سال 2022ء میں راقم کو اس لائبریری اور میوزیم کے سفر کا موقع ملا تھا، تو وہاں کی نفاست، صفائی ستھرائی، لائبریری کا حسنِ انتظام اور میوزیم میں موجود عمدہ و نایاب چیزیں دیکھ کر دلی خوشی ہوئی تھی۔ اس وقت میں نے اس کا ایک مختصر تعارف لکھا تھا، اب احباب اور قارئین کی خدمت میں اس کا تفصیلی جائزہ نظر کر رہا ہوں۔
لائبریری کا تاریخی پسِ منظر اور ارتقائی سفر
اس تاریخی ادارے کا بنیاد خود سندھ کے عظیم عالمِ دین اور قرآن مجید کا پہلا مکمل منظوم سندھی ترجمہ کرنے والے مایہ ناز شاعر حضرت حاجی احمد ملاح رحمہ اللہ نے 1937ء میں رکھا تھا۔ یہ لائبریری ابتداء میں قاضی واہ میں واقع تھی۔ حاجی صاحب کا یہ علمی ذوق و شوق دیکھ کر حاجی حسین گوپانگ اور مولانا عبدالوہاب لونڈ نے ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور سینکڑوں کی تعداد میں اپنی کتابیں پیش کیں، جس سے ابتداء ہی میں کتب کا ذخیرہ 1,500 تک پہنچ گیا۔
بعد ازاں، اس لائبریری کو منظم اور فعال بنانے کے لیے 35 اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی جس کے صدر خود مولانا حاجی احمد ملاح صاحب اور سرپرست حاجی عبداللہ جونیجو تھے۔ اس زمانے کے تمام بڑے اور معروف ماہنامے اس لائبریری میں باقاعدگی سے آتے تھے اور یہ صبح آٹھ بجے سے شام مغرب تک کھلی رہتی تھی۔
اسی دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا؛ کسی کتاب دشمن شخص نے موقع کا فائدہ اٹھا کر لائبریری میں توڑ پھوڑ کی، شیشے توڑے اور وہاں موجود عربی و فارسی کے تمام نایاب قلمی نسخے اور کتب چوری کر کے لے گیا۔ اس سانحے نے ذمہ داران کی کمر توڑ دی اور ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ اس کے بعد سرپرستِ اعلیٰ حاجی عبداللہ جونیجو لائبریری سے الگ ہو کر اپنے کاموں میں مگن ہو گئے۔
پھر 1980ء میں جب حاجی عبداللہ میمن میونسپل کمیٹی کے چیئرمین بنے، تو انہوں نے دوبارہ میونسپل کمیٹی کے ہال میں اس لائبریری کی بنیاد رکھی اور اسے فعال کرنے کی کوشش کی، مگر عوامی دلچسپی کی کمی کے باعث یہ کوششیں بھی بار آور ثابت نہ ہوئیں اور لوگ اس سے دور ہوتے گئے، یوں یہ لائبریری ویران ہوتی چلی گئی۔
بالآخر اس علمی ذخیرے کو لاڑ کی معروف شخصیت شیخ محمد سومار کے حوالے کر دیا گیا، جنہوں نے اسے لاڑ میوزیم بدین میں ضم کر دیا۔ یہ دو منزلہ عمارت سال 1980ء میں نامور مؤرخ، شاعر اور ماہرِ عمرانیات (Anthropologist) شیخ محمد سومار ہی کی کوششوں سے قائم کی گئی تھی، جو زیریں سندھ (بدین، ٹنڈو محمد خان اور ٹھٹہ) کے آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے حوالے سے معروف تھے۔ اس میوزیم کے قیام کے لیے سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو نے 5 لاکھ روپے اور سندھ کے سابق گورنر کمال الدین اظفر نے 10 لاکھ روپے کا مالی عطیہ دے کر شیخ محمد سومار کی کاوشوں میں تعاون کیا تھا۔
موجودہ عمارت، علمی ذخیرہ اور سہولیات
آج یہ ادارہ بدین (سندھ، پاکستان) میں ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے، مرکزی کراچی روڈ پر ایک عالی شان عمارت میں قائم ہے اور محکمہ ثقافت سندھ کے زیرِ اہتمام کام کر رہا ہے۔
اس خوبصورت علمی مرکز کو دیکھ کر دلی خوشی ہوتی ہے۔ لائبریری میں 8,000 سے زائد قیمتی کتب، نایاب قلمی نسخے اور علمی مواد موجود ہے جس سے روزانہ محققین اور طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔ یہاں آنے والے علم کے پیاسوں اور کتاب دوست حضرات کے لیے مطالعہ کی غرض سے بیٹھنے کے انتہائی عمدہ، پرسکون اور شاندار انتظامات موجود ہیں، جہاں قاری یکسوئی کے ساتھ علمِ نافع سے اپنے دل و دماغ کو منور کر سکتا ہے۔
لائبریری کے ساتھ قائم میوزیم میں قدیم سکے، تاریخی نوادرات، مٹی کے برتن اور سندھی ثقافت کی عکاسی کرنے والی اشیاء محفوظ کی گئی ہیں۔ اس میوزیم میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کے برتن، فارسی، عربی اور سندھی میں ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآنی نسخے، اور مختلف مقامات کی تاریخی تصویریں شامل ہیں، جو زیادہ تر مرحوم محمد سومار شیخ نے ضلع کے مختلف تاریخی مقامات سے جمع کر کے عطیہ کی تھیں۔ انہوں نے اپنے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ماہرین کے ساتھ طویل بیٹھکیں بھی کی تھیں۔
ہماری قومی ذمہ داری
زیر نظر یہ حسین و جمیل مناظر کسی بیرونی ملک کی لائبریری کے نہیں، بلکہ صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں قائم ایک شاندار ادارے کے ہیں۔ اگر کتاب اور علم کا یہ سفر اسی طرح جاری رہا اور سندھ کے ہر ضلع میں ایسی ہی معیاری اور بہترین پبلک لائبریریاں قائم ہوتی گئیں، تو معاشرے سے جہالت، ضلالت، شدت پسندی، فرقہ پرستی اور منفی قوم پرستی کا خود بخود خاتمہ ہو جائے گا۔
جہاں ایک طرف پبلک لائبریریاں قائم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، وہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی اور دینی جماعتوں نے اب تک کتنی ایسی لائبریریاں قائم کی ہیں جہاں ان کے کارکنان اور عام عوام کی فکری تربیت اور اصلاح کا سامان موجود ہو؟ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں ملے گا، کیونکہ ان کی ترجیحات بالکل الگ ہیں۔ انہیں شاید ایسے ہی بے شعور لوگ پسند ہیں جنہیں آسانی سے ہانکا جا سکے، جو اندھی تقلید کریں اور جن کا کام صرف ‘زندہ باد’ اور ‘مردہ باد’ کے نعرے لگانا ہو۔ جن کی اپنی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو قرطاس و قلم کی اہمیت سے ناآشنا ہوں، وہ بھلا اس کارِ خیر میں کیسے معاون بن سکتے ہیں؟
اگر تمام اسٹیک ہولڈرز، سیاسی و دینی جماعتیں اور مقتدر حلقے اس علمی میدان میں اپنا حصہ ڈالیں، تو سماج پر اس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور معاشرہ علم کی روشنی سے منور ہو جائے گا۔ اللہ کرے کہ ہم سب کو اپنی اس قومی ذمہ داری کا احساس ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے تو یہ خوبصورت ادارے بنا دیے، اب متعلقہ حکام اور اہل علاقہ کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان علمی مراکز کی حفاظت کریں، کتابوں سے اپنا ناطہ جوڑیں اور اپنی تمام تر توانائیاں ان اداروں کو فعال رکھنے اور ان کی ترقی میں صرف کریں۔


