کثرت کی خواہش ناتمام/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

میں نے اج ایک خاص موضوع پر قلم اٹھانے کا ارادہ کیا، ( معذرت خواہ ہوں کہ قلم نہیں بلکہ موبائل فون ا ٹھانے کا ارادہ کیا، کیونکہ اب قلم اٹھانا نہیں پڑتا بلکہ موبائل کے’ کی بورڈ’ سے لکھنے لکھانے کا مقصد پورا ہو جاتا ہے) تو بچپن کے زمانے کی ایک روش کا خیال ذہن میں ابھر آیا کہ جب بھی کوئی بچہ کریانے کی دکان سے گھر کے لئے کوئی چیز خریدتا تھا تو وہ سودا لینے کے بعد دکان دار سے چونگے (جئھونگے) کا مطالبہ کرتا تھا۔ دکاندار بھی بخوشی میٹھی سونف، بھنے ہوے چنوں یا مرمروں کی ایک چٹکی ہاتھ پہ ڈال دیتا تھا۔ اگر بچے کی اس پر تشفی نہ ہوتی تو وہ مزید چونگے کا مطالبہ کرتا۔ لیکن اسے جھڑک کر بھگا دیا جاتا تھا۔ اسی طرح کوئی دہی لینے جاتا تھا تو دودھ دیی والا دہی کی ملائی چونگے کے طور پر بچے کی ہتھیلی پہ رکھ دیتا تھا۔ دہی والا بھی مزید ملائی دینے کے مطالبے کو رد کر کےانکار کر دیتا تھا۔ دیکھا دیکھی میں کبھی ہم خود بھی اس روش پر چل پڑتے تھے مگر اناڑی ہونے کی وجہ سے ہمیں مونہہ سے چونگا کھانے کی بجاۓ مونہہ کی کھاتے تھے۔ یہ باتیں ہمیں اس لئے یاد ائیں کہ ہم عدم اکتفا اور کثرت یعنی ذیادتی کے موضوع پر خامہ فرسائی کرنا چاہ رہے تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم لوگ طبیعتآ حرص و طمع اور لالچ کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔ مگر ہماری کثرت کی خواہش نا تمام ہی رہتی ہے۔ ایک بائی سائیکل کی حیثیت رکھنے والا جلد موٹر سائیکل خریدنے کی تمنا کرتا ہے۔ خواہ اس کے پاس اس کے وسائل موجود ہوں یا نہیں۔ جس کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے وہ فورآ گاڑی خریدنا چاہتا ہے۔ خواہ مالی اعتبار سے اس کے گھر کی گاڑی ثھیک سے نہ چل رہی ہو۔ اور چاھے اس کی اپنے گھر میں گاڑھی چھن رہی ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خوب سے خوب تر کی تلاش انسان کو آگے بڑھنے کے لئے متحرک رکھتی ہے، اور اسے ترقی اور پیش قدمی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کہتے ہیں کہ لالچ بری بلا ہے۔ اس لئے جائز وسائل آمدن میں اضافہ کئے بغیر عمدہ سے عمدہ اشیاء کا حصول انسان کو پیش رفت کی بجائے گہرے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ کیونکہ اس کوشش میں وہ نا جائز ذرائع آمدن کی طرف راغب ہوتا ہے اور یہی رغبت اس کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔
ہم اکثر کثرت کی خواہش کو، شادی بیاہ کے کھانوں پر ٹوٹ پڑتے مہمانوں کی اداؤں سے پہچانتے ہیں، جب وہ اپنے پسند کے کھانے کو اتنی مقدار میں اپنی پلیٹ میں بھر لیتے ہیں کہ دوسرے مہمانوں کے لئے کچھ نہیں بچ رہتا۔ صرف یہی نہیں بلکہ طمع کے مارے خود بھی پورا کھانا نہیں کھا پاتے اور باقی کھانا پلیٹوں میں چھوڑ کر چلتے بنتے ہیں۔ بچوں میں بھی ایک عادت دیکھنے میں آتی ہے کہ اگر ان کے سامنے مٹھائی کا ڈبہ یا آلو ںخارے کی پلیٹ لا کر رکھ دی جاۓ تو وہ ڈھٹائی سے مٹھائی کے سب سے بڑے ٹکڑے کی طرف ہاتھ بڑھاتےہیں یا پورا کرنے کو چٹخارا ، اٹھا کرسب سے فربہ آلو بخارا منہ میں ٹھونس لیتے ہیں۔ والدین بے چارے شرمندہ ہونے کی بجاۓ ان کی طرف سے نظر چرانے لگتے پیں۔ اس طرح بچوں میں بسیار خوری کی عادت پختہ ہو جاتی ہے اور وہ ذرا کم پہ اکتفا نہیں کرتے۔ بچوں پہ ہی کیا موقوف، بڑے بھی کثرت کی خواہش میں درست یا غلط فیصلے کو خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ جب گھر کا سودا سلف لینے کے لئے بازار کا رخ کرتے پیں تو اس شے کی خریداری کثرت سے کر لیتے ہیں جس کی قلت کی افواہ گردش کر رہی ہو۔ جب سب خریدار اس شے کو ذیادہ مقدار میں خریدنا شروع کر دیتے ہیں، تو لا محالہ اس شے کی طلب بڑھ جاتی ہے اور مارکیٹ میں اس شے کی قلت ہو جاتی ہے۔ لہذا کٹرت کے ساتھ خریداری کے نتیجے میں اس جنس کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور دوسری جانب کٹرت سے منافع کمانے والوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ ہمارے دین میں اسی وجہ سے ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہے، کیونکہ اس طرح اشیاء کی قلت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر اس کو زائد قیمت پر فروخت کر کے نا جائز منافع کمایا جاتا ہے۔
بہتات اور تکثیر کے ضمن میں یہ بات بھی دیکھنے میں اتی ہے کہ اگر بارشیں معتدل ہوں تو کسانوں اور کاشتکاروں کی فصلیں اچھی ہوتی ہیں۔ ان کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔ مگر بارشیں شدت، کٹرت اور زائد از ضرورت ہونے لگیں تو فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ اس کا برا اثر ملکی معیشت پر بھی پڑتا ہے۔ اسی طرح ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا باد صبا کی مانند دلوں کو گداز فراہم کرتی ہے۔ مگر جب ہواؤں کے شدید جھکڑ اندھی طوفان کی صورت میں تواتر اور کثرت سے چلتے ہیں تو ہر طرف تباہی ہی تباہی پھیل جاتی ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب لوگ کثرت کی خواہش میں انتہا کو پہنچنے لگتے ہپں یا خلاف دین خطاؤں میں کثرت سےمبتلا ہو جاتے پیں تو قدرت کی طرف سے بھی آزمائش کے طور پر اور سمجھانے کو، کثرت کے ساتھ بارشیں اور آندھی طوفان بھیج دۓ جاتے ہیں۔ اس میں انسانوں کے لئے سبق ہوتا ہے۔ ماضی میں دوبئی اور سعودی عرب میں اور ہمارے صوبہ بلوچستان میں کثرت کے ساتھ ہونے والی بارشوں اور طوفان باد و باراں نے تینوں جگہوں پر جو تباہی پھیری تھی اس کا بھید اللہ جانتا ہے۔ تاہم قدرت کی یہ ترکیبیں ہم سب کو دعوت فکر دے رہی ہیں کہ کوئی تو وجہ ہے جو ہم آزمائش و امتحان سے گزر تے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کو جہاں ملکی معیشت کے لئے نیک فال سمجھا جاتا ہے وہاں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ اس نظام میں صنعت کار ایک دو فیکٹریوں اور کارخانوں پہ اکتفا نہیں کرتے اور کثرت کی خواہش میں متعدد کارخانوں کے مالک بن جاتے پیں۔ اس طرح وہ بے دریغ دولت کماتے ہیں، اور ملکی دولت چند مل مالکان و سرمایہ دار خاندانوں کے پاس اکٹھی ہو جاتی ہے۔ یہ دولت ملکی معیشت کے لئے مدد گار ثابت نہیں ہوتی کیونکہ دولت کا ارتکاز سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہوجاتا ہے۔ وہ دولت کو بیرونی ممالک کے بینکوں میں رکھتے ہیں تاکہ ٹیکس کی ادائی اور دوسری پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
ہمارے معاشرے میں حرص و طمع اور تکثیر دولت کی خواہش کے مشاہدے جا بجا دکھائی دیتے پیں۔ بندوق کی نوک پہ راہ چلتے لوگوں سے نقدی، موبائل فون اور زیورات چھین کر بھاگ جانا تکثیرمآل و زر کی ایک کڑی ہے۔ ہم دولت کو بڑھاتے رہنے کی خواہش کے آگے بند نہیں باندھتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے دولت کے ڈھیر بنانے لگتے ہیں حالانکہ اکٹھی کی گئی دولت ان کے کسی کام نہیں آتی۔ ہم عادتآ بھی اپنے ہر معاملے میں کثرت اور ذیادتی کی اندھا دھند پیروی کرتے ہیں۔ تھانے میں بند ملزم سے جرم کا ارتکاب کروانے کے لئے مار پیٹ اور تشدد کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں کبھی اتنا کثرت سے تشدد کیا جاتا ہے کہ مار پیٹ کے وار سہتے سہتے ملزم جان کی بازی ہار جاتا ہے۔ یہ سراسر زیادتی پے۔ قرآن پاک میں یہ بات صراحت کے ساتھ اللہ نے کہی ہے کہ کثرت کی خواہش نے انسان کو ہلاکت میں ڈال رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔
ہم میں سے بہت سے لوگ نا ہووت کا رونا روتے رہتے پیں۔ وہ اگر چاہیں کہ ان کے پاس مال و اسباب کثرت سے ہوں تو اللہ سے دعا مانگیں، مگر کثرت کے لئے نہیں بلکہ برکت کے لئے۔ البتہ کثرت درکار ہو تو اللہ کا ذکر کثرت سے کرو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود کثرت سے پڑھو، قران کی تلاوت کثرت سے کرو، اللہ کی ںندگی کثرت سے کرو اور لوگوں کے ساتھ بھلائی کثرت سے کرو۔ انشاء اللہ تعالی آخرت میں اللہ کی نعمتیں کٹرت سے ملیں گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں