نور شاہ بھٹ میں بھگت کبیر کی 629ویں جنم جینتی کی تقریبات روحانی وقار اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ساتھ اختتام پذیر

(رمیش راجہ)
سکھر:
سکھر اور روہڑی کے قریب واقع تاریخی و روحانی مرکز نور شاہ بھٹ میں عظیم صوفی سنت بھگت کبیر (1398-1518) کی 629ویں جنم جینتی کے موقع پر منعقد ہونے والی تین روزہ سالانہ روحانی و ثقافتی تقریبات پیر کی شب عقیدت، امن اور انسان دوستی کے پُرنور ماحول میں اختتام پذیر ہو گئیں۔
ان تقریبات میں سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں عقیدت مندوں، مریدوں اور روحانی زائرین نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔ پورے میلے کے دوران درگاہ کا ماحول بھگت کبیر کے آفاقی فلسفے یعنی محبت، مساوات، رواداری اور انسانیت کے پیغام سے منور رہا، جہاں علمی نشستوں، روحانی خطابات اور بھجن کی محفلوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔
تقریبات کا باقاعدہ افتتاح کبیر پنتھ کے چوتھے گدی نشین سائیں موہن لال نے مکھی دریا نو مل، مکھی بابو ہرداس، ڈسٹرکٹ کونسلر امیت کمار اور مختلف پنچایتوں کے دیگر نمائندوں کے ہمراہ سنت کبیر کی روحانی علامت کے طور پر چراغ روشن کر کے کیا۔ اس موقع پر مختلف علما اور اہلِ فکر نے بھگت کبیر کی تعلیمات کو انسانی شعور کی بیداری، باہمی احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کا روشن استعارہ قرار دیا۔
تقریب کے ایک اہم موقع پر گدی نشین سائیں موہن لال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھگت کبیر کو کسی ایک مذہب، قوم یا خطے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک آفاقی روحانی صدا تھے جن کا پیغام سچائی، محبت، مساوات اور انسانیت پر مبنی ہے، جو آج بھی انسانوں کو امن، برداشت اور باہمی احترام کی جانب رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھگت کبیر کو حقیقی خراجِ عقیدت صرف تقریبات کے انعقاد سے نہیں بلکہ ان کے افکار کو عملی زندگی کا حصہ بنانے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ نفرت، تعصب اور امتیاز کو ترک کر کے محبت، خدمت، عاجزی اور انسان دوستی کو اپنانا ہی اس پیغام کی اصل روح ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نور شاہ بھٹ درگاہ کبیر کے آفاقی مشن یعنی بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی اخوت کے فروغ کو جاری رکھے گی۔
یاد رہے کہ نور شاہ بھٹ میں کبیر پنتھ درگاہ کی بنیاد 1942 میں سائیں خوشحال رام صاحب نے رکھی تھی، جنہوں نے بھارت کے شہر کاشی (وارانسی) میں واقع بھگت کبیر کی مرکزی درگاہ کے گدی نشین آچاریہ رام ولاس سے باقاعدہ اجازت اور روحانی نسبت حاصل کی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ روحانی مرکز سندھ سے بڑھ کر پنجاب کے سرائیکی خطے تک عقیدت مندوں کا ایک وسیع حلقہ بن گیا۔
سائیں خوشحال رام کے 1971 میں وصال کے بعد ان کے فرزند سائیں امولکھ رام گدی نشین مقرر ہوئے، جبکہ 1996 میں ان کے بعد سائیں ٹہل رام نے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 2010 سے سائیں موہن لال اس روحانی سلسلے کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی سے بی ایس سی کے گریجویٹ ہیں اور روزانہ درگاہ پر آنے والے عقیدت مندوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں مریدین سے رابطہ بھی رکھتے ہیں۔ وہ بھگت کبیر کی فکر و فلسفے پر مبنی ایک جامع لائبریری کے قیام کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لیے نایاب کتب جمع کر رہے ہیں۔
درگاہ میں ہر سال دو بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں: ایک جون-جولائی میں بھگت کبیر کی جنم جینتی کے موقع پر اور دوسرا مارچ میں سائیں خوشحال رام کی برسی کے موقع پر۔ ان مواقع پر ملک بھر سے عقیدت مند، شعرا، فنکار اور اہلِ فکر شرکت کرتے ہیں اور بھجن، فکری گفتگو اور ثقافتی اظہار کے ذریعے اس روحانی روایت کو زندہ رکھتے ہیں۔
تقریبات کے اختتامی مرحلے میں ایک خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور خوشحالی کے لیے اجتماعی طور پر دعائیں کی گئیں۔ دعا میں خطے سے نفرت، جنگ، تنازع اور تقسیم کے خاتمے کی التجا کی گئی۔
شرکاء نے متفقہ طور پر بھگت کبیر کے آفاقی پیغام محبت، انسانیت اور پرامن بقائے باہمی کی توثیق کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس پیغام کو محض رسمی سطح تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے عملی زندگی کا حصہ بنا کر آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جائے گا، تاکہ معاشرے میں امن، برداشت اور ہم آہنگی کی شمع ہمیشہ روشن رہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں