سعد نے کہیں ذکر کیا کہ محض ڈی کام تک تعلیم پا سکے مگر جس طرح کی برجستہ اور رواں اردو وہ لکھتے ہیں اس کے لیے انہیں اگر اردو میں ایم فل یا پی ایچ ڈی نہ سہی کم از کم ایم اے تو ہونا ہی چاہیے تھا لیکن اچھی تحریر کے لیے تعلیمی سند کا ہونا درکار نہیں کہ منٹو سمیت کئی اور بھی بہت معمولی تعلیم پا سکے تھے اور لکھتے کیا غضب تھے۔ لا محالہ مطالعہ زیادہ ہوگا ان سب کا مگر سعد مکی چاہے بے دلی سے سہی نقلی نگوں کے ہار بیچنے لگے اور پھر بیوپاری بھی بن گئے تو ایسے دنیادار شخص کو بھلا مطالعہ سے کیا غرض۔
البتہ ان کی تحریر میرے اس کہے کو یکسر غلط ثابت کرتی ہے۔ اتنی سنجیدہ پھر معلوماتی منضبط رودادِ سیاحت و آوارگی کہ مجھے ایک جگہ سے انہیں دو چار فقرے حذف کرنے کی تجویز دینی پڑی کہ شگفتہ ہونے کے سبب وہ اس سنجیدہ تحریر میں جگہ نہیں بنا پا رہے تھے۔ چونکہ وہ خود کہہ چکے ہیں کہ نہیں جانتے کہ اس لکھت کو وہ کس صنف سے وابستہ کریں چنانچہ مجھے بھی یہ کہنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی کہ وہ سیاحت کی ڈائری ( Travelogue) اور سیاحتی رہنمائی کے کتابچے ( Travel Guide ) کو علیحدہ علیحدہ لکھتے تو بہتر ہوتا مگر خیر لکھنے والا جہاں مصنف ہوتا ہے وہاں اپنے لکھے بارے منصف بھی۔
میں 1981 تا 1983 ایران میں بہ حیثیت پزشک ( ڈاکٹر ) برسرکار رہ چکا ہوں۔ میری سروس جسے فارسی میں استخدام یعنی خدمت گزاری کہتے ہیں، جنوب کے صوبہ ہرمزگان بلکہ وہاں کے جزیرہ لاواں اور شمال کے صوبہ مازندران کے چند شہروں اور قصبات تک محدود رہی اگرچہ تہران مرکز اور وزارت صحت کے ہیڈکوارٹر کے طور پر اور شیراز شوق کے تحت کئی بار جانا ہوا، اور اس سب کا ذکر میری خودنوشت کے پہلے حصہ پریشاں سا پریشاں میں ہے مگر سعد مکی تو سرحد تا سرحد گھومے پھرے۔
پھر میں چونکہ سرکاری اور فضائی اسفار ہی کرتا رہا لیکن اس مواد کے مصنف سفر حضر تک میں مبتلا رہے۔ سیر کے لیے سیر کی اور بیشتر بار کام کے لیے بھی سیر کی۔ یہ ایک عام آدمی کا نہ صرف سفر نامہ ہے بلکہ عام آدمی کو بیرون ملک پیش آنے والا ناخوشگوار تجربات کی تصویر کشی بھی ہے تاکہ ان لوگوں کو جو سفر کو محض وسیلہ ظفر مانتے ہیں مبتلائے حضر میں ہونے سے باز رکھا جا سکے۔
سعد نے کاروبار کیا۔ بنایا بھی گنوایا بھی، زیارات کروانے کا بیڑہ اٹھایا اس میں بھی پیسہ بنانے کی بجائے خدمت اور ابتلا سے ہی دو چار رہے، بنیادی طور پر شریف آدمی ہیں کاروباری کہ شریف آدمی کاروباری نہیں ہوتا اور کاروباری شریف ہونے کا بس دکھاوا ہی کرتے ہیں۔ سعد بنیادی طور پر مشاہدہ کرکے سوچنے والے شخص ہیں جو پھر نتائج سمیت مشاہدات کو ورطہ تحریر میں لے آتے ہیں۔
میں خود بھی یورپ ، امریکا، ایشیا، مرکزی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے کئی ملک گھوم چکا ہوں۔ علاوہ از ایں امریکا میں پورا ایک سال، نہ ایک دن کم نہ ایک دن زیادہ اور روس میں قریب اکتیس سال مقیم رہ چکا ہوں۔ دور کے ڈھول سہانے صرف ہمارا محاورہ نہیں اور کئی ملکوں کا بھی ہے البتہ اظہار متفرق ہے جیسے روسی یوں کہتے ہیں ،” ہر وہ جگہ بہتر ہے جہاں ہم نہیں ہوتے “… اور جہاں ہم ہوتے ہیں وہاں کے اپنے مسائل ہوتے ہیں پھر دیار غیر کے مسائل تو غریب الدیار کے لیے اور بھی گمبھیر ہوتے ہیں۔
کسی کو اپنے ملک میں عزت، روزی اور رہائش نصیب ہو تو کسی کو کیا پڑی کہ دھکے کھاتا پھرے۔ باہر جانا اکثر کے لیے دھکے ہی ہوتے ہیں چاہے شروع کے سالوں کے لیے یا کچھ کے لیے سالہا سال کے لیے۔ بدبختی نے ا گھیرا ہو تو کہیں بھی آ گھیرتی ہے۔ ماسکو میں ایک پاکستانی سنا ہے بے گھر ہو گیا کہ شرابی تھا، اسے کوئی اپنے ملک کا مل جاتا تو یہی کہتا کہ بس مجھے نہلوا دیں، سوچیے کہ بدبختی کا شکار ہونے سے پہلے وہ کتنا صفائی پسند ہوگا۔
محنت صلہ دیتی ہے، کہیں کم کہیں زیادہ۔ کہیں جلد، کہیں دیر سے اور کچھ کے لیے تو کچھ زیادہ ہی دیر ہو جاتی ہے اور محنت گریز شخص اپنے ملک میں تو خوار یا اپنوں پہ بار ہوتا ہی لیکن دیار غیر میں تو بے کار اور جیسا کہ بتایا نہانے کا طلب گار ہو کے رہ جاتا ہے۔
ایران تہذیب و تمدن کی آماج گاہ رہا ہے اس لیے ہمارے ہاں کی بدنظمی اور غلاظت سے پاک ہے مگر اتنا خوش حال بس شاہ کے دور میں رہا کہ غیر ملکی اپنے کام اور آمدن سے خوش رہے۔ میں انقلاب کے بعد وہاں گیا تھا چوں کہ سرکاری ڈاکٹر تھا، مناسب رہائش اور مشاہرہ دستیاب تھا لیکن دوسرے بہت سے نجی کام کرنے میں کھپے غیر ملکی افراد کو آگے یعنی یورپ جانے کا خواست بار ہی پایا تھا اور اب تو وہاں معیشت دگرگوں ہے۔ اگر سعد مکی ابن بطوطہ کی طرح مداحوں کے وسائل سے سیاحت کرتے تو بالکل اور طرح لکھتے۔ ایرکنڈیشنڈ شوفر ڈریون کار میں بیٹھ کے آپ کو باہر گھومتے پاکستانی فلم کی طرح لگتے ہیں اور باہر انہیں کی طرح ہاڑ ماہ میں بھنتے ہوئے ، محنت کرتے یا آتے جاتے ، اپنے جیسے ۔


