تاریخ کبھی صرف گزرا ہوا وقت نہیں ہوتی، تاریخ دراصل زندہ قوموں کا آئینہ ہوتی ہے۔ اس آئینے میں کبھی فتوحات مسکراتی ہیں، کبھی شکستیں آنکھیں نم کر دیتی ہیں اور کبھی کچھ تاریخیں ایسی ہوتی ہیں جو ہر سال لوٹ کر قوم کے دروازے پر دستک دیتی ہیں اور خاموشی سے پوچھتی ہیں کہ کیا تم نے کچھ سیکھا؟ پانچ جولائی بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی ایک دن ہے بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو گزشتہ نصف صدی سے ہر پاکستانی کے شعور کے گرد گردش کر رہا ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس نے اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ قوم کی اجتماعی نفسیات کو متاثر کیا، ریاست کے آئینی سفر کو جھنجھوڑا اور جمہوریت کے معنی پر نئی بحث چھیڑ دی۔پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ شاید غربت، مہنگائی یا سیاسی انتشار نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہاں تاریخ بار بار خود کو دہراتی رہی اور ہم ہر بار یہ سمجھتے رہے کہ اس مرتبہ شاید انجام مختلف ہوگا۔ افسوس کہ کردار بدلتے رہے، مگر کہانی وہی رہی۔ کبھی عوام کے نام پر اقتدار حاصل کیا گیا، کبھی عوام کے مفاد کے نام پر عوام ہی کے اختیار کو محدود کر دیا گیا۔ یہی وہ تضاد ہے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کو دنیا کی کئی جمہوریتوں سے مختلف بنا دیتا ہے۔ ڈاکٹراحمد خلیل نے کیاخوب کہا؎
ہوا کی عادت بنی ہوئی ہے یہ روشنی کی مخالفت میں
جہاں چراغوں کی لو جواں ہو وہیں کا موسم خراب رکھنا
پانچ جولائی 1977 کو جب منتخب حکومت کا خاتمہ ہوا تو بظاہر یہ ایک سیاسی تبدیلی تھی، لیکن حقیقت میں یہ صرف حکومت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ سیاسی روایت، آئینی تسلسل اور جمہوری ارتقا کے سفر میں ایک ایسا وقفہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بعض فیصلے لمحوں میں ہوتے ہیں مگر ان کے نتائج نسلوں تک قوموں کا مقدر لکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ جولائی صرف ماضی کا واقعہ نہیں، حال کا سوال اور مستقبل کا امتحان بھی ہے۔اقتدار کی اپنی ایک کشش ہوتی ہے۔ اقتدار کبھی صرف کرسی کا نام نہیں ہوتا بلکہ سوچ، اختیار، وسائل اور فیصلوں پر گرفت کا دوسرا نام بھی ہوتا ہے۔ لیکن اقتدار کی اصل خوبصورتی اس کے حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اس کے منتقل ہونے کے طریقے میں ہوتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں حکومتیں آتی بھی ہیں اور جاتی بھی ہیں، مگر ریاست آگے بڑھتی رہتی ہے۔ وہاں اختلاف حکومت سے ہوتا ہے،سسٹم سے نہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کئی مواقع پر اختلاف حکومت سے شروع ہوا اور سسٹم تک جا پہنچا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ادارے، سیاست، آئین اور عوام ایک دوسرے کے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح خود کر سکتی ہے۔ اگر کسی حکومت سے عوام ناراض ہوں تو اگلا انتخاب اس کا احتساب کر دیتا ہے۔ اگر کوئی جماعت عوامی توقعات پوری نہ کرے تو ووٹر اس کا متبادل تلاش کر لیتا ہے۔ لیکن جب انتخاب کی جگہ غیر انتخابی راستے اختیار کیے جائیں تو اصلاح کا عمل رک جاتا ہے اور قوم ایک نئے سیاسی تجربے کی طرف دھکیل دی جاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تجربات کبھی کبھی وقتی کامیابی ضرور دے دیتے ہیں، مگر پائیدار استحکام ہمیشہ آئینی تسلسل ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت پاکستان کی سیاست میں اسی لیے منفرد حیثیت رکھتی ہے کہ انہوں نے سیاست کو ایوانوں سے نکال کر گلیوں، محلوں، کارخانوں، یونیورسٹیوں اور کھیتوں تک پہنچایا۔ وہ ایک متنازع مگر غیر معمولی سیاسی رہنما تھے۔ ان کے مخالفین بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ انہوں نے عام آدمی کو یہ احساس ضرور دلایا کہ اقتدار پر سوال اٹھانا اس کا حق ہے۔ ان کی تقریروں میں عوام اپنی آواز سنتے تھے، ان کے نعروں میں محروم طبقات اپنی امید تلاش کرتے تھے اور ان کی سیاست میں پہلی بار ریاست کے عام شہری نے خود کو ایک فعال کردار کے طور پر محسوس کیا۔
بھٹو کی سب سے بڑی طاقت شاید ان کی خطابت نہیں تھی، بلکہ عوام کی نفسیات کو سمجھنے کی صلاحیت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ بھوک صرف روٹی کی نہیں ہوتی، عزت کی بھی ہوتی ہے۔ انسان صرف معاشی انصاف نہیں چاہتا بلکہ سیاسی احترام بھی چاہتا ہے۔ اسی لیے ان کی سیاست میں روٹی، کپڑا اور مکان صرف انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے تعلق کی نئی تعبیر بن گیا۔یہ درست ہے کہ بھٹو کے دور پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ان کے سیاسی فیصلوں، بعض پالیسیوں اور مخالفین کے ساتھ رویوں پر سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں اور جمہوری معاشرے میں یہ سوال اٹھنا بھی چاہیے۔ لیکن ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان میں عوامی سیاست کی جو بنیاد مضبوط ہوئی، اس میں بھٹو کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اختلاف کسی بھی سیاسی شخصیت سے ہو سکتا ہے، مگر تاریخ کا انصاف شخصیت کے مجموعی اثرات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
بھٹو ازم دراصل صرف ایک جماعت یا خاندان کا نام نہیں بلکہ ایک سیاسی تصور ہے۔ اس تصور کی بنیاد عوامی حاکمیت، پارلیمانی جمہوریت، وفاقی وحدت، سماجی انصاف اور سیاسی شرکت پر رکھی گئی تھی۔ وقت کے ساتھ اس نظریے کی عملی صورتیں بدلتی رہیں، مگر اس کی بنیادی روح آج بھی زندہ ہے۔ شاید اسی لیے نصف صدی گزرنے کے باوجود بھٹو پاکستان کی سیاست کے اہم ترین حوالوں میں شمار ہوتے ہیں۔آج کے پاکستان میں جب سیاست شخصیات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے، جب نظریات کی جگہ سیاسی اتحاد اور وقتی مفادات نے لے لی ہے، جب نوجوان سیاست سے مایوس دکھائی دیتے ہیں، تب بھٹو ازم کا اصل سوال دوبارہ سامنے آتا ہے کہ کیا سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ ہے یا عوام کو بااختیار بنانے کا نام بھی ہے؟ اگر سیاست عوام کے لیے نہیں تو پھر اقتدار کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟
جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ عوام کو ریاست کا مالک تسلیم کرتی ہے۔ ووٹ محض ایک انتخابی نشان پر مہر لگانے کا عمل نہیں بلکہ ایک شہری کی خودمختاری کا اعلان ہوتا ہے۔ جب کوئی غریب مزدور، ایک کسان، ایک استاد یا ایک طالب علم پولنگ اسٹیشن پر جا کر ووٹ ڈالتا ہے تو اس لمحے وہ ملک کے طاقتور ترین شخص کے برابر کھڑا ہوتا ہے۔ یہی جمہوریت کا سب سے حسین منظر ہے کہ یہاں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں، نہ کہ طاقتور افراد۔افسوس یہ ہے کہ ہم نے جمہوریت کو اکثر صرف حکومت بنانے کا ذریعہ سمجھا، ریاست بنانے کا نہیں۔ انتخابی نتائج قبول کرنے کے بجائے انہیں متنازع بنانے کی روایت نے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ سیاسی جماعتوں نے بھی کئی مرتبہ جمہوری اقدار کو اس وقت تک قبول کیا جب تک نتائج ان کے حق میں رہے۔ جب سیاست اصولوں کے بجائے مفادات پر کھڑی ہو جائے تو پھر جمہوریت بھی کمزور ہونے لگتی ہے۔
ریاستی ادارے کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ ان کی طاقت ان کے آئینی کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے، نہ کہ اختیارات کی توسیع میں۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں نے اسی اصول کو اپنا کر ترقی کی ہے کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے دوسرے ادارے کو مضبوط بناتا ہے۔ جہاں حدود دھندلی ہونے لگیں، وہاں بحران جنم لیتے ہیں۔ آئین دراصل انہی حدود کا محافظ ہوتا ہے۔آئین کسی حکومت کی جاگیر نہیں ہوتا، نہ کسی جماعت کا منشور۔ آئین پوری قوم کا مشترکہ معاہدہ ہوتا ہے۔ یہی وہ دستاویز ہے جو شہری کو حقوق دیتی ہے، ریاست کو اختیار دیتی ہے اور اداروں کو ذمہ داری سونپتی ہے۔ جب آئین کمزور ہوتا ہے تو صرف حکومت متاثر نہیں ہوتی بلکہ پورا ریاستی ڈھانچہ عدم توازن کا شکار ہونے لگتا ہے۔شاید اسی لیے دنیا کی ہر مستحکم جمہوریت نے آئین کو مقدس سیاسی معاہدہ سمجھا ہے۔ وہاں اختلاف حکومت سے کیا جاتا ہے مگر آئین پر نہیں۔ وہاں سیاست بدلتی رہتی ہے مگر ریاستی اصول مستقل رہتے ہیں۔ پاکستان بھی اسی استحکام کا خواہاں ہے، مگر اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آئین سے بالاتر کوئی فرد، کوئی جماعت اور کوئی ادارہ نہیں ہو سکتا۔
یہی وہ سبق ہے جو پانچ جولائی آج بھی ہمیں خاموشی سے یاد دلاتی ہے۔ تاریخ کے فیصلے وقتی جذبات سے نہیں بلکہ طویل نتائج سے کیے جاتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے نصف صدی بعد بھی پانچ جولائی صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک سوال ہے، جس کا جواب ابھی مکمل طور پر لکھا جانا باقی ہے۔تاریخ کے کچھ ابواب ایسے ہوتے ہیں جو بند ہونے کے باوجود ختم نہیں ہوتے۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ نئے سوالوں کی صورت میں واپس آتے رہتے ہیں۔ پانچ جولائی بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی باب ہے، جسے ہم بند تو سمجھتے رہے مگر وہ ہر سیاسی موسم میں دوبارہ کھل کر ہمیں آئینہ دکھاتا رہا ہے۔ پہلا حصہ ماضی کے نقش کھینچتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اور آنے والا کل کس سمت جا رہا ہے؟
جمہوریت اور آمریت کا تقابل دراصل صرف سیاسی نظاموں کا اختلاف نہیں بلکہ دو مختلف ذہنی رویوں کا تصادم ہے۔ جمہوریت سوال مانگتی ہے، آمریت اطاعت۔ جمہوریت اختلاف کو برداشت کرتی ہے، آمریت اختلاف کو خطرہ سمجھتی ہے۔ یہی بنیادی فرق کسی بھی معاشرے کے مزاج کا تعین کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سا نظام زیادہ خوبصورت دکھائی دیتا ہے، سوال یہ ہے کہ کون سا نظام انسان کو بطور شہری تسلیم کرتا ہے اور کون سا اسے محض تابع بناتا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں یہ کشمکش بار بار سامنے آتی رہی ہے۔ کبھی آئینی تسلسل مضبوط ہوا تو جمہوریت نے سانس لی اور کبھی سیاسی عدم استحکام نے اس تسلسل کو کمزور کیا تو غیر جمہوری وقفے پیدا ہوئے۔ مگر ایک حقیقت اب تاریخ نے بار بار ثابت کی ہے کہ جہاں آئینی راستہ رک جاتا ہے، وہاں سیاسی راستے طویل اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں چلتی ملتیں، بلکہ اعتماد سے چلتی ہیں۔
آئین دراصل ایک خاموش معاہدہ ہوتا ہے۔ یہ حکومت اور عوام کے درمیان بھی ہوتا ہے اور اداروں کے درمیان بھی۔ اسی لیے آئین کی بالادستی کسی بھی ریاست کے لیے محض قانونی تقاضا نہیں بلکہ وجودی ضرورت ہے۔ریاستی ادارے اگر اپنی آئینی حدود میں رہیں تو وہ ریاست کو مضبوط بناتے ہیں اور اگر حدود دھندلا جائیں تو ریاستی توازن بگڑنے لگتا ہے۔ طاقت کا حسن اس کے استعمال میں نہیں بلکہ اس کے ضبط میں ہے۔ دنیا کی تمام بڑی جمہوریتیں اسی اصول پر قائم ہیں کہ ہر ادارہ اپنی جگہ مضبوط ہو مگر دوسرے کی جگہ نہ لے۔ یہی ہم آہنگی ریاست کو استحکام دیتی ہے۔
جمہوریت کی اصل روح عوامی مینڈیٹ میں پوشیدہ ہے۔ ووٹ ایک رسمی عمل نہیں بلکہ اجتماعی شعور کا اظہار ہے۔ جب ایک قوم اپنا فیصلہ بیلٹ کے ذریعے کرتی ہے تو وہ اپنی سمت کا تعین کرتی ہے۔ اگر اس فیصلے کو بار بار مشکوک بنایا جائے تو صرف حکومت نہیں بدلتی بلکہ عوام کا اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے اور جب اعتماد کمزور ہو جائے تو ریاستیں ترقی نہیں کرتیں، صرف چلتی رہتی ہیں۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل اخلاقی اور سیاسی تربیت کا عمل ہے۔ یہ برداشت سکھاتی ہے، اختلاف کو قبول کرنا سکھاتی ہے اور مکالمے کو جنگ کے بجائے حل کا ذریعہ بناتی ہے۔ اس تربیت کے کمزور ہوتے ہی جمہوریت ایک خالی سانچے میں بدل جاتی ہے، اس کا اصل جوہر ختم ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں بھٹو ازم کا ذکر محض ماضی کی بات نہیں بلکہ حال کی ضرورت بھی ہے۔ بھٹو ازم کی اصل طاقت اس کے نعرے نہیں بلکہ اس کا تصور ہے۔ یہ تصور عام آدمی کو ریاست کا حصہ بناتا ہے، اسے یہ احساس دیتا ہے کہ وہ صرف رعایا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا شریک ہے۔ آج جب سیاست میں عام آدمی کی شمولیت کمزور محسوس ہوتی ہے تو یہ تصور دوبارہ اہم ہو جاتا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کو ایک نئے لہجے سے روشناس کرایا۔ انہوں نے ایوانوں کی سیاست کو سڑکوں کی سیاست سے جوڑا اور یہ باور کرایا کہ ریاست صرف مراعات یافتہ طبقے کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ہے۔ ان کی سیاسی فکر میں تضاد بھی تھا، شدت بھی تھی، مگر اس میں ایک چیز واضح تھی۔۔۔ عوام کو مرکز میں رکھنا۔
آج کا پاکستان ایک مختلف چیلنج سے دوچار ہے۔ یہاں نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں، مگر سیاسی عمل سے دور دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں انفارمیشن بہت ہے مگر اعتماد کم ہے۔ یہاں اظہارِ رائے زیادہ ہے مگر سننے کا حوصلہ کم ہے۔ یہ تضادات ایک ایسے معاشرے کی نشاندہی کرتے ہیں جو تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے مگر اس کا رخ ابھی واضح نہیں۔سوال یہ ہے کہ ہم نے تاریخ سے کیا سیکھا؟ کیا ہم نے یہ جانا کہ جمہوریت صرف انتخابی دن کا نام نہیں بلکہ روزمرہ کی برداشت کا نام ہے؟ کیا ہم نے یہ سمجھا کہ اختلاف دشمنی نہیں بلکہ سوچ کی ترقی کا ذریعہ ہے؟ یا ہم اب بھی اسی دائرے میں گھوم رہے ہیں جہاں ہر نئی صبح پرانے سوالوں کے ساتھ شروع ہوتی ہے؟
جب قانون سب کے لیے برابر ہو تو معاشرہ آگے بڑھتا ہے اور جب قانون مخصوص طبقات کے لیے نرم اور دوسروں کے لیے سخت ہو جائے تو اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔پانچ جولائی ہمیں صرف ماضی نہیں دکھاتی بلکہ آئینہ بھی دکھاتی ہے۔ یہ آئینہ سوال کرتا ہے کہ ہم نے اپنے سیاسی سفر میں کتنی بار سمت بدلی، کتنی بار آغاز کیا اور کتنی بار انجام تک پہنچے بغیر رک گئے۔ تاریخ کبھی مکمل نہیں ہوتی، وہ ہمیشہ ادھوری رہتی ہے جب تک اس سے سبق نہ لیا جائے۔آج کے پاکستان میں سب سے بڑی ضرورت کسی نئے سیاسی تجربے کی نہیں بلکہ سیاسی تسلسل کی ہے۔ ہمیں اداروں کو مضبوط کرنا ہے، آئین کو بالاتر رکھنا ہے اور عوامی مینڈیٹ کو مقدس سمجھنا ہے۔ یہ وہ تین ستون ہیں جن پر ہر مستحکم ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ان میں سے ایک بھی کمزور ہو جائے تو عمارت لرزنے لگتی ہے۔جمہوریت کا حسن اس کی خامیوں سمیت قبول کرنے میں ہے۔ یہ ایک ایسا درخت ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے، مگر اسے مسلسل پانی، نگہداشت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہر موسم میں اسے کاٹنے کی کوشش کی جائے تو وہ سایہ نہیں دے سکتا۔
تاریخ اپنے فیصلے سنا دیتی ہے، مگر قومیں اپنے مستقبل خود لکھتی ہیں۔ پانچ جولائی ہمیں ماضی کا نوحہ نہیں سناتی، بلکہ مستقبل کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ اصل کامیابی حکومتیں بدلنے میں نہیں بلکہ نظام کو بہتر بنانے میں ہے اور شاید اسی شعور کے ساتھ ہم وہ پاکستان تشکیل دے سکیں جہاں جمہوریت کمزور تجربہ نہیں بلکہ مضبوط روایت بن جائے اور جہاں تاریخ بار بار سوال نہ کرے بلکہ جواب دے کہ ہاں۔۔۔سبق سیکھ لیا گیا ہے۔


