برگِ حشیش کی تمثیل اور آدمی کی بے خبری /فاروق نتکانی

تاریخ کے بعض استعارے وقت کی گرد سے کبھی ماند نہیں پڑتے۔ وہ ہر عہد میں نئے چہروں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ برگِ حشیش بھی ایسا ہی ایک استعارہ ہے۔ اس کے عقب میں ایک پوری تہذیب کا نوحہ پوشیدہ ہے، اور افیون بھی ایسا ہی لفظ ہے جسے ایک فلسفی نے لکھا اور ایک صدی نے اپنے اپنے مفاد کے مطابق پڑھا۔

کارل مارکس نے کہا تھا کہ مذہب عوام کے لیے افیون ہے۔ اس ایک جملے کو اس طرح اچھالا گیا جیسے کسی باغی نے آسمان پر پتھر پھینک دیا ہو۔ حالانکہ اسی جملے سے ذرا پہلے وہ لکھتا ہے کہ مذہبی کرب، حقیقی کرب کا اظہار بھی ہے اور اس کے خلاف احتجاج بھی؛ مذہب بے بس انسان کی آہ ہے، بے قلب دنیا کا دل ہے اور بے روح حالات کی روح ہے۔ یہ عبارت نفی سے زیادہ المیے کا بیان ہے۔ لیکن تاریخ کو عبارتیں نہیں، نعرے یاد رہتے ہیں۔

اقبال نے اسی حقیقت کو ایک دوسرے استعارے میں سمو دیا۔

“ساحرالموت نے تجھ کو دیا برگِ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات۔”

یہاں ساحرالموت کوئی ایک شخص نہیں، وہ ہر وہ قوت ہے جو آدمی کو اس کی اصل قوت سے غافل کر دے۔ برگِ حشیش کوئی معمولی پتا نہیں، وہ ہر وہ خیال ہے جو شعور کو خواب میں بدل دے، ہر وہ تلقین ہے جو غلامی کو تقدیر اور محرومی کو عبادت بنا دے۔

عجیب بات ہے کہ مارکس کے “افیون” پر تو شور برپا ہوا، مگر اقبال کے “برگِ حشیش” پر خاموشی چھائی رہی۔ شاید اس لیے کہ شعر کو خوش الحانی میں پڑھ لیا گیا اور اس کی معنوی تپش سے دامن بچا لیا گیا۔

نشہ صرف وہ نہیں جو جسم پر طاری ہو۔ ایک نشہ وہ بھی ہے جو فکر پر چھا جائے۔ افیون جسم کے درد کو سلا دیتی ہے اور برگِ حشیش شعور کی آنکھ پر نیند اتار دیتا ہے۔ پھر انسان اپنی زنجیر کو زیور، اپنی محرومی کو رضا، اور اپنے استحصال کو تقدیر سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے اقبال نے ساحرالموت کی طلسم گری کہا اور مارکس نے افیون کا اثر۔

تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار نے ہمیشہ دو تلواریں استعمال کی ہیں۔ ایک فولاد کی، دوسری عقیدے کی۔ فولاد جسم کو زیر کرتا ہے اور عقیدے کی تحریف روح کو۔ جسم کی غلامی ایک دن ختم ہو جاتی ہے، مگر روح کی غلامی نسلوں تک چلتی ہے۔ جب محروم انسان سے کہا جائے کہ اس کی غربت آسمان کا فیصلہ ہے، اس کا فاقہ تقدیر کا انتخاب ہے، اس کی محرومی میں رضائے الٰہی پوشیدہ ہے اور اس کی قسمت کا دروازہ زمین پر نہیں بلکہ مرنے کے بعد کھلے گا، تو یہ تلقین اگر ظلم کے خلاف ارادہ سلب کر دے تو پھر یہ تسکین نہیں، تخدیر ہے؛ یہی برگِ حشیش ہے، یہی افیون ہے۔

قرآن کا اعلان اس کے برعکس ہے۔ “ہُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا”۔ زمین کی نعمتیں چند ہاتھوں کے لیے نہیں، پوری انسانیت کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اگر وسائل چند محلوں کی جاگیر بن جائیں اور کروڑوں انسان صرف تماشائی رہ جائیں تو یہ تقسیم آسمان سے نازل نہیں ہوئی؛ یہ زمین پر انسانوں کے ہاتھوں لکھی گئی داستان ہے۔

اقبال کا اضطراب اسی نکتے پر مرتکز ہے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ سرمایہ صرف کارخانوں پر قابض نہیں، ذہنوں پر بھی قابض ہے۔ کہیں نسل کا پرچم بلند ہے، کہیں قومیت کا۔ کہیں مذہب کو سیاست کی تلوار بنا دیا گیا ہے، کہیں تہذیب کو نفرت کا عنوان۔ آدمی کو آدمی سے لڑانے کے لیے ہر دور نے ایک نیا نعرہ ایجاد کیا، مگر مقصد ہمیشہ ایک ہی رہا کہ محنت کرنے والا اپنے اصل دشمن کو پہچان نہ سکے۔

اسی لیے اقبال نے کہا:

“نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے مسکرات۔”

یہ صرف شعر نہیں، اقتدار کے پورے نفسیاتی نظام کا نقشہ ہے۔ مسکرات وہ پردے ہیں جن کے پیچھے استحصال اپنے چہرے کو چھپا لیتا ہے۔

پھر اقبال کی صدا آتی ہے:

“اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔”

یہ محض بیداری کی دعوت نہیں، آدمی کو آدمی کی طرف لوٹنے کا اعلان ہے۔ انسان جب اپنے وجود کی قدر پہچان لیتا ہے تو برگِ حشیش راکھ ہو جاتا ہے، افیون کا نشہ اتر جاتا ہے اور ساحرالموت کا طلسم ٹوٹنے لگتا ہے۔

شاید اسی لمحے اقبال کی آنکھوں کے سامنے پہلی جنگِ عظیم کے میدان لرز اٹھے تھے اور ان کے قلم سے یہ نوحہ ٹپکا:

“ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انسان نوعِ انساں کا شکاری ہے۔”

انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ وہ غریب ہے؛ اس سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اپنی غربت کی علت سے بے خبر رہے۔ جب تک وہ برگِ حشیش کو شاخِ نبات سمجھتا رہے گا، تاریخ کے ساحر بدلتے رہیں گے مگر طلسم باقی رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں