مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے: فقر کے بہتّر درجے ہیں، اور یہ سارے درجے کربلا کے میدان میں طے ہوئے۔ آپؒ نے ایک جگہ لکھا ہے: ”ضربِ یَداللّہی بھی اُسی کے پاس ہے جس کے پاس سجدہِ شبیریؑ ہے“۔ کشف المحجوب میں سیّدِ ہجویر ؒ فرماتے ہیں: ”رضا مقامات کی انتہا ہے۔ رضا کے بعد کوئی مقام نہیں“۔
وادئ کرب و بلا— دراصل وادئ تسلیم و رضا ہے۔ کربلا محض ایک واقعہ نہیں، یہ ایک قصہِ پارینہ نہیں۔ یہ ہمہ حال قائم رہنے والی ایک تجلّی ہے — جس کی ضَو سے انسانی اَذہان و قلوب منوّر ہوتے رہے ہیں اور ہمیشہ ہوتے رہیں گے۔ یہ ایک ایسی قوسِ قزح ہے کہ جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے، یہ انسان کے افقِ شعور پر جھلملاتی رہے گی۔ اہلِ کربلا کا کردارِ وفا و رضا تو اپنی جگہ ایک قابلِ تقلید حقیقت ہے ، اُن کا ذکر بھی ایک ایسی سعادت ہے جو فرائض و واجب اور نوافل و مستحب کی بحث سے آزاد ہے۔ کربلا شریعت کا مسئلہ نہیں ، یہ کل انسانیت کا مسئلہ ہے۔ ذکرِ امام عالی مقام کی سعادت کو اجر و ثواب کے کسی پیمانے میں تولا اور ماپا نہیں جا سکتا۔ یہ وہ ذکر ہے جو صرف اپنوں کو دیا جاتا ہے۔ اِس راستے کے غیر اِس ذکر کے خیر سے محروم رہتے ہیں۔ دراصل ذکر اپنے ذاکر کو مذکور کے شعور کی طرف لے جانے کی ایک تدبیر ہوتی ہے۔ اگر تقدیر میں وہ منزل ِ شعور میسر نہ ہو تو یہ ذکر بھی منافق کو نماز کی طرح بوجھل محسوس ہونے لگتا۔
نام ِ حُسینؑ کس قدر حَسین ہے— اِس نامِ حَسیں کی قدر اُنہی قلوب کا نصیبہ ہے جو اپنے رب کی رضا جوئی کے کسی سفر پر گامزن ہیں۔ حسینی قافلے میں شامل ہونے کی شرط فقط انسان ہونا ہے— شیعہ سنی کی تقسیم تو بعد کی بات ہے— نامِ حسینؑ سرمایہ انسانیت ہے—یہ ادیانِ عالم کا جوہر ہے۔
آدم تا ایں دم اولادِ آدم دو فکری قبیلوں میں تقسیم ہے— ایک فکری قبیلہ ہابیل کا ہے، اور دوسرا قابیل کا۔ ہابیل مقتول ہے، لیکن مقبول ِ بارگاہِ حق ہے— قابیل قاتل و قابض ہے، لیکن راندہِ درگاہِ حق ہے۔ ہابیل رحمانی فکر پر کاربند ہے، قابیل شیطانی فکر پر عمل پیرا ہے۔ ہابیل کا منشور انسانیت ہے، قابیل حیوانیت کو رَوا جانتا ہے۔ ہابیل کے فکری قبیلے میں شامل اَولادِ آدم احسان، اِحساس اور ایثار کے منشور پر چل رہی ہے۔ قابیل کے فکر پر چلنے والے قبضہ ، دولت ، دھونس اور ہر حال میں حکومت قائم کرنے کے ”پروٹوکول“ پر ہیں۔ یہ دونوں فکری گروہ ہر قوم ، مذہب اور خاندان میں موجود ہیں۔ ظاہری لیبل کچھ بھی ہو، جب فیصلے کا دَوراہا آتا ہے، تو یہ اپنے کردار سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ ہابیل اور قابیل کے فکری قبیلوں کی حتمی اور فیصلہ کن جنگ کربلا کے میدان میں جا ٹھہرتی ہے۔ یہاں ایک ایسا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ حشر تلک یہ فکری قبیلے الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ حسینی فکر و عمل پر چلنے والا راہی رحمانی فکر کی سند پاتا ہے اور یزیدی لشکر میں رہ جانے والا شیطانی فکر کا وکیل قرار پاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں حق و باطل کے دوراہے آتے رہے ہیں ، لیکن یہ سب دوراہے بالآخر جس شاہراہ پر منتج ہوتے ہیں اُس شاہراہِ فرقان کا نام کربلا ہے۔ کربلا اسلام کی وہ خیرات ہے جس سے دیگر اہلِ مذہب بھی سیراب ہو رہے ہیں۔ کربلا صرف اسلام ہی کا نہیں، کُل انسانیت کا اثاثہ ہے۔ صبحِ حشر تک پیغامِ کربلا بتدریج اور بدستور نشر ہوتا رہے گا۔ خانوادۂ رسولﷺ نے جس وادی کو خنجرِ تسلیم سے لہو رنگ کیا تھا، انسانی شعور آج تک اُس وادی سے فکر و عمل کے جواہریزے چُن رہی ہے۔ ہر آنے والا دن کربلا کی ایک نئی معنوی پرت سامنے لے کر آتا ہے۔
