی کو ریاستی اقتدار کے متبادل سبب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالاں کہ یہی مقامی اشرافیہ اکثر مرکز کے انتظامی، انتخابی اور معاشی ڈھانچے کا حصہ ہوتی ہے۔ ریاست اور مقامی مقتدر طبقے کو حریف سمجھ کر اصل اقتداری اتحاد نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

اس نفسیات کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ پنجاب کا شہری متوسط طبقہ خود کو حکمران اشرافیہ کا حصہ نہیں سمجھتا۔ وہ مہنگائی، بے روزگاری، مذہبی جبر، آمریت اور طبقاتی ناہمواری سے متاثر ہوتا ہے، اس لیے اپنے آپ کو بھی ریاست کا مظلوم سمجھتا ہے۔ اس خودتصویر میں ایک حد تک حقیقت موجود ہے۔ لیکن یہی طبقہ یہ دیکھنے سے رہ جاتا ہے کہ ایک ہی ریاستی نظام میں مظلومیت کی سطحیں برابر نہیں ہوتیں۔ مرکز میں رہنے والا شہری فرد جبر کا سامنا کر سکتا ہے، مگر اس کی قومی شناخت، زبان، زمین اور اجتماعی وجود مسلسل ریاستی شبہے کے تحت نہیں ہوتے۔ اسے اپنے شہر میں فوجی چھاؤنیوں، اجتماعی تلاشیوں، جبری گمشدگیوں اور قومی شناخت کے انکار کو روزمرہ زندگی کے بنیادی اصول کے طور پر برداشت نہیں کرنا پڑتا۔

یہاں ایک اہم نفسیاتی دفاع کام کرتا ہے: اپنی نسبتاً مراعات یافتہ حیثیت سے انکار۔

مرکز کا شہری باشندہ خود کو صرف محکوم سمجھتا ہے، کسی دوسرے پر قائم مرکزیت کا جزو نہیں۔ اس لیے جب بلوچ یا پشتون اسے مرکز کے سماج کا فرد سمجھ کر سوال کرتا ہے تو وہ فوراً دفاعی ہو جاتا ہے: “ہم نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے؟ ہم خود بھی تو اسٹیبلشمنٹ کے ستائے ہوئے ہیں۔” اس ردعمل میں وہ ریاست اور عوام کو مکمل طور پر الگ کر دیتا ہے، مگر یہ بھول جاتا ہے کہ ریاستی بالادستی صرف اداروں سے نہیں، سماجی رضامندی، خاموشی، تعصبات اور روزمرہ کے قومی تصورات سے بھی قائم رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکمران اشرافیہ، سول و فوجی نوکر شاہی اور شہری سماج کے درمیان مکمل یکسانیت نہ ہونے کے باوجود ایک بنیادی قومی اتفاق پیدا ہو جاتا ہے۔ اختلاف اس بات پر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں ریاست کو زیادہ نرم ہونا چاہیے یا زیادہ سخت، مکالمہ کرنا چاہیے یا آپریشن، ترقیاتی پیکیج دینا چاہیے یا سیاسی مراعات۔ مگر یہ سوال بہت کم اٹھتا ہے کہ بلوچ قوم کو اپنے سیاسی مستقبل، وسائل، زمین اور اجتماعی اقتدار کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق کس حد تک حاصل ہے۔ مرکز طریقۂ حکومت پر اختلاف کرتا ہے، اپنے حق حکومت پر نہیں۔

یہی ریاستی بالادستی کی سب سے کامیاب صورت ہے: حکم کو حکم محسوس نہ ہونے دینا۔

اگر انتہائی پڑھے لکھے ماہر نفسیات، ترقی پسند ادیب اور روشن خیال جریدوں کے مدیر بھی بلوچستان کے سامنے آکر اسی کنفیوژن کا شکار ہو جائیں تو عام شہری کی حالت کا اندازہ مشکل نہیں۔ عام آدمی کے پاس نہ فینن ہے، نہ گرامشی، نہ ایڈورڈ سعید، نہ متبادل تاریخ تک رسائی۔ اس کی دنیا ٹیلی وژن کے مباحثوں، نصابی کتابوں، جنگی نغموں، ریاستی پریس ریلیزوں اور سوشل میڈیا کے سلامتیاتی پروپیگنڈے سے بنتی ہے۔ جب اعلیٰ تعلیم یافتہ دانش ور بھی ریاست کے بنائے ہوئے سوالوں کی حدود سے باہر نہیں نکل پاتا تو عام شہری سے غیر نوآبادیاتی شعور کی توقع کرنا اخلاقی خواہش تو ہو سکتی ہے، سماجی حقیقت نہیں۔

اس سے پہلے اسد فاطمی جیسے نوجوان، ترقی پسند اور روشن خیال مدیر کی تحریر میں بھی یہی نفسیاتی الجھن سامنے آئی تھی۔ وہاں پارلیمانی سیاست کو گویا بلوچ اور پشتون قومی تحریکوں کے سامنے ایک ایسا راستہ بنا کر پیش کیا گیا جسے انہوں نے کبھی آزمایا ہی نہیں، حالاں کہ ان اقوام کی قیادت نے بارہا پارلیمنٹ، آئین، انتخابات اور وفاقی سیاست کے اندر رہ کر جدوجہد کی، اور جواب میں جماعتوں پر پابندیاں، منتخب حکومتوں کی برطرفی، گرفتاریاں، غداری کے مقدمات اور سیاسی قتل دیکھے۔ یہ لاعلمی محض تاریخ نہ پڑھنے کی کمزوری نہیں۔ یہ وہ قومی حافظہ ہے جس میں مرکز کی آئینی خلاف ورزیاں حذف اور محکوم کی مزاحمت محفوظ رکھی جاتی ہے۔

یہ سوال بجا ہے کہ کیا پنجاب کے شہری سماج کا شعور نوآبادیاتی آقاؤں کے ممالک کی اس انٹیلی جنٹسیا سے مشابہ ہے جو الجزائر، ہندوستان، افریقا اور ویت نام کی آزادی کی تحریکوں کو اپنے حکمرانوں کی آنکھ سے دیکھتی تھی؟

ایک اہم حد تک، ہاں۔

نوآبادیاتی مرکز کا لبرل دانش ور بھی اکثر استعمار کے مظالم پر افسوس کرتا تھا، مگر مستعمرہ قوم کے مکمل سیاسی حق سے گھبرا جاتا تھا۔ وہ تشدد کی مذمت کرتا، اصلاحات کی حمایت کرتا، مقامی آبادی کے لیے تعلیم اور انصاف چاہتا، مگر سلطنت کے حق حاکمیت کو بنیادی سوال نہیں بناتا تھا۔ وہ محکوم کو بہتر سلوک کا مستحق سمجھتا تھا، برابر سیاسی فاعل نہیں۔ وہ استعمار کا مہذب، نرم اور اصلاح پسند چہرہ بن جاتا تھا۔

پاکستانی شہری دانش ور بھی بسا اوقات بلوچستان کے لیے انسانی حقوق، شفاف مقدمہ، احتجاج کی آزادی اور ترقی کا مطالبہ کرتا ہے، مگر بلوچ قومی سوال کو مرکز اور محکوم قوم کے درمیان اقتدار کے مسئلے کے طور پر قبول نہیں کرتا۔ وہ چاہتا ہے کہ ریاست زیادہ منصفانہ ہو، مگر یہ پوچھنے سے ہچکچاتا ہے کہ آیا ریاست کی موجودہ ساخت خود اس ناانصافی کی بنیاد تو نہیں۔

تاہم یہ مماثلت مکمل نہیں۔ پنجاب کا عام شہری کسی یورپی سامراجی ملک کے کلاسیکی آبادکار یا براہ راست استعماری منتظم جیسی حیثیت نہیں رکھتا۔ وہ خود بھی طبقاتی استحصال، مذہبی جبر اور آمرانہ ریاست کا شکار ہے۔ لیکن اس کی اپنی محکومیت اسے خود بخود غیر نوآبادیاتی شعور عطا نہیں کرتی۔ ایک شخص ایک رشتے میں محکوم اور دوسرے رشتے میں مرکز کی بالادستی سے مستفید یا اس کا خاموش حامل ہو سکتا ہے۔ تاریخ میں ایسے متداخل مقامات عام ہیں۔

دوسرا سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہے: اگر یہی دانش ور فینن، سعید، گرامشی اور استعمار مخالف تحریکوں کا گہرا مطالعہ رکھتے ہیں تو بلوچستان کے معاملے میں ان کی نظریاتی بصیرت ناکام کیوں ہو جاتی ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ علم ہمیشہ شعور نہیں بنتا۔

فینن کو پڑھنا اور فینن کی نگاہ سے اپنے قومی وجود کو دیکھنا دو مختلف کام ہیں۔ دور دراز استعمار کی مذمت نسبتاً آسان ہے، کیونکہ اس سے ہماری اپنی اخلاقی خودتصویر مضبوط ہوتی ہے۔ فلسطین کے ساتھ یکجہتی ہمیں مظلوم کا ساتھی بناتی ہے۔ الجزائر میں فرانس کی مذمت ہمیں استعمار دشمن ثابت کرتی ہے۔ ویت نام میں امریکا کی شکست ہمیں سامراج مخالف مقام عطا کرتی ہے۔ ان مثالوں میں ظالم باہر ہے اور ہم اخلاقی طور پر محفوظ فاصلے پر کھڑے ہیں۔

بلوچستان کا سوال یہ محفوظ فاصلہ ختم کر دیتا ہے۔ یہاں فینن کی کتاب دوسروں کے جرائم کی تشریح نہیں رہتی، ہمارے اپنے قومی گھر کا آئینہ بن جاتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ فرانسیسی استعمار نے الجزائر کے ساتھ کیا کیا؛ سوال یہ بنتا ہے کہ ہماری ریاست، ہمارے اداروں، ہمارے میڈیا اور ہمارے سماجی سکوت کا بلوچستان سے کیا تعلق ہے۔ اس مرحلے پر نظریہ معلومات سے بڑھ کر خود احتسابی کا مطالبہ کرتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر دانش ور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

اس طرح فینن شناسی ایک علمی سرمایہ بن کر رہ جاتی ہے، وجودی تبدیلی نہیں بنتی۔ سعید کو پڑھا جاتا ہے، مگر بلوچستان کو مرکز کی بنائی ہوئی “دور افتادہ، قبائلی اور پرتشدد” دنیا کے طور پر دیکھنا جاری رہتا ہے۔ گرامشی کا ذکر ہوتا ہے، مگر ریاستی عقل عام اپنے ذہن کے اندر پہچانی نہیں جاتی۔ اسپیوک پڑھائی جاتی ہے، مگر بلوچ کی آواز کو خود اس کی سیاسی زبان میں سننے کے بجائے اس کے درد کا ترجمہ مرکز کا دانش ور خود کرتا ہے۔

یہ علمی دوگانگی نفاق کا لازمی ثبوت نہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ قومی لاشعور، سماجی مقام اور اخلاقی خودتصویر کے درمیان تصادم کا نتیجہ ہے۔ دانش ور واقعی استعمار مخالف ہو سکتا ہے، مگر اس کی استعمار مخالفت اس وقت تک نامکمل رہتی ہے جب تک وہ اپنی ریاست اور اپنے سماج کے اندر قائم مرکز و حاشیہ کے رشتے کو اسی نظریاتی سختی سے نہیں پرکھتا جس سے وہ مغربی سامراج کو دیکھتا ہے۔

اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم فلسطین کے بارے میں کیا لکھتے ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ہم بلوچستان کے بارے میں کس کی زبان، کس کے سوال اور کس کی نگاہ سے سوچتے ہیں۔

استعمار مخالف شعور اس وقت شروع ہوتا ہے جب دانش ور صرف محکوم کے آنسو نہیں دیکھتا بلکہ اس کی سیاسی زبان کو علم تسلیم کرتا ہے؛ جب وہ مرکز کی خیر خواہی کے بجائے مرکز کے حق حاکمیت کو سوال بناتا ہے؛ اور جب وہ یہ ماننے پر آمادہ ہوتا ہے کہ نوآبادیاتی آقا ہمیشہ سمندر پار سے نہیں آتا، کبھی وہ ہمارے اپنے قومی تصور، ہماری خاموشی اور ہماری عقل عام کے اندر بھی آباد ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں