ایک بحران تھا،ایک بحران ہے/ راحیلہ نوید

تضاد اور انتشار انسانوں،اشیاء اور اعمال کے ارتقاء کے تمام مراحل میں آفاقی و قطعی طور پر نہ صرف موجود ہوتا ہے بلکہ انسانی فعل کی تفہیم اور مدح وذم میں معاون بھی ہوتا ہے ۔یہی انتشار اور تضاد”ایک زمانہ ختم ہوا ہے”میں شامل چوتھےافسانے “غارت گر” میں وقت کے سیلِ رواں کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہتے فانی انسانوں کی بقا کی جنگ کو عورت اور مرد کے تعلق کی مختلف نوعیتوں کے تناظر میں دکھاتا ہے ۔وجودِ انسانی کی بنیادی اور مستقل تنہائی،بے معنویت،لاحاصل ریاضت،محبت اور کش مکش،ذات کی شناخت کے بحران سے گزرتے کردار جو تسلسل کے ساتھ روند کر گزرتے ہوئے وقت کے مدمقابل اپنے وجود کو ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں اور معجزہءِ فن وہ واحد الوہی مظہر ثابت ہوتا ہے جو موت سے پانچ سال پہلے سماعت سے محروم ہو کر ابدی تاثر کی حامل سمفنی تخلیق کرنے والے جرمن موسیقار لڈوگ بیتھوون کی مانند اس جدوجہد میں انھیں سرخرو کرسکتا ہے۔
یہاں جب ہم فرائڈ اور لاکان کے نفسیاتی نظریات کی روشنی میں افسانے کے کرداروں کے باطنی تناؤ،دبی ہوئی خواہشات اور لاشعور کا تجزیہ کرتے ہیں تو مرد اور عورت کے رشتے کے مختلف رنگ افسانے کا تانا بانا بنتے ہیں۔یہاں انسانی وجود کے جینیاتی جزوِ لاینفک ۔۔۔۔زبان،ثقافت،قوانین،روایات اور مذہب کے علامتی نظم کی لاشعوری کار فرمائی کو افعالِ انسانی کے بنیادی محرک کے طور پر دکھایا گیا ہے۔جدیدیت کے مادی رحجانات نے انسانی معاشرتی اقدار اور خاندانی و مذہبی نظام کی شکست وریخت کے ذریعے جس غیر روایتی اور بےروح ارتقاء کی بنیاد رکھی وہاں تسکین اور لطف اندوزی اطمینان کے لیے نہیں بلکہ جبلی ضرورتوں سے آگے جانے کے لیے ہے،یہ نوآبادیات کے بعد کےہائبرڈ معاشرے کی کہانی ہے ۔
بیانیہ پاکستانی۔جرمن جوڑے کی بیٹی انیکا کے پاکستانی شاعر عبداللہ سے ماضی سانجھا کرنے سے آغاز ہوتا ہے،عبداللہ کا کردار اردو میں جدید نظم کے نمائندہ منفرد اور ممتاز شاعر مجید امجد کا گہرا عکس لیے ہوئے ہے،مجید امجد کے والد کی طرح عبداللہ کے والد کی دوسری شادی کی وجہ سے یہ چھے سالہ حساس بچہ عمر بھر کے خلا اور محرومی کا شکار ہو کر پناہ کا متلاشی رہتا ہے ۔مجید امجد کی طرح عبداللہ بھی والدہ کی مرضی سے کی گئی شادی سے ناخوش ہے لیکن والد الہیٰ بخش کی پیروی میں دوسری شادی کے المیے کو دوہرانا نہیں چاہتا۔وہ راجہ گدھ کے قیوم کے شادی شدہ عابدہ اور غیر شادی شدہ سیمی کے ساتھ تعلق کی طرح شہناز سے عارضی اور انیکا سے مستقل تعلق تو قائم کرتا ہے لیکن دوسری شادی کے پیدا کردہ لا شعوری خوف کی وجہ سے یہ قدم اٹھانے سے گریزاں رہتا ہے اور یہی اس کہانی کا المیہ ہے،یہ نفسیاتی لا شعوری المیہ انیکا کے یونی ورسٹی فیلو احمدی ماں باپ کے بیٹے شہریار (جس کے باپ کے احمدیت چھوڑنے کی پاداش میں اسے ماں سے علیحدہ ہونا پڑا) کے کردار میں زیادہ کرب کے ساتھ نمایاں ہوا ہے،والدہ سے جدائی نے اس کردار پر مستقل اور گہرا نفسیاتی اثر چھوڑا جو ہندو خاتون پاروتی کے قتل پر منتج ہوا۔
ناصر صاحب کے ہاں معنی کی یکسانیت کی بجائے تکثیریت پائی جاتی ہے۔وہ کسی حتمی نتیجے یا مہا بیانیے کو مسلط نہیں کرتے۔یہاں دریدا کے رد تشکیل کے اصول کو لاگو کر کے کہانی کےاندر موجود تضادات کو ابھارا جاسکتا ہے اور دیکھا جا سکتا ہے کہ مروجہ سچائیاں کیسے خود کو رد کرتی ہیں۔والدین کی محبت ایک مروجہ روایتی تصور ہےلیکن “غارت گر”میں یہی عبداللہ اور شہریار کے وجود میں جان لیوا اضطراب اور نا مختتم خلا کا سبب بھی ہے،عبداللہ اور انیکا کو جدائی کا یقین ہے لیکن وہ وقت کو شکست دینے کے درپے ہیں،سو کرداروں کا نفسیاتی خلفشار،وہ خوف یا جبلتیں جو انھیں کسی عمل یا رد عمل پر مجبور کرتی ہیں ،ان کا سراغ ہمیں ان کے بچپن کے المیوں میں ملتا ہے۔عبداللہ اور انیکا کے قصے کی مجید امجد اور جرمن خاتون شارلٹ کے قصے سے حقیقی مماثلت افسانوی رنگ تب اختیار کرتی ہے جب پندرہ/بیس برس بعد ہونے والی ملاقات اور اپنے وجود کے امکانات کی بھرپور دریافت کے بعد عبداللہ ایک ایسی قوت کو محسوس کرتاہے جو فنا کے چوہے کو آدمی کو اندر سے کترنے سے باز رکھ سکتی ہے،یہ ہمیں قرت العین حیدر کے “کارِ جہاں دراز ہے”(جلد دوم)کے برادر موش(وقت) کی یاد دلاتا ہے جو فانی اور مضحکہ خیز انسانوں کو بتاتا ہے کہ زمین کی گھاس اور آسمان کے درخشاں ستاروں کی طرح وہ بھی کائنات کے بچے ہیں اور کائنات پیہم اپنے اسرار منکشف کر رہی ہے،قطع نظر اس سے کہ کوئی سمجھ رہا ہے یا نہیں۔۔۔انیکا سے دور ہوتے ہوئے بھی عبداللہ اس کی لفظی تصویریں اپنی نظموں میں بناتے ہوئے کائنات کی پراسرار طاقتوں کی موجودگی کو محسوس کرتاہے اور جس دن اسے اپنے وجود سے اپنا نام کھویا ہوا محسوس ہوتا ہے اسی دن جرمنی میں انیکا کو عبداللہ سے دوبارہ ملاقات کا وعدہ بھی یاد آتا ہے۔
ناصر صاحب بھی یہاں کائنات کے اسرار کی تفہیم کے تناظر میں عبداللہ اور انیکا کے کلیدی کرداروں کے بعد تیسرا مرکزی اور طاقت ور کردار وقت کا متعارف کراتے ہیں،وقت کی زبانی ہی ہم جان پاتے ہیں کہ ایک طویل عرصے بعد انیکا،عبداللہ سے ملاقات کا فیصلہ ستارے کھانے اور راتوں کو نگلنے کا خواب دیکھنے کے بعد کرتی ہے۔یہ دراصل (جیسا کہ افسانے کے اختتام پہ مذکور ہے کہ ریبیکا ایلسن کی نظم”Antidotes to Fear of Death”اور مجید امجد کی چند نظموں کے ٹکڑے استعمال ہوئے ہیں) جواں مرگ کینیڈین ماہرِ فلکیات ایلسن کی نظم”خوفِ مرگ کا تریاق” کے ابتدائی حصے سے مقتبس ہے:
کبھی کبھی خوفِ مرگ کے تریاق کے طور پر،
میں ستاروں کو کھا جاتی ہوں
ان راتوں میں،کمر کے بل لیٹے ہوئے،
میں راحت آگیں تاریکی سے انھیں چوس لیتی ہوں،
یہاں تک کہ وہ سب کے سب میرے اندر سما جاتے ہیں،
۔۔۔۔
وقت عبداللہ اور انیکا کے دلوں کی کیفیت جانتا ہے کہ انیکا کو عبداللہ میں مرحوم باپ اور عبداللہ کو انیکا میں مرحومہ ماں کی آغوش کا تحفظ محسوس ہوتا ہے جو ایڈی پس کمپلیکس کے نفسیاتی مبحث کی بازگشت ہے ۔
وقت یہاں ارنسٹ ہیمنگ وے جیسے فن کاروں کا حوالہ بھی دیتا ہے کہ جن کے بوڑھے ناتواں کردار بھرپور جدوجہد کرتے ہیں اور ہار نہیں مانتے لیکن وہ خود حقیقی زندگی میں وقت کی لا متناہی طاقت کے سامنے اپنے وجود کو ہارتے ہوئے خود کشی کرلیتے ہیں ۔پھر وقت”اس طاقت ور ملک کے طاقت ور ترین حکمران کا قصہ “بھی ذکر کرتا ہے کہ جس نے عمرِ رواں کے چالیس برس گزار کر اداسی اور شراب میں پناہ ڈھونڈی،اس طرح کا تذکرہ عراق (میسو پوٹیمیا)کی قدیم ترین اور معروف داستانِ حیات گلگامش میں ملتا ہے جو اگرچہ ایک نیم تاریخی داستان ہے ۔روایات کے مطابق ارک (uruk)کا یہ طاقت ور ترین بادشاہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ عیاشی،طاقت کے نشے اور مہم جوئی میں گزارنے کے بعد(جب اس کا دوست انکیدو مر گیا)وقت اور موت کی حقیقت سے خوفزدہ ہو گیا تھا۔اور اسی خوف نے اسے اداسی اور شراب کے نشے میں پناہ لینے پر مجبور کیا۔مرگ اور مرگِ ناگہانی کا یہ خوف دنیائے ادب کا ایک نمایاں موضوع رہا ہے۔

وقت جو خود انسانوں کے درمیان اپنی غالب موجودگی اور اس موجودگی سے فانی انسانوں کی مجموعی غفلت پر بھرپور اظہارِ رائے کرتے ہوئے عبداللہ اور انیکا کے قصے کا تجزیہ اپنے معروضی نکتہءِ نظر سے کرتا ہے اور تسلیم کرتا ہے :
“… عبداللہ نے خود سے کہا تھا کہ یہ پھول تو اسی مٹی میں دفن ہو جائیں گے مگر جو میری نظموں میں آئے ہیں ان پر وقت کا کاری وار نہیں چلے گا ۔میں تب بھی مسکرایا تھا،عبداللہ کی ہمت پر نہیں،اس کی سچائی پر۔”
عشق ہے اصلِ حیات موت ہے اس پر حرام
وقت/زماں کا مبحث اردو فکشن اور شاعری کا معروف و مرغوب موضوع ہے،کبھی عزیز احمد”ایسی بلندی ایسی پستی”میں”یہ وقت جو تباہ کرتاہے،یہی حفاظت بھی کرتا جاتا ہے”کہتے ہیں تو کبھی”آگ کا دریا ” کا گوتم بھی بے چینی سے کہتاہے:
“آزدی نہیں ہے ۔۔۔میں بندھا ہوا ہوں ۔۔۔۔یہاں تک کہ ایک اور تاریخ ــ ناموں کا تسلسل ـــــ زمان و مکاں مجھے نگل جائیں گے ۔”
سلسلہءِ روزوشب جواصلِ حیات و ممات ہے وہ اقبال کے ہاں بھی ایک مستقل مبحث ہے اور “غارت گر” کے شاعر ہیرو عبداللّٰہ کے عکسِ حقیقی مجید امجد کے ہاں بھی وقت اور جدیدیت کے ہاتھوں فطرت اور انسانی اقدار کی غارت گری ایک بنیادی اور مستقل موضوع ہے۔یہاں وقت کا بے رحم دھاراانسان،تہذیب اور کائنات کی ہر شے کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے:

مجھے کیا خبر،وقت کے دیوتا کی حسیں رتھ کے پہیوں تلے پس چکے ہیں
مقدرکے کتنے کھلونے،زمانوں کے ہنگامے،صدیوں کے صدہا ہیولے

سو”غارت گر”مجید امجد کی سوانح کا رنگ کےلیے ہوئے مابعد جدید اُردو افسانے میں ایک عمدہ اضافہ ہے جو پڑھنے والے کو نہ صرف ایک گہرے جمالیاتی استغراق کے ساتھ معاصر وجودی اور تہذیبی بحرانوں پر ازسرنو غور کی دعوت دیتا ہےبلکہ یہاں فکری گہرائی اور تخلیقی حساسیت کی یکجائی سے دورِ جدید کے انسان کے اندرونی خلفشار،تہذیبی شکست وریخت اور سخت غیر یقینی صورت حال کو روایتی کہانی پن سے ہٹ کر علامتی اور استعاراتی اسلوب میں فن کارانہ چابک دستی سے آشکار بھی کیا گیا ہے ۔

بشکریہ فیسبک وال

اپنا تبصرہ لکھیں