چلتے ہو، تو ایران کو چلیے/عارف انیس

سفرنامہ دراصل آنکھ کا قرض ہے جو ایک شخص پوری قوم کی طرف سے اتارتا ہے۔

قومیں سرحدوں میں بند ہوتی ہیں، مگر ان کے کچھ لوگ نکلتے ہیں، دیکھتے ہیں، اور لوٹ کر باقیوں کو آنکھ ادھار دے دیتے ہیں۔ ہزار برس پہلے ناصر خسرو نکلا تھا، مرو سے مکہ تک، اور واپس آ کر اس نے جو کتاب لکھی اس کا نام ہی سفرنامہ تھا۔ یہ صنف ہمیں فارس سے ملی ہے۔ نام بھی، مزاج بھی۔ پھر اردو نے یہ قرض بڑھایا۔ ڈیڑھ صدی پہلے یوسف خان کمبل پوش ولایت کے عجائب دیکھ آیا اور ہماری زبان کا پہلا سفرنامہ لکھ گیا۔ سرسید لندن گئے تو ساتھ ایک قوم کا احساسِ کمتری اور احساسِ جستجو دونوں لے گئے۔ شبلی روم و مصر و شام کی خاک چھان آئے۔ پھر ابنِ انشا آیا اور اس نے سفرنامے کو قہقہہ سکھایا، اور مستنصر حسین تارڑ آیا اور اس نے سفرنامے کو محبت سکھائی۔ اشفاق احمد نے سفر در سفر میں بتایا کہ اصل مسافت باہر نہیں، اندر طے ہوتی ہے۔

مگر اس پوری روایت میں ایک خانہ حیرت انگیز طور پر خالی رہا۔

ایران۔

سوچیے تو عجیب لگتا ہے۔ جس زبان کا آدھا لہو فارسی ہے، جس کے غالب نے اپنا اصل دیوان فارسی میں چھوڑا، جس کے اقبال کے کلام کا بڑا حصہ فارسی میں ہے، اس زبان کے سفرنامہ نگار مغرب کی گلیاں ناپتے رہے اور ہمسائے کا دروازہ کم ہی کھٹکھٹایا۔ ایرانی اقبال کو اقبال لاہوری کہہ کر سینے سے لگاتے ہیں، اور المیہ یہ ہے کہ اقبال نے ایران کی سرزمین کبھی نہیں دیکھی۔ ہم نے ایران کو ہمیشہ دو انتہاؤں سے جانا۔ ایک طرف حافظ اور سعدی اور رومی کے اوراق، دوسری طرف اخبار کی سرخیاں۔ شعر یا سیاست۔ گلستان یا پابندیاں۔ بیچ کا ایران، جیتا جاگتا، ہنستا، سودا کرتا، بچے پالتا ایران، ہماری نظر سے اوجھل رہا۔ ویزے مشکل، راستے بند، اور تصویر ہمیشہ کسی اور کے کیمرے سے آئی ہوئی، جس پر کسی اور کی گرد اور کسی اور کی غرض جمی ہوتی تھی۔

سعد مکی کی کتاب وہی خالی خانہ بھرتی ہے۔ اور کس وقت بھرتی ہے، یہ اس کی قسمت کا سب سے حیران کن پہلو ہے۔

ابھی کل کی بات ہے۔ اسی برس اس خطے پر آگ برسی۔ فروری سے جون تک دنیا نے سانس روکے دیکھا کہ آبنائے ہرمز بند ہوئی، بندرگاہیں محاصرے میں آئیں، اور ایک قدیم قوم پر تاریخ کا ایک اور امتحان اترا۔ اور پھر دنیا نے وہ دیکھا جس کی اسے توقع نہ تھی۔ میزائلوں کے نیچے کھڑی قوم نے نہ گھٹنے ٹیکے، نہ بکھری۔ جس امن دستاویز پر بالآخر دستخط ہوئے، اس کے ماتھے پر ہمارے اپنے شہر کا نام لکھا گیا، مفاہمت نامۂ اسلام آباد۔ ان چھ مہینوں میں کروڑوں لوگوں نے پہلی بار ایرانی کو ہجے کر کے پڑھا، اور بہتوں کو خبر ہوئی کہ ہم اس قوم کو جانتے ہی نہ تھے۔ سو اب جب دنیا ایران کو نئے سرے سے دیکھنے پر مجبور ہوئی ہے، یہ کتاب پہلے سے دیکھی ہوئی آنکھ کی گواہی بن گئی ہے۔ مصنف نے یہ سفر توپوں کے تعارف سے پہلے کیا تھا۔ اسی لیے اس کے صفحوں میں وہ ایران محفوظ ہے جو سرخیوں سے پہلے موجود تھا اور سرخیوں کے بعد بھی موجود رہے گا۔ جنگ نے دنیا کو سوال دیا، یہ کتاب اس سوال کا پس منظر ہے۔

میں نے تقریباً سو سے زائد ملکوں کی مٹی کو ہاتھ لگایا ہے، اور اس ساری آوارگی نے مجھے ایک ہی سبق دیا ہے۔ ملک نقشوں میں نہیں، لوگوں میں آباد ہوتے ہیں۔ نقشہ آپ کو سرحد دکھاتا ہے، سفرنامہ آپ کو دسترخوان تک لے جاتا ہے۔ اور قوموں کے بیچ غلط فہمی کی عمر اتنی ہی ہوتی ہے جتنی پہلے مشترک دسترخوان تک کی مسافت۔ اسی کسوٹی پر میں کہتا ہوں کہ یہ کتاب محض سیاحت کی روداد نہیں، دو ہمسایہ تہذیبوں کے بیچ ایک ملاقات ہے جو صدیوں سے واجب تھی۔
اب کتاب کی بات، اور سچی بات، کیونکہ دیباچہ قصیدہ نہیں ہوتا، اور جس کتاب سے محبت ہو اس سے جھوٹ نہیں بولا جاتا۔

اس سفرنامے کی پہلی طاقت اس کی آنکھ ہے۔ مصنف منظر نہیں گنتا، منظر میں اترتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ عمارت کی تاریخ گائیڈ بھی سنا دیتا ہے، مگر عمارت کے سائے میں بیٹھے آدمی کی بات صرف مسافر سن سکتا ہے۔ اس کے صفحوں پر بازار مہکتے ہیں، حرم کی سنگِ مرمر فرشوں پر پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں، اور ایرانی گھروں کے اندر کا وہ منظر کھلتا ہے جو کسی خبرنامے میں نہیں آتا۔ دوسری طاقت اس کا لہجہ ہے۔ نہ مرعوب، نہ متکبر۔ مصنف ایران کو نہ سجدہ کرتا ہے نہ کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے، اور ہماری سفرنامہ نگاری میں یہ توازن نایاب جنس ہے۔ تیسری طاقت زبان کی وہ قرابت ہے جسے مصنف نے شعوری طور پر برتا ہے۔ وہ جہاں جہاں فارسی اور اردو کے سانجھے لفظوں پر رکتا ہے، وہاں قاری کو لگتا ہے کہ وہ پردیس میں نہیں، ننھیال میں پھر رہا ہے۔

محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ عیب چھپائے جائیں، بلکہ یہ کہ وہ سلیقے سے گنوائے جائیں۔ سب سے بڑا جھول کتاب کے اندر دو مصنفوں کی کشمکش ہے۔ ایک مسافر ہے، جو دیکھتا ہے اور دکھاتا ہے۔ دوسرا مؤرخ ہے، جو ہر منظر کو روک کر اس کی سند مانگنے لگتا ہے۔ جہاں مسافر بولتا ہے، کتاب سانس لیتی ہے۔ جہاں مؤرخ حاوی ہوتا ہے، صفحہ کتابچے میں بدل جاتا ہے۔ کئی مقامات پر ایک زندہ منظر شروع ہوتا ہے، بازار کی مہک، کسی اجنبی کی آنکھ، اور پھر اچانک صدیوں کی تاریخ بیچ میں آ کھڑی ہوتی ہے اور وہ لمحہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ اچھا سفرنامہ تاریخ کو منظر کے نیچے بچھاتا ہے، اس کتاب میں تاریخ اکثر منظر کے اوپر چڑھ بیٹھتی ہے۔
دوسری کمزوری ترتیب کی یکسانی ہے۔ کتاب کے کئی حصے اسی ڈھب پر چلتے ہیں، پہنچے، دیکھا، کھایا، ٹھہرے، آگے چلے۔ یہ روزنامچے کی چال ہے، ادب کی نہیں۔ ایسے صفحوں پر قاری اطلاع تو پاتا ہے، مگر اس کے اندر وہ آگ نہیں لگتی جو بڑے سفرنامے کی پہچان ہے۔ بعض جگہ فاصلے، اوقات اور راستوں کی تفصیل اتنی ہے کہ منظر پیچھے رہ جاتا ہے اور نقشہ آگے آ جاتا ہے۔

