• عرب : وہ قدیم اور وسیع خطہ ہے جو صدیوں سے اپنی جغرافیائی اہمیت اور ثقافتی پہچان کے ساتھ قائم رہا ہے۔ نبی کریمﷺ کے زمانے میں جزیرہ نمائے عرب کا یہ خطہ ایک مرکزی وحدت کی حیثیت رکھتا تھا، جس میں آج کے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ یمن، عمان، عراق، شام اور فلسطین تک کے علاقے شامل تھے۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں سے اسلام کا نور پھیلا اور ایک عظیم تہذیب نے جنم لیا۔ عربی بولنے والے لوگ اس خطے کے وہ قدیم باشندے تھے جنہوں نے تاریخ کے ہر دور میں اپنی الگ پہچان برقرار رکھی۔
• سعودی عرب اور خلیجی ممالک (تاریخی تقسیم اور آلِ سعود)
بیسویں صدی کے اوائل میں لارنس آف عربیہ اور استعماری طاقتوں نے اپنے مفادات کے لیے اس متحد عرب کو سیاسی سرحدوں میں تقسیم کر دیا۔ اسی دور میں سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی گئی اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ اسی پس منظر میں آلِ سعود نے اپنی حکومت کی بنیاد رکھی، جس کو ابھی بمشکل ایک صدی کا عرصہ ہوا ہے۔ یہ ایک سیاسی حقیقت ہے کہ جس طرح سلطنتِ عثمانیہ زوال کا شکار ہو کر بکھر گئی، اسی طرح آج کے دور میں بھی کسی بھی وقت کوئی بھی مسلم خطہ اپنی نئی سیاسی شناخت قائم کر سکتا ہے اور ریاستیں بدل سکتی ہیں۔ سعودی عرب کا موجودہ نظام ایک خاندانی حکمرانی ہے اور تاریخ کے بدلتے تقاضوں کے تحت یہ نظام ہمیشہ کے لیے اٹل نہیں ہے۔
• حجازِ مقدس: ہماری حقیقی سرخ لکیر اور سیاسی غیر جانبداری۔۔
ہماری ایمان کی اصل بنیاد اور سرخ لکیر ‘حجازِ مقدس’ ہے، یعنی مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ان کا ملحقہ خطہ۔ اگر ہم حجاز کے علاوہ کسی موجودہ سیاسی حکومت کو اپنی سرخ لکیر مانیں تو پھر ہمیں ایران کو بھی اسی پیمانے پر تولنا ہوگا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ جس طرح ایران کی سیاسی حکومت سے ہمارے اختلافات ہو سکتے ہیں، اسی طرح آلِ سعود کی حکومت سے بھی ہمارے اختلافِ رائے کا حق محفوظ ہے۔ ہم کسی بھی سیاسی حکومت کو بچانے کے لیے اپنی ایمانی سرحدیں متعین نہیں کرتے۔
ہمارے لیے ایران میں موجود اہل بیت کے مزارات اور دیگر مقدس مقامات اتنی ہی اہمیت کے حامل ہیں جیسے کہ صحابہ کرام کے مزارات، کیونکہ یہ ہمارے ایمان، عزت، ناموس اور جان و مال کا مسئلہ ہیں۔ ان مقدس مقامات کی حرمت کے لیے ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم وہاں کی سیاسی حکومتوں کے حامی ہیں۔ یہی اصول حجازِ مقدس کے لیے بھی لاگو ہوتا ہے؛ حجازِ مقدس وہ واحد سرزمین ہے جس کا تقدس کسی سیاسی نظام یا خاندانی حکمرانی سے بالاتر ہے۔ ہم نہ تو ایرانی حکومت کے سیاسی ایجنڈے کے ساتھ ہیں اور نہ ہی آلِ سعود کی حکومت کو بچانا ہمارا مشن ہے۔ ہماری وفاداری صرف اور صرف ان مقدس مقامات اور حجازِ مقدس کی حرمت کے ساتھ ہے، جو تا قیامت ہماری غیر متزلزل سرخ لکیر ہے۔