جس فکر کا قبلہ سوئے مصطفیٰؐ و مرتضیٰؑ نہیں ، اس کے لیے کربلا دو شہزادوں کی جنگ تھی— اس کے لیے شاید یہ معرکہ دو خاندانوں کی دیرینہ چپقلش کا نتیجہ تھا— اس کے لیے شاید اہلِ کوفہ کی بے وفائی اس سانحہ کی بنیادی وجہ تھی— ان کے نزدیک شاید امام کی سیاسی امور سے عدم آگہی کربلا کا باعث تھی— الغرض رخ اگر قبلہِ دین سے منحرف ہو جائے تو جتنے منہ اتنی باتیں! لیکن اہلِ حق یک زبان ہیں کہ اگر امامَ عالی مقامؑ کربلا نہ پہنچتے تو ہم تک دینِ مصطفیٰؐ نہ پہنچتا۔ اہلِ شعور کہتے ہیں کہ دیگر مذاہب اِس لیے تحریف کا شکار ہو گئے تھے کہ اُن کی تاریخ میں کوئی کربلا نہ تھی۔ کربلا کا کرشمہ یہ ہے کہ کھوٹا اور کھرا ہمیشہ کے لیے الگ ہوگیا۔ جب تک باطل کی صفوں میں ایک بھی حُر موجود ہو، کربلا برپا نہیں ہوتی۔ صف بندی سے پہلے حُر کا انتظار کیا جاتا ہے، حجت تمام کی جاتی ہے— اور پھر عذاب کا کوڑا لہرا دیا جاتا ہے۔ یزیدی فکر کے لیے عذاب رقم کر دیا گیا— یزیدی فکر دولت پاسکتی ہے، دولتِ تسکین نہیں۔ یزیدی فکر پرچلنے والوں کو شہرت تو مل سکتی ہے، عزت نہیں۔ انہیں مسند تو مل سکتی ہے، سند نہیں— وہ حکومت پا لیں گے، حکمت سے دور رہیں گے۔ اجسام پر تصرف حاصل کر سکیں گے، قلوب و اذہان ان کی دسترس سے باہر رہیں گے۔ تاریخ میں اُنہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، اُن کے پاس اپنے ہونے کی کوئی دلیل باقی نہ رہے گی۔ اخلاقی دلیل سے محروم ہو جانے والا اپنی پناہ دولت اور اقتدار میں ڈھونڈتا ہے— اور اُس کی یہ پناہ گاہ بے پناہ انتظامات کے باوجود ایک وقتِ معین پر اُ س کے سر پر آن گرتی ہے۔ اِس کے لیے تریاق ہی زہر بن جاتا ہے۔ خوراک موت جاتی ہے ۔ اقدار سے محرومی بالآخر اقتدار سے محرومی بن جاتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ صفحہِ ہستی پر اخلاقی اور روحانی اقدار ہی ثبت ہوتی ہے۔ ساری اخلاقی اور روحانی اقدار کلمہ طیبّہ کاثمرہ ہیں۔کلمۂ طیبہ ہی وہ شجرہِ طیبّہ ہے جس کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں اور شاخیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے کیا خوب فرمایا :
حقا کہ بنائے لاالٰہ است حسینؑ
قیامِ حق بربنائے اخلاق و دلیل ہے، بربنائے طاقت و منصب نہیں۔ دلیل حق بننے کے لیے لازم تھا کہ امام عالی مقام راہِ مظلومیت سے گذریں— برابر کی لڑائی نہ لڑیں۔ کربلا امام عالی مقامؑ کا اختیاری فیصلہ تھا۔ یہ کسی اضطرار اور مجبوری کا راستہ نہ تھا ! راہِ رضا میں تسلیم اختیاری ہوتی ہے۔ اضطراری اور مجبوری کے فیصلے شہادت نہیں بنتے۔ یہ شہادتِ عظمیٰ ہے— شہادتِ کبریٰ ہے— اللہ کی عظمت اور کبریائی کی شہادت ہے ۔ جس شان کی اُس ذات کی کبریائی اور عظمت ہے ، اُس کے شایانِ شان ہی شہادت دینے والی ذات بھی ہونی چاہیے تھی۔ اللہ علی العظیم نے قرآنِ عظیم میں” وفدینٰہ بذبحِ عظیم ” کی آیت میں اسی عظیم قربانی کی نشانی بہم پہنچائی ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی دعوت و تعلیم کا خلاصہ دینِ اِسلام میں ہے— لازم ٹھہرا کہ دین ِ اسلام کی ایسی حفاظت کی جائے کہ رہتی دنیا تک مسندِ حکومت پر بزورِ شمشیر قابض ہونے والا حکمران دین میں تحریف نہ کر سکے — چنانچہ دین ِ اسلام کی بازیابی کے لیے کربلا کی عدالت قائم کر دی گئی ہے۔ اِس عدالت کا فیصلہ اب فیصلے کے دن تک سند ٹھہرا۔ حق سربلند ہوا— اور باطل سرنگوں۔ اہلِ کربلا نے خون کی لکیر کھینچ کر حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل قائم کر دی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے— اہلِ حق سرخرو ہوئے —اہلِ باطل سیاہ رُو ٹھہرے — ہمیشہ ہمیشہ کے لیے!!
( روزنامہ “نئی بات” میں ہفتہ وار کالم ” عکسِ خیال” بروز بدھ 24 جون 2026ء)


