دشتِ امکاں اور کنڈیالی تھور: اردو اور پنجابی شاعری میں مقامیت اور فطرت نگاری(1)-ظفر سید

کیا وجہ ہے کہ ایک شاعر جب اردو میں لکھنے کی سوچتا ہے قلم اٹھاتے ہی کائنات، زمان و مکان، خدا، تقدیر، ازل و ابد اور فنا و بقا کے ’آفاقی‘ رتھ پر سوار ہو جاتا ہے، اور ایسی تجریدی، فرضی اور مصنوعی دنیا تخلیق کرنے لگتا ہے جو صرف تصوروں، خوابوں اور خیالوں میں موجود ہے اور حقیقت سے اس کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا پاؤں کے چھالے سے لامکاں کا۔

مگر کیسی عجیب بات ہے جب وہی شاعر اپنی مادری پنجابی زبان میں لکھتا ہے تو کاغذ پر کپاس کے ڈوڈے بکھرتے ہیں، سرسوں کے ساگ کا ذائقہ زبان پر گھلتا ہے، گدّے کی للک، ڈھول کی تھاپ سنائی دیتی ہے، چرخے کی گھوں گھوں کانوں میں پڑتی ہے، مقامی ثقافت کی میٹھی مہک مشام میں آتی ہے اور اچانک ایک ہنستی رستی بستی بس جاتی ہے۔

ایسے شاعروں کی مثالیں بعد میں، پہلے ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ اردو شاعری مقامی ثقافت سے بڑی حد تک کٹی ہوئی کیوں ہے، اس میں مٹی کی خوشبو کیوں نہیں ہے، اور کیوں اس میں ہمیں ٹھوس دنیا نظر نہیں آتی جسے چھوا جا سکے، محسوس کیا جا سکے؟

اردو شاعری کی تاریخ پر ایک نظر

آفرینش یعنی امیر خسرو کو ایک طرف رکھیں تو اردو شاعری کا آغاز دکن سے ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دکن میں لکھی جانے والی وجہی اور نصرتی کی مثنویوں اور قلی قطب شاہ کی نظموں میں ’دیسی‘ مصالحہ موجود تھا، مگر اردو تاریخ کی کتابوں کے مطابق 1700 کے قریب صوفی بزرگ شاہ گلشن نے ولی دکنی کو مشورہ دیا کہ فارسی مضامین، تراکیب اور اسالیب بیکار پڑے ہیں، انہیں کیوں استعمال نہیں کرتے؟ ولی نے اپنے مرشد کی نصیحت کا استرا ہاتھ میں پکڑ، اپنی غزل کو دکنی یعنی دیسی عناصر کی حجامت کر ڈالی۔

انہی ولی کا دیوان 1722 میں دلی پہنچا، پہنچتے ہی بقول میر شیطان کی طرح وائرل ہو گیا اور ہر کوئی ان کے انداز میں شاعری کرنے لگا۔ لیکن دلی والوں کو دارالحکومت کے باسی ہونے کے ناطے جو تفاخر تھا، اس کی وجہ سے وہ کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے تھے کہ وہ دکنی روایت کی پیروی کر رہے ہیں، اس کا لازی نتیجہ ایک ایسی شعوری کوشش کی صورت میں نکلا جس میں انہوں نے اردو کو ’دیسی دکنیت‘ سے پاک کرنے کی کوشش کی اور مقامی عناصر (ہولی، دیوالی، ساون بھادوں)، مقامی الفاظ (پیا، سجن، گوری، پریتم وغیرہ) کے ساتھ ’لچر‘ کی دم باندھ دی اور ولی سمیت دیگر دکنی شاعروں کو کان سے پکڑ کر کینن سے باہر کر دیا گیا۔

اس بحث میں ہم غزل کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں کہ غزل تو ہے ہی رسومیاتی اور روایتی صنف جو حقیقی دنیا کے متبادل اور مقابل اپنی الگ دنیا تخلیق کرتی ہے جس کا اصل دنیا سے تعلق محض رسمی ہوتا ہے، ظاہر ہے اس میں مٹی اور مٹی کی خوشبو کہاں سے آئے۔ ویسے بھی جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، یہ صنف اردو نے فارس سے جڑوں سمیت اکھاڑ کر اپنے آنگن میں نصب کر دی اور صدیوں سے اس پر انہی مفرس خیالات، درآمدہ تصورات، مضامین، معانی اور انسلاکات کا پانی دیتے چلے آ رہے ہیں۔

آپ کہیں گے قصیدے میں بڑا بڑا منظر ملتا ہے، خاص طور پر تشبیب میں بہار کا احوال، شکار، پہاڑ، صحرا، گل و گلشن۔ لیکن اس امر کو کیا کیجیے کہ قصیدہ غزل سے زیادہ روایتی اور رسومیاتی صنف ہے۔ اس میں کوئی حقیقی منظر نہیں ہیں جو شاعر نے اپنی آنکھوں سے دیکھے، سنے، سونگھے اور رقم کیے ہوں۔ یہ خالص آئیڈیالائزڈ آرائشی کنونشن ہے، کاغذی پھولوں کا باغ ہے، جس پر شاعر لفاظی کا کتنا بھی عطر چھڑکے، اس سے اصل باغ کی خوشبو نہیں آتی۔ اور باغ تو ویسے بھی مصنوعی ہوتا ہے، اصل فطرت اس میں کہاں ملتی ہے۔

اردو کے سب سے بڑے قصیدہ نگار سودا کو دیکھیے تو پتہ چلے گا کہ صرف زبان اردو ہے، ورنہ باقی سب کا سب فارسی سے قسطوں پر ادھار لیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ سودا نے اپنے اکثر قصیدوں کی زمینیں بھی فارسی کے بڑے شعرا انوری، خاقانی، عرفی اور صائب وغیرہ سے اٹھائی ہیں۔

آب جو گردِ چمن لمعۂ خورشید سے ہے
خطِ گلزار کے صفحہ پہ طلائی جدول
سایۂ برگ ہے اس لطف سے ہر اک گل پر
ساغرِ لعل میں جوں کیجے زمرد کو حل
فیضِ تاثیرِ ہوا یہ کہ اب حنطل سے
شہد ٹپکے جو لگے نشترِ زنبورِ عسل

یہ خالص ایرانی چمن ہے، اس کا ہندوستان سے کیا لینا دینا۔
اب آ جاتے ہیں مثنوی پر۔ عام تصور ہے کہ مثنوی میں کیا پائے کی فطرت نگاری ہوتی ہے، کیا باغ و راغ، کیا پھول بوٹے، کیا کوہ و دمن، کیا دشت، کیا بیابان۔ مگر غور سے دیکھیں تو مثنوی میں بھی وہی کچھ ہے۔ مثالی دنیا، افسانوی، خیالی، سوچی ہوئی دنیا، دیکھی اور محسوس کی ہوئی نہیں۔
میری باتوں پر نہ جائیے، میر حسن کی مثنوی سحرالبیان کا یہ ٹکڑا دیکھ لیجیے:

کھڑے سرو کی طرح چمبے کے جھاڑ
کہے تو کہ خوشبوئیوں کے پہاڑ
کہیں زرد نسریں، کہیں نسترن
عجب رنگ پر زعفرانی چمن
پڑی آبجو ہر طرف کو بہے
کریں قمریاں سرو پر چہچہے
گلوں کا لبِ نہر پر جھومنا
اسی اپنے عالم میں منھ چومنا

آپ کہیں گے مرثیہ بھول گئے، جس میں صحرا و دریا، جنگ و جدل، گھوڑے، تلوار، دوپہر کی تپش، اس قدر تفصیلی حسی جزئیات کہ اسے اردو بیانیہ شاعری کا جھومر کہا جاتا ہے۔

یہ نکتہ سر آنکھوں پر، مگر مجھے کہنے دیجیے کہ مرثیے کی فضا بھی مثنوی کی طرح مکمل رسومیاتی ہے۔ منظر نگاری کی حد تک مرثیے میں بڑی حد تک دو ہی مظاہر کا بیان ملتا ہے، صبح کے وقت صحرا میں گل و گلشن کی بہار کے زمزمے اور دوپہر کے وقت جہنمی گرمی کی چیرہ دستیاں۔ یہاں جو باغ و بہار دکھائی گئی ہے یہ دیکھی اور محسوس کردہ بہار نہیں ہے، یہ گل بوٹے شاعر کے دیکھے گل بوٹے نہیں ہیں کیوں کہ قصیدے کی طرح یہاں بھی محور مبالغہ ہے، اور مبالغہ بھی چھت پھاڑ۔ انیس کے ہاں سے مثال دیکھیے:

ٹھنڈی ٹھنڈی وہ ہوائیں وہ بیاباں و سحر
دم بدم جھومتے تھے وجد کے عالم میں شجر
اوس نے فرش زمرد پہ بچھائے تھے گہر
لوٹی جاتی تھی لہکتے ہوئے سبزے پہ نظر
دشت سے جھوم کے جب باد صبا آتی تھی
صاف غنچوں کے چٹکنے کی صدا آتی تھی

شاعری کمال کی ہے، مگر جو ماحول دکھایا گیا ہے وہ روایتی شاعرانہ ماحول ہے۔ ہم جس دیسی پن اور مقامیت کی بات کر رہے ہیں وہ اس میں نہیں ہے، اور ہوتی بھی کیسے، یہ ہندوستان کا بیان ہی نہیں۔

نظیر اکبر آبادی

اب وہ مقام آ گیا ہے جہاں ہمیں اس شاعر سے آنکھیں چار کرنا ہوں گی جس سے بچ کے نہیں نکلا جا سکتا اور وہ ہیں نظیر اکبر آبادی۔
قلی قطب شاہ، وجہی اور نصرتی جیسے دکنی شاعروں کو چھوڑ کر نظیر

اکبر آبادی وہ پہلے اردو شاعر ہیں جن کے ہاں ٹھیٹ دیسی رنگ جھلکتا ہے، بلکہ جھلکتا کیا، چھلکتا ہے۔

سر سید اور حالی کی مقصدی شاعری اور بیسویں صدی کی ترقی پسندی سے کہیں پہلے نظیر عام پیشوں، مزدروں، میلوں ٹھیلوں، موسموں، پھلوں، سبزیوں، ترکاریوں، خوراکوں، حتیٰ کہ ہولی، دیوالی، راکھی، جنم کنہیا، بلدیو جی کے میلے جیسے کھرے ہندوستانی تہواروں سمیت عوامی زندگی کے رنگارنگ پہلوؤں کو موضوع بناتے ہیں۔ ان کے ہاں رسمی اور روایتی بیانات نہیں ہیں، بلکہ آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی زندگی ملتی ہے۔

روایتی اردو شاعروں کے تقریباً تمام کلام کا صفائی سے فارسی میں یوں ترجمہ کیا جا سکتا ہے کہ ایرانیوں کو اسے سمجھنے میں کسی تہذیبی دیوار کا سامنا نہ کرنا پڑے، کیوں کہ انہیں یہاں بھی وہی مانوس فضا، وہی ہوا ملے گی۔ مگر نظیر کا آسانی سے فارسی سے ترجمہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ انہیں سمجھنے کے لیے ہندوستانی رہن سہن کو بھی سمجھنا ہو گا۔

لیکن اس سے اگر کوئی سمجھے کہ میرا مقدمہ کمزور پڑتا ہے کہ اردو شاعری نے جان بوجھ کر مقامی پن سے آنکھیں پھیرے رکھیں تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے۔ اس سے تو یہ مقدمہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نظیر کو صدیوں تک روایت سے باہر کیوں رکھا جاتا؟ اردو تذکرے کیوں ان کا ذکر کرنے سے یوں شرماتے جیسے کوئی افسر اپنے بوڑھے دیہاتی باپ کو مہمانوں سے ملوانے سے کتراتا ہے؟ چونکہ نظیر کے ہاں عوامی زندگی تھی، مٹی سے جڑت تھی، دیسی پن، زمین سے سوانحی تعلق تھا، اسی لیے انہیں حاشیے سے بھی دھکیل دیا گیا اور فیلن نامی ایک لغت ساز انگریز نے آ کر پہلی بار اسے دریافت کیا کہ بھائی لوگو، تمہارے خاکستر میں ایک ایسی چنگاری بھی ہے۔

ہمارے روایتی شاعر ہندوستانیت سے کچھ یوں کتراتے تھے کہ انہوں نے میرے مطالعے کی حد تک کبھی تاج محل تک کا اپنی شاعری میں ذکر کرنا گوارا نہیں کیا، حالانکہ ہمارے دو سب سے بڑے شاعر میر و غالب آگرہ ہی کے رہنے والے تھے اور ان کا بارہا تاج سے سامنا رہا ہو گا۔ یہ اعزاز بھی میرے حساب سے نظیر کو حاصل ہوا کہ انہوں نے پہلی بار تاج محل پر اردو میں نظم لکھی:

یارو جو تاج گنج یہاں آشکار ہے
مشہور اس کے نام یہ شہر و دیار ہے
خوبی میں سب طرح کا اسے اعتبار ہے
روضہ جو اس مکان میں دریا کنار ہے

لیکن افسوس کہ جس خالص فطرت کی میں بات کر رہا ہوں، وہ نظیر کے ہاں بھی نہیں ہے۔ ان کے ہاں شہر کی زندگی کی ہماہمی، انسانی تعلقات کی رنگارنگی اور عام انسان کی گزاری ہوئی زندگی کی کروٹیں اور موجیں تو مل جاتی ہیں، مگر انسانی بستیوں سے دور ٹھاٹھیں مارتی قدرتی لینڈسکیپ کی امیجری ان کے ہاں بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خالص فطرت گاؤں دیہات میں ملتی ہے، نظیر رہے شہر کے باسی، وہ اس طرح سے فطرت سے جڑ نہیں سکے جو دنیا کی دوسری زبانوں کے شاعر کا خاصہ رہا ہے۔

یہ الگ بات کہ نظیر بہت اکہرے شاعر ہیں اور وہ منظر کا صرف سطحی بیان سامنے رکھتے ہیں، اس سے کوئی بڑے تہذیبی نہ سہی، شاعرانہ یا فنکارانہ معنی بھی برآمد نہیں کر پاتے، مگر اس خامی کے باوجود نظیر کا دم غنیمت ہے، اور اگر وہ نہ ہوتے تو اردو شاعری کے کتاب خانے کا ایک شیلف بالکل خالی خولی رہ جاتا۔

بیسویں صدی کی اردو شاعری میں فطرت

یہاں ہمارا سامنا جس ہمالہ سے ہوتا ہے اس کا نام ہے اقبال۔ ان کے ہاں کسی حد تک فطرت موجود ہے، مثلاً ان کی نظم ’ہمالہ،‘ مگر آپ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ پتھر، مٹی برف کا پہاڑ نہیں بلکہ اسے علامت کے طور پر برتا گیا ہے۔ اور ویسے بھی اقبال کا پراجیکٹ صرف ایک ملک سے کہیں بڑھ کر تھا، وہ تو نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر کی بات کرتے تھے، اس لیے اس میں ٹھیٹ دیسی پن کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ فطرت اور دیہاتی فطرت جس اردو شاعر کے ہاں پہلی بار دکھائی دی ہے وہ مجید امجد ہیں۔ ان کی نظمیں لینڈ سکیپ کا بیان کرتے کرتے ہوئے ان کے اپنے جذبات کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہیں اور منظر اپنی ٹھوس اور حسی جزئیات سمیت وسیع تر شعری تجربے کا حصہ بن جاتا ہے۔

مجید امجد کے ہاں درخت محض استعارہ نہیں، جھنگ اور ساہیوال کے مقامی ماحول میں کھڑی ٹھوس، جیتی جاگتی ہستیاں ہیں۔ شہروں کھلا کرنے کی خاطر آروں میں زد میں آ کر زرد دھوپ کے کفن میں لپٹی درختوں کی لاشیں (توسیعِ شہر)، گوبر کے چھینٹوں سے لتھڑی ہوئے قبائیں پہنے کپاس کے ڈوڈے چنتی جٹیاں (ریل کا سفر)، رنگین بدلیوں سے چھن کر آتی مسافتوں پر پھیلے تانبے کے ورق کو ٹھنٹھناتی بوندیں (بہار) اور کئی دوسری نظمیں مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔

مگر کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مجید امجد بھی عمر بھر نظیر اکبر آبادی کی طرح روایت کے حاشیے پر رہے؟ زندگی میں انہوں نے صرف ایک ہی شعری مجموعہ (شبِ رفتہ: 1958) چھپوایا مگر اس پر آنے والے ردِ عمل سے مایوس ہو کر انہوں نے زندگی بھر اپنی کوئی اور کتاب شائع کروانے کی کوشش نہیں کی، حالانکہ شاعری وہ مرتے دم تک کرتے رہے۔

بیسویں صدی میں اردو شاعری کی شمع پنجاب نے اٹھا لی تھی اور کیسا کیسا شاعر یہاں پیدا ہوا، اقبال، فیض، راشد، میرا جی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ان کے ہاں سے دیسی پن اور مقامیت بڑی حد تک غائب ہے۔

آپ پوچھیں گے کہ بھئی یہ دیسی پن اور مقامیت ہوتی کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے میں آپ کا تعارف مجید امجد کے ہم عصر پنجابی کے شاعر شیو کمار بٹالوی سے کروانا چاہتا ہوں۔

شیو کمار بٹالوی اور دوسرے پنجابی شاعر

بٹالوی 1936 میں پیدا ہوئے اور میرا جی کی طرح صرف 37 برس زندگی پا کر رخصت ہو گئے۔ بٹالوی کی شاعری کسک دیتے رومان، نارسائی اور ہجر کی شاعری ہے، لیکن وہ اپنے درد کے اظہار کے لیے مٹی سے جڑے مناظر اور مظاہر کو استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کا غم حسی، ٹھوس اور حقیقی بن جاتا ہے۔

ایک آدھ مثال دیکھ لیجیے تاکہ بات واضح ہو جائے۔

بٹالوی کی ایک مشہور پنجابی نظم ہے، ’میں کنڈیالی تھور۔‘ اس پر ایک نظر دوڑا کر دیکھ لیتے ہیں۔

اے سجن، میں وہ خاردار تھوہر ہوں
جو ویرانوں میں اگی ہو
یا اڑتی ہوئی وہ بدلی ہوں
جو پہاڑوں میں برس گئی ہو
یا وہ دیا جو جلتا ہے
پیروں کی دہلیز پر
یا کوئی ایسی کوئل جس کے گلے کی
رگیں سوج گئی ہوں
یا چنبیلی کی کوئی ڈالی
جو جلنے کے لیے ایندھن بن جائے
یا مروے کا وہ بسنتی پھول
جسے مینائیں چونچ مار کر کھا جائیں

غور کیجیے کہ ہر امیج کہاں سے آیا ہے؟ یہاں نہ گل ہے، نہ بلبل، نہ شمع ہے نہ پروانہ، نہ میکدہ ہے نہ پیرِ مغاں۔ یہ سارے حوالے دیہی پنجاب کی دیکھی بھالی، محسوس کی گئی زندگی سے اٹھائے گئے ہیں۔ پھر، نظم کی تکنیک دیکھیے کہ بٹالوی مناظرِ فطرت کا بیان برائے بیان نہیں کر رہے، وہ اپنا دکھڑا فطرت کی زبانی رو رہے ہیں جس میں لوکیل ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ لیکن اسی نظم میں ایک اور چیز ایسی ہے جو اسے اردو روایت سے یکسر مختلف کر دیتی ہے، اور وہ ہے متکلم، جو مرد نہیں، بلکہ ہندوستانی روایت کے مطابق عورت ہے۔ دکنی میں بھی کہیں کہیں متکلم عورت ہے، لیکن دلی والوں نے اسے بھی کھرچ کر الگ کر دیا تھا۔

بٹالوی ہی کی ایک اور نظم پر بھی نظر دوڑا لیتے ہیں۔ اس کا ترجمہ میرے بس کی بات نہیں، اس لیے پنجابی پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔

شکرا

مائے! نی مائے!
میں اک شکرا یار بنایا

اوہدے سر تے کلغی
تے اوہدے پیریں جھانجھر
تے اوہ چوگ چگیندا آیا

اک اوہدے روپ دی
دھپ تکھیری
دوجا مہکاں دا ترہایا

تیجا اوہدا رنگ گلابی
کسے گوری ماں دا جایا
نی میں واری جاں!

