رشید نے پہلے دن گھر سے نکلتے ہوئے اپنا پرانا شناختی کارڈ جیب میں نہیں رکھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں راستے میں کوئی پوچھ نہ لے کہ وہ اب کہاں کام کرتا ہے۔
پچھلی ملازمت کا نام لیتے ہوئے اس کی زبان خشک ہو جاتی تھی۔ وہاں میز نہیں تھی، مگر میز کے پیچھے بیٹھے ہوئے لوگ تھے۔ حکم تھا، مگر حکم دینے والا کوئی نہیں تھا۔ ایک دن اس کا کارڈ بند ہوا، گیٹ پر کھڑے چوکیدار نے آنکھیں نیچی کرلیں، اور رشید کو معلوم ہوگیا کہ آدمی کو نکالنے کے لیے ہمیشہ ایک جملے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
وہ شہر کے پرانے حصے میں اس گلی تک پہنچا جہاں ہر دکان کے باہر کچھ نہ کچھ لٹک رہا تھا: چابیاں، ٹارچیں، پلاسٹک کے مگ، بچوں کے موزے، موبائل کور، چھوٹے پیکٹ، بڑے وعدے۔ ایک دکان کے اندر پنکھا چل رہا تھا مگر ہوا باہر تک نہیں آتی تھی۔
“کام پوچھنے آئے ہو؟” اندر بیٹھے آدمی نے کہا۔
رشید چونکا۔ “جی۔”
“چہرے پر لکھا ہے۔”
آدمی نے اپنا نام عارف بتایا۔ اس نے رشید کو کرسی نہیں دی۔ بس کاؤنٹر کے نیچے سے ایک کپڑے کا تھیلا نکالا، پھر ایک چھوٹی رسید بک، جس کے آخری صفحات ہلکے سے مڑے ہوئے تھے۔
“دکانوں پر جانا ہے۔ نمونے دکھانے ہیں۔ جو نقد بکے، اس کا حساب الگ۔ جو بعد میں منگوائیں، اس کا نام یہاں۔ صاف لکھ سکتے ہو؟”
رشید نے رسید بک پکڑی۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ کی وہ نرمی تھی جو ذمہ داری سے پہلے آتی ہے۔
“لکھ لیتا ہوں۔”
“جھوٹ لکھنے کا ہنر تو نہیں؟”
رشید نے پہلی بار عارف کی طرف ٹھیک سے دیکھا۔ “وہ کام پہلے کر چکا ہوں۔ اب نہیں کرنا چاہتا۔”
عارف نے اس جواب پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ صرف تھیلا آگے بڑھا دیا۔
بازار میں پہلے پہر کی جلدی تھی۔ دکان دار ابھی اپنی اپنی جگہ پوری طرح آباد نہیں ہوئے تھے۔ کوئی حساب کی کاپی ڈھونڈ رہا تھا، کوئی لڑکے کو ڈانٹ رہا تھا، کوئی رات کی دھول انگلی سے کاؤنٹر کے کنارے سے ہٹا رہا تھا۔
رشید پہلی دکان پر گیا تو اس نے جملہ غلط شروع کیا۔ دکان دار نے “نہیں چاہیے” کہہ کر منہ پھیر لیا۔ دوسری جگہ اس نے نرخ پہلے بتا دیا، فائدہ بعد میں؛ وہاں بھی بات نہ بنی۔ تیسری دکان پر ایک بوڑھے نے نمونہ ہاتھ میں لے کر کہا، “تم نئے ہو۔”
رشید نے کہا، “جی۔”
“نئے لوگ جلدی مایوس ہوتے ہیں۔”
“پرانے لوگ بھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ بتاتے نہیں۔”
بوڑھا ہنسا نہیں، مگر اس نے دو پیکٹ رکھ لیے۔
یہ رشید کی پہلی فروخت تھی۔
اس نے رسید بک میں رقم لکھی۔ رقم چھوٹی تھی، مگر ہندسہ لکھتے وقت اسے اپنے ہاتھ کی لرزش محسوس ہوئی۔ جیسے وہ صرف حساب نہیں، اپنے دوبارہ شروع ہونے کا ثبوت درج کر رہا ہو۔
دو گھنٹے بعد اس کا تھیلا ہلکا ہونے لگا۔ اس نے سیکھ لیا کہ ہر دکان کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ تنگ دکانوں میں مختصر بولنا چاہیے۔ چوڑی دکانوں میں آدمی کو پہلے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جہاں مالک خود کاؤنٹر پر ہو، وہاں آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنی چاہیے۔ جہاں ملازم بیٹھا ہو، وہاں مالک کا نام پوچھنا چاہیے۔ کچھ لوگ مال نہیں خریدتے، آدمی خریدتے ہیں۔ کچھ آدمی سے نہیں، اس کے خوف سے سودا کرتے ہیں۔
ایک جگہ ایک کم عمر لڑکے نے کہا، “ادھار لکھ دو۔ مالک شام کو آئے گا۔”
رشید نے رسید بک بند کردی۔ “شام کو پھر آ جاؤں گا۔”
“بھروسہ نہیں؟”
رشید نے تھیلا کندھے پر درست کیا۔ “اپنے اوپر کرنا شروع کیا ہے۔ دوسروں تک آہستہ آہستہ پہنچوں گا۔”
لڑکے نے اسے کچھ دیر دیکھا، پھر نقد رقم نکال دی۔
دوپہر سے پہلے بازار گرم ہو چکا تھا۔ رکشوں کے دھوئیں، مصالحے کی بو، پلاسٹک کے لفافوں کی سرسراہٹ، اور دکان داروں کی آوازیں مل کر ایک ایسی زبان بناتے تھے جس میں کوئی مکمل جملہ نہیں تھا، مگر سب کچھ سمجھ آتا تھا۔
رشید نے آخری گلی میں داخل ہوتے ہوئے تھیلا اتارا۔ اس کی قمیص کا کندھا پسینے سے گہرا ہو گیا تھا۔ اس نے رسید بک کھولی۔ دو خانے خالی تھے۔ اسے عجیب سا اطمینان ہوا کہ ابھی کچھ جگہ باقی ہے۔
آخری دکان بند ہونے ہی والی تھی۔ مالک نے شٹر آدھا گرا رکھا تھا۔
“کل آنا،” اس نے اندر سے کہا۔
رشید نے کہا، “کل میں کسی اور گلی میں ہوں گا۔”
آدمی نے شٹر تھوڑا اٹھایا۔ “کیا بیچتے ہو؟”
رشید نے تھیلے سے آخری نمونہ نکالا۔ دکان دار نے اسے دیکھا، پھر رشید کو۔
“تم لوگ روز بدل جاتے ہو۔ آج ایک، کل دوسرا۔”
رشید نے کہا، “ہم بھی یہی سوچتے ہیں۔ آج کام، کل نامعلوم۔”
دکان دار نے شاید یہ بات پوری نہیں سنی، مگر اس نے آرڈر لکھوا دیا۔ رشید نے رسید بک کا آخری خانہ بھرا۔ جگہ کم پڑ گئی تو اس نے نام کو تھوڑا ترچھا لکھا۔ کاغذ کے کنارے تک پہنچتے پہنچتے اسے لگا جیسے کوئی پل پار ہوگیا ہو۔
جب وہ واپس عارف کی دکان پر پہنچا تو عارف نے پہلے تھیلا دیکھا، پھر رسید بک۔ اس نے بغیر تعریف کیے حساب شروع کیا۔ کیلکولیٹر کے بٹنوں کی آواز چھوٹی چھوٹی بارش کی طرح کاؤنٹر پر گرتی رہی۔
“اتنا نقد۔ اتنے آرڈر۔ دو جگہ دوبارہ جانا ہوگا۔ ایک نے کم نرخ لکھوایا ہے، مگر چل جائے گا۔”
رشید خاموش کھڑا رہا۔
عارف نے نوٹ الگ کیے۔ پھر ایک لمحے کے لیے رک گیا۔ “پہلا دن ہے۔ حساب سمجھ لو۔ یہاں جتنا بیچو گے، اتنا کھاؤ گے۔ کوئی حاضری نہیں۔ کوئی گیٹ پاس نہیں۔ کوئی فون کرکے نہیں کہے گا کہ کل سے مت آنا۔ نہ آنا چاہو تو الگ بات۔”
رشید نے نوٹ لے لیے۔ اسے رقم سے زیادہ یہ جملہ لگا: کوئی فون کرکے نہیں کہے گا۔
دکان سے باہر آکر اس نے شناختی کارڈ جیب میں رکھ لیا۔ راستے میں اسے یاد آیا کہ صبح وہ اسے گھر چھوڑ آیا تھا۔ پھر اسے سمجھ آیا کہ وہ غلط یاد کر رہا ہے۔ کارڈ اس کی اندرونی جیب میں ہی تھا۔ سارا دن اس نے اسے محسوس نہیں کیا تھا۔
گھر پہنچ کر اس نے دروازہ کھٹکھٹایا نہیں۔ آہستہ سے کھولا۔ اندر اس کی ماں چارپائی پر بیٹھی دھاگے میں گرہ لگا رہی تھی۔ چھوٹا بھائی فرش پر موبائل کے ٹوٹے ہوئے اسپیکر سے گانا سن رہا تھا۔
“آ گئے؟” ماں نے پوچھا۔
“ہاں۔”
“کام ملا؟”
رشید نے جیب سے نوٹ نہیں نکالے۔ پہلے رسید بک نکالی۔ اسے میز پر رکھا۔ آخری خانہ بھرا ہوا تھا، مگر اس کے بعد پچھلے کور کے اندر سفید جگہ باقی تھی۔
“ملا نہیں،” اس نے کہا، “آج کے لیے بنا لیا۔”
ماں نے بات پوری نہیں سمجھی، مگر اس نے گرہ دانت سے کاٹ دی۔
رات کو سب سو گئے تو رشید نے رسید بک دوبارہ کھولی۔ کاربن پیپر کا نیلا نشان اس کی انگلی پر لگ گیا تھا۔ اس نے اسے رگڑ کر صاف نہیں کیا۔ انگلی کو روشنی کے سامنے اٹھایا۔ نشان معمولی تھا، مگر موجود تھا۔
اگلے دن اسے دوسری گلی جانا تھا۔
اس نے رسید بک بند کی، پھر دوبارہ کھولی، اور پچھلے کور کے اندر بہت چھوٹے حروف میں اپنا نام لکھ دیا۔
رشید۔
پہلی بار اسے اپنا نام کسی حاضری رجسٹر میں نہیں، اپنے ہاتھ کے نیچے محفوظ لگا۔


