دشتِ امکاں اور کنڈیالی تھور:اردو اور پنجابی شاعری میں مقامیت اور فطرت نگاری(2,آخری حصّہ)-ظفر سید

پنجابی اردو کا ذو لسان شاعر

میں نے اس تحریر کے شروع میں عرض کیا تھا کہ پنجابی کی مقامیت اور اردو کی عجمی ’خارجیت‘ بعض اوقات ایک ہی شاعر کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ مجھے نہ تو اتنی پنجابی آتی ہے اور نہ ہی پنجابی ادب پر پوری نظر ہے، اس لیے میں صرف ایک ہی ذو لسان شاعر کا ذکر کرنا چاہوں گا، اور وہ ہے علی اکبر ناطق۔

علی اکبر ناطق کی سب سے مشہور اردو نظم ’سفیرِ لیلیٰ‘ ہے، جس کے نام ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کس آب و ہوا، کس زمین، روایت کی پروردہ ہے۔ چند ابتدائی سطریں:

نظر اٹھاؤ سفیر لیلیٰ برے تماشوں کا شہر دیکھو
یہ میرا قریہ یہ وحشتوں کا امین قریہ
تمہیں دکھاؤں
یہ صحن مسجد تھا یاں پہ آیت فروش بیٹھے دعائیں خلقت کو بیچتے تھے
یہاں عدالت تھی اور قاضی امان دیتے تھے رہزنوں کو
اور اس جگہ پر وہ خانقاہیں تھیں آب و آتش کی منڈیاں تھیں
جہاں پہ امرد پرست بیٹھے صفائے دل کی نمازیں پڑھ کر
خیال دنیا سے جاں ہٹاتے

لیکن یہی علی اکبر ناطق جب پنجابی میں قلم اٹھاتا ہے تو اس کی یکسر کایاکلپ ہو جاتی ہے اور لگتا ہی نہیں کہ یہ وہی شاعر ہے:

من دے ترکلے

من دے ترکلے توں یاداں دیاں اَٹیاں لاہ لاہ ٹیر دی پئی
عمراں دے چرخے دی ماہلھ کِتے ٹٹے ناں، ہولے ہولے پھیر دی پئی
کت کت رکھی جاں مَیں سینے دے صندوق وچ تاہنگاں دے جہیز نی
دِہی دے پلنگ اُتے ساہواں دیاں چادراں دی وچھی رہی سیج نی
پُونیاں دے چھکواں چ پئیاں اجے پونیاں شام نہ سویر دی پئی
۔۔۔
بیریاں دے باغاں وچ کِرناں نہ پاؤندیاں چاننے دا بھار وے
گالڑاں نے گَلاں والے ٹُک ٹُک بیر گالے، لوَے کیہڑا سار وے
رُتاں دیاں بدلاں نے گَڑیاں دا زور پایا جھڑ گئے نے بار وے
بُھلا تُو جے راکھیاں ، گُتاں دیاں لگراں نوں بنھ بنھ گھیر دی پئی
۔۔۔
مہنیاں دے واچھڑاں نے سِراں دے بنیریاں دے لیپ کھور تے
طعنیاں دے جھانبڑا ں نے اَکھاں اُتے چھجیاں دے کُنڈ بھور تے
جوٹھے مُوٹھے آسرے دی کِری جاندی مٹی وے کندھ جاوے ڈ ِگدی
سدھراں دے پوچیاں نوں دل دیاں چھتاں اُتے کدوں توں مَیں پھیر دی پئی
۔۔۔۔

اس نظم میں انتظار، آرزو، بڑھتی عمر، طعنے اور بکھرتی ذات کا سارا باطنی کرب ترکلے، چرخے، پونی، جہیز کے صندوق، بیری کے باغ اور بھربھری مٹی کی دیوار کے ذریعے کاتا گیا ہے، یعنی نارسائی کی مابعدالطبیعیات بھی دیہی پنجاب کی ٹھوس لفظیات اور مقامی اسلوب میں ڈھل کر آتی ہے۔ یہاں بھی متکلم عورت ہے، کاتتی ہوئی، اپنی تمناؤں کا جہیز سینت سینت کر رکھتی ہوئی، اپنی اَن بچھی سیج کا نوحہ کہتی ہوئی ایک لوک نسائی آواز جو پنجابی روایت کی اپنی ہے اور مرد عاشق کے مدار میں گھومنے والی اردو شاعری کے لیے سرے سے اجنبی۔

ایسا لگتا ہے جیسے ایک بٹن دبانے سے چینل بدل گیا، پالیسیاں بدل گئیں، انداز بدل گیا، بلکہ پوری کائنات بدل گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟

دو زبانیں، دو روایتیں، دو رجسٹر

میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب شاعر اردو میں لکھتا ہے تو اردو روایت کا تابع ہوتا ہے۔ وہ شاعر (اگر وہ اچھا شاعر ہے تو، اور ظاہر ہے ہم برے اور نیم پڑھے شاعروں کی بات کر ہی نہیں رہے) میر و مرزا، لکھنؤ کے شعرا، غالب و مومن، سر سید کی تحریک، حالی کی تنقید، اکبر و اقبال، جوش و فراق سے واقف ہوتا ہے۔ اسے ترقی پسند شاعری کا علم ہو گا، جدید نظم کے میرا جی، راشد، فیض، مجید امجد اور اختر الایمان جیسے پنج تن سے واقف ہو گا۔ بعد میں لسانی تشکیلات وغیرہ سے آگاہ ہو گا، اور ناصر، منیر، شکیب، ظفر جیسے جدید غزل گوؤں سے بھی روشناس ہو گا۔ اس لیے اردو شاعر شعوری اور لاشعوری دونوں طریقوں سے اس روایت کے ماتحت ہو کر لکھتا ہے، اس سے باہر نہیں نکل سکتا۔

دوسری طرف جب پنجابی شاعر لکھتا ہے تو وہ کس روایت کے تحت لکھتا ہے؟

وہ بابا فرید کی روایت میں لکھتا ہے۔ وہ بلھے شاہ کی روایت میں لکھتا ہے جس کے ہاں آفاقی مضامین ہیں، لیکن ان مضامین کا لباس کھیت اور چرخہ ہیں۔ اس کے پیچھے وارث شاہ کھڑا ہے جو دیہی پنجاب کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ پنجاب کے موسم، جانور، پودے، ذاتیں، کھانے، پیشے، کیا ہے جو وارث شاہ کے ہاں نہیں ہے۔

اور یہی اصل بات ہے کہ پنجابی شاعر قلم اٹھاتے وقت میر و غالب اور اقبال و فیض والی روایت کا پرنالہ بند کر لیتا ہے اور پنجابی شاعروں والا چشمے سے سیراب ہونے لگتا ہے۔ اردو والوں کے کردار روایت کے مطابق لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، وامق و عذرا وغیرہ ہیں، پنجابی کے کردار ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، سسی پنوں وغیرہ ہیں۔

ایک اور وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پنجابی شاعری کی روایت یہ رہی ہے کہ اس میں خطاب عام دیہاتی فرد سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلاسیکی پنجابی کے عظیم شعرا کے کلام کے بڑے حصے پنجاب بھر کے کم پڑھے لکھے، یا بالکل ان پڑھ لوگوں کو بھی حفظ ہوتے ہیں اور وہ انہیں روزمرہ معاملات میں حوالے کے طور پیش کر سکتے ہیں۔ اس لیے شاعر بھی شعوری یا لاشعوری طور پر اپنی اصل آڈیئنس سے قریب رہنے کی کوشش کرتے رہے۔
اس کے برعکس اردو شاعر کے پیشِ نظر پڑھے لکھے لوگ تھے، جو حافظ و سعدی سے واقف ہوں، فلسفے سے روشناس ہوں اور لیلیٰ مجنوں، شریں فرہاد وغیرہ جیسے کرداروں کو جانتے ہوں۔

شہری زبان، دیہاتی زبان

یہاں ایک اور اہم بات کا ذکر ضروری ہے۔ اردو بنیادی طور پر شہری اور درباری زبان ہے۔ پہلے دکن کے درباروں میں اس کا پنر جنم ہوا، پھر دہلی میں پھلی پھولی۔ وہاں لکھنو میں جا بسی، اور آخر آخر لاہور میں ڈیرے ڈال لیے۔ اس زبان کا کبھی گاؤں دیہات، کسان، کھیت، کھلیان سے واسطہ ہی نہیں پڑا۔ پورے برصغیر میں کوئی ایسا گاؤں نہیں جس کی زبان اردو ہو۔ بلکہ اردو کو چھوڑیں، کوئی ایسا گاؤں بھی نہیں جس کی زبان ہندی ہو۔ ہندوستان میں جن علاقوں میں اردو بولی جاتی ہے وہ وہاں کے شہروں تک محدود ہے، دیہات کے لوگ اودھی، برج، بھوجپوری اور دوسری مقامی زبانیں بولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، مراٹھی، بنگالی وغیرہ کے برعکس امیر خسرو سے منسوب چند کہہ مکرنیوں کے علاوہ اردو کا تقریباً کوئی لوک ادب ہی نہیں ہے، کیوں کہ لوک ادب دیہات میں پروان چڑھتا ہے، شہروں میں نہیں۔

یہ بات اس لحاظ سے بھی بہت اہم ہے کہ دیہات میں لوگوں کا ذخیرۂ الفاظ بھی شہر والوں سے مختلف ہوتا ہے۔ دیہاتی فطرت سے بھی شہری کے مقابلے پر کہیں قریب ہوتے ہیں۔ دیہاتی کو اپنے گاؤں اور اس کے آس پاس کے علاقے میں اگنے والے بیسیوں درختوں، پودوں، پرندوں، کیڑے مکوڑوں، سانپوں اور دیگر جانوروں کے نام ازبر ہوتے ہیں۔ اردو والے کے لیے گھاس فقط ایک گھاس ہے، کسان کو گھاس کی دس قسمیں معلوم ہیں کیوں کہ اس کی معاش کا انحصار اسی پر ہے۔