تیسری، اور میرے نزدیک سب سے اہم کمی، خود مسافر کی ذات ہے۔ سفرنامہ صرف باہر کا بیان نہیں، اندر کا سفر بھی ہوتا ہے۔ اشفاق احمد کے یہاں سفر ہمیشہ ایک باطنی واردات تھی۔ اس کتاب میں مصنف بہت کچھ دیکھتا ہے، مگر خود کو کم کھولتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کیا دیکھا، مگر یہ کم کھلتا ہے کہ اس دیکھے نے مصنف کے اندر کیا توڑا، کیا جوڑا، کس گمان کو للکارا۔ جہاں جہاں یہ ذاتی آواز جھلکتی ہے، کتاب یکایک بلند ہو جاتی ہے، اور یہی جھلک بتاتی ہے کہ مصنف اس سے کہیں زیادہ دے سکتا تھا۔

چوتھی بات موضوع کے توازن کی ہے۔ کتاب کا رخ اکثر مذہبی اور تاریخی ایران کی طرف رہتا ہے، حرم، زیارت، ماضی۔ مگر آج کا دھڑکتا ایران، وہ نوجوان جو تہران کی شاموں میں اپنی الجھنیں جیتا ہے، وہ عورت جو روایت اور جدت کے بیچ کھڑی ہے، وہ گھریلو معیشت جو پابندیوں میں سانس لیتی ہے، یہ سب نسبتاً کم آیا ہے۔ اور ستم یہ کہ جہاں جہاں یہ زندہ ایران آتا ہے، وہیں کتاب اپنے عروج کو چھوتی ہے۔ یعنی مصنف کے پاس بہترین مواد تھا، مگر اس نے وقت پرانے ایران کو زیادہ دیا، نئے کو کم دیا.

اور آخری، لطیف سی کسر۔ کہیں کہیں لہجہ سیاح سے واعظ کی طرف ڈھلنے لگتا ہے۔ جہاں مصنف صرف دکھاتا ہے، قاری خود نتیجہ نکالتا ہے اور کتاب جیت جاتی ہے۔ جہاں وہ نتیجہ خود سنانے لگتا ہے، وہاں قاری کی اپنی دریافت کی لذت کم ہو جاتی ہے۔ بڑا سفرنامہ فیصلہ نہیں دیتا، منظر دیتا ہے، اور فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتا ہے۔

یہ سب کمزوریاں ایک ہی جڑ سے پھوٹتی ہیں، اور وہ جڑ کوتاہی نہیں، فیاضی ہے۔ مصنف نے اتنا کچھ دینا چاہا کہ کہیں کہیں منظر مواد کے بوجھ تلے دب گیا۔ یہ اس قلم کا عیب نہیں، اس کی طاقت کا بے قابو ہو جانا ہے، اور اگلی کتاب میں یہی سیلاب بند باندھ لے تو شاہکار بنے۔

مگر ان وقفوں کے باوجود کتاب اپنا قرض پورا اتارتی ہے، کیونکہ اس کے پاس وہ چیز ہے جو کسی ترکیب سے نہیں آتی۔ نیت۔ مصنف ایران فتح کرنے نہیں گیا، سمجھنے گیا۔ اور جو سمجھنے جاتا ہے، وہ پڑھنے والے کو بھی سمجھ کا حصہ دار بنا دیتا ہے۔

پڑھنے والوں سے آخری بات۔

یہ کتاب اس وقت آپ کے ہاتھ میں آئی ہے جب ایران ایک بار پھر دنیا کے سامنے کٹہرے میں کھڑا ہے۔ فیصلہ سنانے والے بہت ہیں۔ یہ کتاب آپ کو فیصلہ نہیں دیتی، گواہی دیتی ہے۔ یہ آپ کو اس قوم کے دسترخوان پر بٹھاتی ہے جس کے بارے میں آپ نے عمر بھر صرف بحثیں سنی ہیں۔ اسے اس نیت سے پڑھیے جس نیت سے یہ لکھی گئی ہے۔ سرحد کے اُس پار جھانکنے کی نیت سے۔ اور جب آخری صفحہ پلٹیں تو خود سے پوچھیے گا کہ ہم نے اپنے اتنے قریبی ہمسائے کو اتنا دور کیوں رہنے دیا۔
سفر آدمی کو دو تحفے دیتا ہے۔ پہلا یہ کہ دنیا اس کے گمان سے بڑی ہے۔ دوسرا یہ کہ آدمی اس کے خوف سے چھوٹے نہیں ہوتے۔ یہ کتاب دونوں تحفے آپ تک پہنچاتی ہے، اور ویزا بھی نہیں مانگتی۔

کتاب کھولئے ، پھرولیے اور روزن دیوار سے ایران میں جھانکنے کا مزہ لیجئے.

اپنا تبصرہ لکھیں