نینیں اوہدے
چیت دی آتھن
اتے زلفیں ساون چھایا

ہو ٹھاں دے وچ کتیں دا
کوئی دیہوں چڑھنے آیا

ساہواں دے وچ
پھل سویاں دے
کسے باغ چنن دا لایا

اگر ’کنڈیالی تھور‘ دیہی اور ماورائی دنیاؤں کے امتزاج کی مثال ہے، تو ’میں اک شکرا یار بنایا‘ معاملے کا دوسرا رخ دکھاتی ہے کہ کیسے لوک عناصر سے ایک جذباتی واقعے کی بافت ہو سکتی ہے۔ یہاں بھی متکلم عورت ہے اور محبوب ظالم سہی مگر اردو/فارسی والا محبوب نہیں، اس کے سراپے کی ساری تصویرں سراسر مقامی ہیں: روپ کی تیکھی دھوپ، مہکوں کی تشنگی، گلابی رنگ، چیت کی شام جیسی آنکھیں، ساون کے بادل جیسی زلفیں، اور سانسوں میں اگتا چندن کا باغ۔ یہ دیسی موسموں، پھولوں، خوشبوؤں اور دیہی منظرنامے کی دیسی لفظیات ہیں جن کے پیچھے صدیوں پرانے لوک گیتوں اور مقامی دانش کی گونج ہے۔

ایسا نہیں کہ اردو شاعر کے پاس یہ احساس نہیں، اردو میں درد و غم کا اظہار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، فرق اتنا ہے کہ اردو شاعر اپنے غم کو رسمی دنیا کے اندر رہ کر بیان کرتا ہے، بٹالوی ذاتی کرب کو مقامی دنیا کے ذریعے سے نظم کا روپ دے رہا ہے۔ یہ اردو شاعری کی کمی نہیں، بس پنجابی شاعری سے فرق ہے، جسے واضح کرنا ضروری ہے۔

ایسا نہیں کہ تان صرف بٹالوی پر ٹوٹ جاتی ہو۔ اکثر پنجابی شاعروں کے پاس یہی مقامی لحن، یہی فطری رنگ روپ ہے۔ شریف کنجاہی کے دو مصرعے دیکھیے:

تیرا پنڈا پوری تُوت دی، تیری لگراں ورگی بانہہ
تیرے بُلھ نیں پھل کریر دے، تیرا جوبن ون دی چھاں

احمد راہی کی کتاب ’ترنجن‘ تو ہمارے زیرِ بحث لوک اسلوب کی بحث کو پوری طرح سے سمیٹتی دکھائی دیتی ہے۔ ترنجن وہ دیہی محفل ہے جہاں گاؤں کی عورتیں مل کر چرخہ کاتتی اور گاتی ہیں۔ اس نظم میں بیک وقت دیہی ادارہ بھی ہے، لوک گیت کی فضا بھی، اور گاؤں کی عورت کی اجتماعی دنیا بھی۔ راہی اسی کنونشن کو استعمال کرتے ہوئے اس دنیا میں سنہ سینتالیس کی ہولناکی اور اغوا، قتل اور پامال ہونے والی پنجابی عورت کا نوحہ انڈیل دیتے ہیں۔ مگر غور کیجیے کہ یہ نوحہ کس اسلوب میں کہا گیا ہے: چرخے کی گھوں گھوں، پونیاں اور تنبے ہوئے دھاگے، چوڑے کی چھنکار، سونی پڑی ترنجن کی پھوہڑی، بِن مہندی ہاتھ، وہ ڈولی جو کبھی نہ آئی، اور بابل کا گھر۔ یعنی واقعہ تو تقسیمِ ہند کا اجتماعی سانحہ ہے، مگر اس کا ہر دھاگہ گاؤں کی عورت کی ٹھوس، گھریلو دنیا سے کاتا گیا ہے۔

کِیویں کتّاں کِیویں تُماں درداں والیے مائے
اج ترنجنی پھوڑیاں وِچھیاں
چُوڑے دے چھنکارے
لُٹ لے گئے ونجارے
ہاواں دے لَنبُو نی مائے
اج کوارے ہاسے
جاواں کیہڑے پاسے
اَگّے پِچّھے سَجے کَھبّے
یاں کیدو، یاں کھیڑے
جنہاں نیں لکّھاں ہیراں لُٹیاں
لکّھاں رانجھے ساڑے
کنّوں سناواں ہاڑے

تقسیم اور فسادات کے موضوع پر اردو شاعروں نے بھی بےبہا نظمیں لکھی
ہیں، مگر ان کے ہاں یہ مقامیت کم از کم مجھے نظر نہیں آئی۔

جاری ہے

بشکریہ فیسبک وال

اپنا تبصرہ لکھیں