کل ڈیپارٹمنٹ آف آرتھوپیڈک سرجری سر گنگارام ہسپتال لاہور میں،وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس خصوصی تقریب کا مقصد، بطور وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی،انکے چار سالہ دور میں یونیورسٹی کے لئے کی گئی انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔
اس تقریب کے میزبان ہیڈ آف دی آرتھوپیڈک سرجری ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر تنویر افضل تھے۔ جب محترم وائس چانسلر تشریف لائے تو انکا پرجوش استقبال کیا گیا اور مہمان اعزاز کو وارڈ کی ہاوس سرجنز ڈاکٹر صالحہ اور ڈاکٹر اریج نے پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے ۔
تقریب میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سر گنگارام ہسپتال ڈاکٹر عارف افتخار، پرنسپل فاطمہ جناح میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید ، ڈین آف سرجری پروفیسر ڈاکٹر عمران اسلم، ڈین آف انڈر گریجویٹ سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر بلقیس شبیر اور سابق ڈین پروفیسر ڈاکٹر منزہ اقبال نے خصوصی شرکت کی،جبکہ ڈیپارٹمنٹ کی فکلیٹی میں سے ایسوی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر شیر افگن، ڈاکٹر سید باقر جعفری اور اسسٹنٹ پروفیسرز ڈاکٹر فہد نذیر اور ڈاکٹر حسان شاہد بھی اس تقریب میں شریک تھے ۔
اس تقریب کے اسٹیج سکریٹری راقم الحروف تھے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن سے کیا گیا۔ ویلکم ایڈریس پروفیسر ڈاکٹر تنویر افضل نے دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کیساتھ دو عشروں میں محیط اپنے تعلق کے متعلق بتایا۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ محترم وائس چانسلر کی زیر نگرانی ڈیپارٹمنٹ میں ہر قسم کی آرتھوپلاسٹی، آرتھو سکوپی اور ٹراما سرجریز ہو رہی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ میں سپائن سرجری میں فیلو شپ شروع ہو چکی ہے، جبکہ آرتھوپیڈک سرجری کی ایمرجنسی چوبیس گھنٹے مسلسل فنکشنل ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے لئے وائس چانسلر کی خدمات کے متعلق بھی سبھی شرکاء کو بتایا۔
راقم نے اپنی تقریر میں بتایا کہ آج فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کا ہر ایم ایس / ایم ڈی پوسٹ گریجویٹ پروگرام پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ ہے۔ تمام پوسٹ گریجویٹ پروگرامز بلکل Streamline ہو چکے ہیں تو اسکا سہرا وائس چانسلر صاحب کو جاتا ہے، آج ایف جے ایم یو پاکستان کی ٹاپ تھرڈ میڈیکل یونیورسٹی ہے۔ یونیورسٹی اب دوسری یونیورسٹیز کے لئے رول ماڈل بن چکی ہے۔ میں نے پی جی آرز کی نمائیندگی کرتے ہوئے وائس چانسلر صاحب کے سامنے کچھ مطالبات رکھے، جو انہوں نے فوری منطور کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ہدایات جاری کیں، جس پر ہم سب نے انکا شکریہ ادا کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر بلقیس شبیر نے اپنی تقریر میں کہا کہ جب آپ نے بطور وائس چانسلر ایف جے ایم یو کو جائن کیا تھا،اور آج چار سال کیبعد والی فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی میں زمین آسمان کا فرق ہے جو کہ صرف آپکی مسلسل محنت کی مرہون منت ہے۔
صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سر گنگارام ہسپتال ڈاکٹر عثمان گجر نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ جب بھی وائس چانسلر کے پاس ڈاکٹرز کا کوئی بھی مطالبہ لیکر گے تو محترم وائس چانسلر نے ہمارے تمام جائز مطالبات فی الفور منظور کیے اور یہی انکی سب سے بڑی خوبی ہے۔
مہمان اعزار،وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل جب تقریر کرنے اسٹیج پر آئے تو سبھی نے تالیاں بجا کر انکا استقبال کیا۔ انہوں نے شرکاء کو گزشتہ دن وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد،کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کے خصوصی کانووکیشن کے متعلق بتایا،جس میں ایرانی صدر جناب ڈاکٹر مسود پکیشیان کو سی پی ایس پی کی اعزازی فیلو شپ سے نوازا گیا تھا کہ متعلق تفصیل سے بتایا ۔ آپ نے بطور سینیر وائس پریذیڈنٹ سی پی ایس پی اس خصوصی کانووکیشن میں شرکت کی تھی۔
محترم وائس چانسلر نے بتایا کہ یہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کا اعزاز ہے کہ چاروں رائل کالجز آف سرجنز اینڈ فزیشنز کے صدور یونیورسٹی کا دورہ کرنے آئے ۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے یونیورسٹی کا چارج سنبھالا تو انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ٹیم ورک کی بدولت وہ ان تمام مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔ آج یونیورسٹی تمام ریگولیٹری اداروں سے منظور شدہ ہے، ایف جے ایم یو پہلی یونیورسٹی بنی جسے ایچ ای سی سے ریسرچ ایڈ ملی۔ یونیورسٹی نے گائنی اینڈ آبز میں چار فیلو شپ،میڈیسن میں تین فیلو شپ شروع کی۔ یوں ایف جے ایم یو پہلی یونیورسٹی بنی جس نے گائنی میں چار فیلو شپ شروع کی۔ یونیورسٹی نے سی ایچ پی ای کے بعد،ایم ایچ پی ای پروگرام شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ جبکہ ایم فل پروگرامز شروع ہو چکے ہیں ۔
انہوں نے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر تنویر افضل کی کارکردگی کو سراہا کہ انکی زیر صدارت ڈیپارٹمنٹ میں وہ تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جو کہ اس ڈیپارٹمنٹ کو پنجاب بھر میں ایک ممتاز حیثیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹ نے جس اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔
آخر میں انہوں نے اس یادگار تقریب کے میزبان پروفیسر ڈاکٹر تنویر افضل کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد مہمان اعزار پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کو خصوصی شلیڈ پیش کی گئی ۔ مہان اعزاز کو ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ایک فوٹو پورٹریٹ بھی دیا گیا جن میں ان کے چار سالہ دور کا احاطہ کیا گیا۔
تقریب کا اختتام پر کیک کنٹنگ سرمنی ہوئی،جسکے بعد مہمانوں کی تواضح پرلطف لنچ سے کی گئی ۔ تقریب کی ساری ارینج مینٹس راقم،ڈاکٹر بلال نذیر اور ڈاکٹر حسنین سرور نے کی تھیں۔
اس بات میں دو رائے نہیں کہ بطور وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی،پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کا دور بہترین رہا۔ یونیورسٹی نے بے مثال ترقی کی۔ یونیورسٹی کی نیشنل اور انٹرنیشنل رینکنگ میں بہتری آئی۔ یونیورسٹی میں ریسرچ پر خصوصی توجہ دی گئی ۔ یونیورسٹی کو دوسری یونیورسٹیوں کے لئے ایک رول ماڈل بنایا گیا، اگر آج فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پاکستان کی تھرڈ بیسٹ میڈیکل یونیورسٹی ہے تو اسکا سہرا صرف وائس چانسلر محترم جناب ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کو جاتا ہے اور یہی حقیقت ہے۔