جو لوگ جنگلاتی علاقوں میں رہتے ہیں، ان کی زبانوں میں درختوں اور لکڑیوں کے بیسیوں نام ہوتے ہیں۔ ساحلوں والوں کو کشتی رانی، مچھلی اور مچھلی کے شکار سے متعلق الفاظ کی کثرت ہوتی ہے۔ یہی حال صحرائی علاقوں، پہاڑی علاقوں اور برفانی علاقوں کا ہے۔ ظاہر ہے کہ مقامی لفظ کسی زبان کی شاعری کی برتے جائیں گے تو خود بخود مقامیت آ ہی جائے گی۔

اس کے مقابلے پر اردو میں ان الفاظ کی بجائے شہری زندگی سے متعلق الفاظ کی کثرت ہے۔ یہاں آپ کو اشرافیہ اور ان کے سروکاروں سے متعلق بےشمار الفاظ ایسے مل جائیں گے جو مقامی زبانوں میں نہیں پائے جاتے۔

حالی کا مقدمہ

یہاں اگر آپ کے ذہن میں حالی کا نام آئے تو اس میں حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ حالی سوا سو سال پہلے کہہ گئے تھے کہ اردو شاعری بناوٹی ہے، حقیقی زندگی سے کٹی ہوئی ہے، اسے ’نیچرل‘ ہونا چاہیے، وغیرہ۔

آپ سوچ سکتے ہیں کہ کہیں میں بھی وہی حالی والا راگ تو نہیں الاپ رہا؟ اس کا جواب ہے، نہیں۔ میرے اور حالی کے نقطۂ نظر میں بنیادی فرق ہے۔ حالی ایک مصلحِ قوم تھے جو سر سید کی مقصدیت کی تحریک کا علم لے کر اٹھے تھے، اور اسی تحریک کے تحت انہوں نے محمد حسین آزاد کے ساتھ مل کر الزام لگایا تھا کہ ہماری شاعری ناقص ہے، قصائد سنڈاس سے بدتر ہیں، غزل مبالغہ آرائی کا مرقع ہے، اسے ٹھیک کرو، نیچرل شاعری کرو، شعروں میں ’اصلیت‘ اور ’جوش‘ پیدا کرو۔

یہ نقطۂ نظر درست نہیں تھا۔ حالی اینڈ کو کا بنیادی مفروضہ ہی غلط تھا کہ شاعری حقیقی دنیا کی عکاسی کرتی ہے یا اسے کرنا چاہیے، اور جو شاعر ایسا نہیں کرتا وہ بناوٹی کام کر رہا ہے۔ یہ مفروضہ حالی کا اپنا نہیں تھا بلکہ ’مغربی لالٹینوں‘ سے چھن کر ان تک پہنچا تھا۔ حالی سے کوئی نوے برے قبل ورڈزورتھ نے اپنی کتاب کے مقدمے میں وہ ساری باتیں لکھ دی تھیں جن پر حالی کا مقدمہ کھڑا ہے۔

حالی کی دوسری، اور زیادہ بنیادی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے غزل پر ایک ایسے جرم کا الزام لگایا جو سرے سے جرم تھا ہی نہیں۔ بقول فرانسس پرچٹ کے، شاعری چونکہ لفظوں سے بنی ہوتی ہے اس لیے وہ لازمی طور پر بیرونی دنیا سے کٹی ہوئی ہوتی ہے۔ غزل نے دنیا کی نقالی کرنے کا کبھی دعویٰ کیا بھی نہیں اور اس کا سفر فطرت سے فن کی طرف نہیں، بلکہ فن سے فن کی طرف ہے، جب کہ حالی نے اسے فطرت کی ناکام نقل سمجھ کر دفعہ لگا دی۔

پھر ایک اور فرق یہ بھی ہے کہ حالی نری فطری شاعری کی بات کر رہے ہیں، میرا بنیادی نکتہ مقامیت ہے۔ حالی نے مقامیت کو سرے سے موضوع ہی نہیں بنایا۔ اس لیے میرا حالی سے مقدمہ الگ ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اردو شاعری میں کوئی کمی ہے جسے دور کیا جانا چاہیے۔ میں صرف سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اردو اور پنجابی شاعری میں بنیادی فرق کیا ہے اور کیوں ہے۔ حالی اردو کو ’درست‘ کرنا چاہتے تھے، میں اسے محض پنجابی کے مقابل رکھ کر فرق کی نشان دہی کر رہا ہوں، میرا دونوں زبانوں کی درجہ بندی یا تعینِ قدر کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اس تمام طول کلام کا ماحصل یہ ہے کہ بٹالوی کی کنڈیالی تھور اور غالب کا دشتِ امکاں دو مختلف سلطنتیں ہیں، دو مختلف دنیائیں ہیں، جن سے الگ الگ لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں