پاکستانی طرز کا لبرلزم، “پاکستانی طرز کا گائنی فیمینزم” اور تاریخ و ادب کا غیر تاریخی مطالعہ/ قیس انور

اوًل: پاکستانی طرز کا لبرلزم اور اقبال

پرانے دوستوں کو 2016-17ء کا وہ دور یاد ہوگا جب میں اپنی وال پر “پاکستانی طرز کے لبرلوں” سے اقبال کے بارے میں یہی گزارش کیا کرتا تھا کہ اقبال پر ضرور تنقید کریں، لیکن انہیں ان کے زمانے، جغرافیے، سماجی ماحول، تعلیمی اداروں اور طبقاتی پس منظر سے کاٹ کر نہیں۔ ماضی کے کسی مفکر یا ادیب کو صرف آج کے فکری اور اخلاقی معیارات پر پرکھنے سے نہ اس کا صحیح تجزیہ سامنے آتا ہے اور نہ ہی تاریخ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

ایک مرتبہ میری وال پر ہی ایک دوست نے اعتراض کیا کہ اقبال کے پی ایچ ڈی کے مقالے میں صرف آٹھ حوالہ جات ہیں۔ عرض کرنا پڑا کہ ایک صدی پہلے یورپی جامعات میں تحقیق کا ادارہ جاتی ڈھانچہ آج سے خاصا مختلف تھا۔ تحقیقی تربیت، مقالہ نویسی، حوالہ دینے کی روایت اور تحقیقی ڈگریوں کا تصور موجودہ جامعات جیسا نہیں تھا۔ اس لیے آج کے تحقیقی معیار کو بعینہٖ سو سال پہلے کے علمی ماحول پر منطبق کرنا خود ایک غیر تاریخی طرزِ استدلال ہے۔

یہ جدید پی ایچ ڈی کا ابتدائی زمانہ تھا۔ اس وقت برطانوی جامعات میں آج کی طرز کی طالب علم-مرکوز تحقیقی ڈگری موجود نہیں تھی۔ DSc اور DLitt جیسی اسناد عموماً ابتدائی محققین کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے تسلیم شدہ اہلِ علم کے وسیع اور پختہ تحقیقی کام کے اعتراف کے طور پر دی جاتی تھیں۔ اسی لیے جو طالب علم باقاعدہ تحقیقی تربیت حاصل کرنا چاہتے تھے ان کے لیے جرمنی کی جامعات زیادہ موزوں راستہ تھیں، کیونکہ وہاں جدید تحقیقی تربیت اور مقالہ نویسی کا نظام پہلے سے زیادہ منظم صورت میں موجود تھا۔ اقبال کی تحقیقی تربیت بھی اسی جرمن تحقیقی روایت میں ہوئی جس نے بعد میں جدید تحقیقی جامعات اور پی ایچ ڈی کے عالمی معیار پر گہرا اثر ڈالا۔

بعض دوست اقبال کی عورت کے بارے میں آراء پر گفتگو کرتے ہوئے اس تعلیمی اور سماجی ماحول کو بھی نظر انداز کر دیتے تھے جس میں ان کی شخصیت تشکیل پائی۔ اقبال 1905ء میں کیمبرج پہنچے۔ اس زمانے کے کیمبرج میں خواتین تعلیم تو حاصل کرتی تھیں اور امتحانات بھی دیتی تھیں، لیکن انہیں جامعہ کی مکمل رکنیت حاصل نہیں تھی، کیمبرج کی ڈگری نہیں دی جاتی تھی، اور وہ مرد طلبہ کے مساوی ادارہ جاتی حقوق سے محروم تھیں۔ خواتین کو مکمل رکنیت اور مساوی ڈگریوں کا حق کئی دہائیوں بعد ملا۔ یہاں بھی مقصد اقبال کے ہر خیال کا دفاع کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ سمجھانا مقصود تھا کہ ان کی فکری تشکیل ایسے ادارہ جاتی اور سماجی ماحول میں ہوئی تھی جہاں صنفی مساوات خود مغربی علمی اداروں کے لیے بھی ایک نامکمل منصوبہ تھی۔

پچھلے دنوں اقبال پر ایک اور پرانا اعتراض پھر سامنے آیا کہ ان کی نظم “بچے کی دعا” سرقہ تھی۔ یہ اعتراض عموماً ان لوگوں کی طرف سے آتا ہے جنہیں اقبال کی مادرِ علمی، سیالکوٹ کے سکاچ مشن کالج، یا برصغیر کے مشنری تعلیمی اداروں کی صبح کی اسمبلیوں میں پڑھی جانے والی انگریزی دعائیہ نظموں اور انہیں مقامی زبانوں میں ڈھالنے کی روایت کا علم نہیں ہوتا۔ اس دور میں مختلف مذہبی تعلیمی ادارے اپنی اپنی دعائیہ نظموں اور اخلاقی متون کی تشکیل کر رہے تھے۔ اقبال نے ایک معروف انگریزی دعائیہ نظم کو اردو میں ڈھال کر محض ترجمہ نہیں کیا بلکہ مسلم تعلیمی اداروں کی صبح کی اسمبلیوں کے لیے ایک نیا ثقافتی اور تعلیمی متن بھی تخلیق کیا۔

یہ اصول صرف اقبال پر لاگو نہیں ہوتا۔ روسو، جان اسٹورٹ مل، مارکس، اینگلز، گاندھی، حتیٰ کہ متعدد ممتاز فیمینسٹ مفکرین کی بعض آراء بھی آج کے معیارات سے تنقید کا موضوع بنتی ہیں، لیکن سنجیدہ علمی روایت ان کی پوری فکری میراث کو کسی ایک کمزوری تک محدود نہیں کر دیتی۔ ان کے افکار کا جائزہ ان کے عہد، ان کے فکری ارتقا اور ان کے مجموعی سماجی کردار کو سامنے رکھ کر لیا جاتا ہے۔ یہی اصول دوسرے مفکرین اور ادیبوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔

اقبال کی مثال اس لیے بیان کی کہ مسئلہ صرف اقبال کا نہیں بلکہ طریقۂ تنقید کا ہے۔ یہی غیر تاریخی طرزِ استدلال اب ایک مختلف فکری زبان اور ایک مختلف نظریاتی دعوے کے ساتھ دوبارہ سامنے آ رہا ہے۔

دوم: پاکستانی طرز کا “گائنی فیمینزم”

واضح رہے کہ یہاں “پاکستانی طرز کے گائنی فیمینزم” سے میری مراد پورا فیمینزم نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ابھرنے والا ایک مخصوص رجحان ہے جسے پلیٹ فارم کیپٹلزم اور الگوردمک سیاست نے غیر معمولی تقویت دی ہے۔ اس رجحان میں عورت کی آزادی کے سوال کو وسیع سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچوں سے الگ کرکے بنیادی طور پر مرد اور عورت کی ثنویت کے اندر سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس رجحان کی ایک نمایاں مثال وہ پوسٹس ہیں جن میں عورتوں کی اندام نہانی پر تالا لگانے کی کسی محدود یا غیر نمائندہ روایت کو اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے وہ پورے معاشرے کی نمائندہ حقیقت ہو۔ یہ طرزِ بیان کسی حد تک اس نوآبادیاتی بیانیے سے مشابہت رکھتا ہے جس میں استعماری طاقتیں مقامی معاشروں کی چند منتخب روایات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے اپنے “تہذیبی مشن” کا جواز پیدا کرتی تھیں۔

اسی طرح مرد اور عورت کے تعلق کو اس انداز سے بیان کیا جاتا ہے کہ دوسری تمام سماجی نسبتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور صنفی نسبت بنیادی توضیحی فریم بن جاتی ہے۔

نتیجتاً عورت کی آزادی کا سوال طبقے، ذات، نسل، قومیت، زبان، مذہب، فرقے، جغرافیے، معذوری، عمر، وسائل کی غیر مساوی تقسیم، قانونی حیثیت اور ریاستی طاقت جیسے بنیادی عوامل سے الگ ہو جاتا ہے۔ یوں ساختی نابرابریاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور ان کی جگہ ایسا پاپولسٹ بیانیہ لے لیتا ہے جو پیچیدہ سماجی مسائل کو نہایت سادہ اخلاقی تقسیم میں بدل دیتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف تاریخ مسخ ہوتی ہے بلکہ عورتوں کی وہ اجتماعی جدوجہد بھی غیر نمایاں ہو جاتی ہے جو ہمیشہ معاشی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی انصاف کی وسیع تر جدوجہد کا حصہ رہی ہے۔

یہ رجحان اجتماعی یادداشت کی سیاست میں بھی نیولبرل عہد کے مفادات کو تقویت دیتا ہے۔ ایسے بہت سے افراد اور تنظیمیں جنہوں نے آمریت، ریاستی جبر اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں تاریخی کردار ادا کیا، رفتہ رفتہ عوامی یادداشت سے غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی، لالہ رخ انصاری، ویمن ایکشن فورم، ، مزدور، کسان، بلوچ، پشتون، سندھی اور دوسرے مظلوم طبقات سے تعلق رکھنے والی بے شمار خواتین کی جدوجہد نئی نسل کی نظروں سے اوجھل ہوتی جا رہی ہے، جبکہ انہی طبقات سے تعلق رکھنے والی سرگرم خواتین آج بھی مختلف نوعیت کے ریاستی اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔

اس فکری رجحان کا اثر صرف موجودہ سیاسی مباحث تک محدود نہیں رہتا بلکہ آہستہ آہستہ تاریخ، ادب اور فکری روایت کی تعبیر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس طرز کی تنقید کلاسیکی اور مسلمہ ادیبوں تک بھی پہنچ رہی ہے۔

سوم: پاکستانی طرز کا “گائنی فیمینزم” اور تاریخ و ادب

پچھلے دنوں اس رجحان سے متاثر بعض حلقوں کی طرف سے مرحوم ادیبوں کی کتابوں پر بنیادی طور پر صنفی زاویے سے تنقید کا آغاز دیکھنے میں آیا۔ ایک دو روز پہلے ہی ایک پوسٹ میں عبداللہ حسین کو اسی تناظر میں موضوع بنایا گیا۔ کم از کم سوشل میڈیا کے ماحول میں اس نوع کی تنقید بعض اوقات علمی مباحثے سے زیادہ فوری عوامی پذیرائی اور الگوردمک مقبولیت کی منطق کے تابع دکھائی دیتی ہے۔

یہاں میری گزارش ہرگز یہ نہیں کہ ماضی کے ادیبوں اور مفکرین کو تنقید سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ علمی تنقید کے کم از کم تین تقاضے پورے کیے جائیں: اول، شخصیت کو اس کے تاریخی تناظر میں سمجھا جائے؛ دوم، اس کے افکار کا جائزہ اس کے مجموعی فکری کام کے ساتھ لیا جائے؛ اور سوم، اس کے تعصبات کو دوسرے سماجی، معاشی اور سیاسی ڈھانچوں سے الگ کرکے نہ دیکھا جائے۔ ان اصولوں کے بغیر تنقید تحقیق کے بجائے محض اخلاقی فیصلہ بن جاتی ہے۔

مثال کے طور پر “دولے شاہ کے چوہے” جیسی اصطلاح آج معذوری کے حوالے سے امتیازی محسوس ہوتی ہے۔ مجھے خود اس میں معذوری کا شکار بچوں کے خلاف تعصب دکھائی دیتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ تعبیر اپنے دور کے متعدد اہلِ قلم نے استعمال کی، جن میں سبط حسن جیسے مصنف بھی شامل ہیں جن کی تحریروں نے مجھ سمیت بے شمار لوگوں کے سوچنے کا انداز بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر آج ہم صرف اس ایک اصطلاح کی بنیاد پر ان کی پوری فکری خدمات کو نظر انداز کر دیں تو یہ نہ علمی دیانت ہوگی اور نہ ہی تاریخ کو سمجھنے کا درست طریقہ۔

اسی طرح صنفی امتیاز عموماً طبقے، ذات، نسل، قومیت، زبان، مذہب، فرقے، جغرافیے، شہری و دیہی تقسیم، معذوری، عمر، تعلیم، وسائل تک رسائی، قانونی حیثیت اور ریاستی طاقت جیسے متعدد عوامل کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اگر ماضی کے کسی ادیب میں صنفی تعصب دکھائی دیتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس نے اپنے دور میں دوسرے کس قسم کے امتیازات، ناانصافیوں یا استحصالی ڈھانچوں کو چیلنج کیا۔ بعض اوقات ان جیسے لوگوں کی جدوجہد نے بعد کے ادوار میں زیادہ مساوی معاشرے کی بنیاد رکھنے میں بھی کردار ادا کیا۔

ان تمام پہلوؤں کو نظر انداز کرکے صرف ایک پہلو کی بنیاد پر پورے فکری کام کو مسترد کر دینا عموماً علمی تحقیق کے بجائے اخلاقی نمائش یا سوشل میڈیا کی مقبولیت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اگر ہم تاریخ، ادب اور سماجی فکر کو صرف موجودہ اخلاقی پیمانوں سے جانچنے لگیں تو نہ تاریخ کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں، نہ ادب کو، اور نہ ہی ان سماجی عملوں کو جنہوں نے ان افکار اور متون کو جنم دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں