قصبے کے سرکاری اسکول میں اُردو پڑھانے والا استاد اقبال خواجہ نے اپنی پوری زندگی خشکی پر بسر کی تھی۔ اُس نے دریا بھی صرف ایک بار دیکھا تھا، وہ بھی برسات میں اُترتے ہوئے سیلاب کا۔ سمندر اس کے لیے ہمیشہ کتابوں کا ایک لفظ رہا تھا؛ ایک ایسا لفظ جس کی خوشبو تو محسوس کی جا سکتی تھی، مگر جسے چھوا نہیں جا سکتا تھا۔
اس کے کمرۂ جماعت کی دیوار پر دُنیا کا ایک پرانا نقشہ آویزاں تھا۔ بچے اکثر ملکوں کے نام پڑھتے، پہاڑوں اور دریاؤں کی نشان دہی کرتے، مگر ایک دن ایک طالب علم نے انگلی رکھ کر پوچھا:”سر، یہ آبنائے ہرمز کیا ہوتی ہے؟”
اُستاد نے جغرافیے کی کتاب سے تعریف پڑھ کر سنا دی:”دو سمندروں کو ملانے والا ایک تنگ سمندری راستہ۔”بچہ مطمئن ہو گیا، مگر اُستاد بے چین ہو گیا۔
اُسی شام گھر پہنچ کر اُس نے خبریں سنیں۔ ہر خبر میں یہی نام تھا۔ ہر تجزیہ کار کی زبان پر یہی لفظ تھا۔ “آبنائے ہرمز۔”
وہ حیران تھا۔ کیا واقعی دُنیا کی قسمت ایک اتنی تنگ لکیر سے بندھی ہوئی ہے؟
رات گئے اُس نے الماری سے اپنا پرانا اَٹلس نکالا۔ اُس کی نظریں بار بار اُسی مقام پر جا کر رک جاتیں۔ وہ سوچتا، آخر اس جگہ میں ایسا کیا ہے کہ دُنیا کی نبض یہاں دھڑکتی ہے؟
چند دن بعد اس نے چھٹی لی اور سفر پر نکل پڑا۔
وہ کراچی پہنچا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ سمندر دیکھا۔
اُسے حیرت ہوئی کہ سمندر تو خبروں جیسا نہیں تھا۔ لہریں نہ امریکہ جانتی تھیں، نہ ایران۔ نہ اُنہیں تیل کی قیمتوں سے کوئی سروکار تھا، نہ جنگی بیڑوں سے۔ وہ تو ہزاروں برس سے ایک ہی ترنم میں ساحل سے ٹکراتی رہی تھیں۔ایک بوڑھا ملاح اس کے پاس بیٹھا تھا۔ا قبال نے پوچھا:”کیا آپ کبھی آبنائے ہرمز گئے ہیں؟”
بوڑھا مسکرایا۔”بیٹا، میں کئی بار گیا ہوں، مگر کبھی وہاں ہرمز نہیں ملا۔”اُستاد چونک گیا۔”تو پھر وہاں ہے کیا؟”
بوڑھے نے اُفق کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:”صرف پانی…………. اور انسانوں کا خوف۔”
یہ جملہ اقبال خواجہ کے دل میں اُتر گیا۔اُس رات اُسے ایک عجیب خواب آیا۔
اس نے دیکھا کہ دُنیا کے تمام حکمران ایک بہت ہی تنگ پل پر کھڑے ہیں۔ پل کے ایک طرف محبت کھڑی ہے اور دوسری طرف لالچ۔ ایک سمت اَمن ہے، دوسری طرف خوف۔ ہر شخص پل سے گزرنا چاہتا ہے، مگر کوئی اپنا بوجھ اُتارنے پر آمادہ نہیں۔ سونا، تیل، اقتدار، نفرت، غرور………… سب اپنے کندھوں پر اُٹھائے ہوئے ہیں۔ پل تنگ ہوتا جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں، اور نیچے سمندر خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
اچانک کسی نے اعلان کیا:”یہی آبنائے ہرمز ہے۔”اقبال کی آنکھ کھل گئی۔
صبح وہ ساحل پر گیا تو سورج پانی سے اُبھر رہا تھا۔ اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ سمندر کبھی جنگ نہیں کرتا؛ جنگ ہمیشہ خشکی پر بسنے والے انسان کرتے ہیں۔
واپسی کے سفر میں اُس نے اپنے طالب علم کے لیے ایک نیا جواب لکھا۔
“آبنائے ہرمز صرف دو سمندروں کے درمیان واقع ایک راستہ نہیں۔ یہ انسان کی روح میں موجود وہ تنگ گزرگاہ ہے جہاں ہر لمحہ محبت اور نفرت، امن اور طاقت، قناعت اور لالچ ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں۔ دُنیا کی ساری جنگیں پہلے اسی گزرگاہ میں لڑی جاتی ہیں، بعد میں نقشوں پر ظاہر ہوتی ہیں۔”
کئی ماہ بعد وہ دوبارہ کلاس میں کھڑا تھا۔وہی بچہ پھر کھڑا ہوا اور پوچھنے لگا:”سر، آپ بتا رہے تھے کہ آبنائے ہرمز کیا ہوتی ہے؟”اقبال نے نقشے کی طرف دیکھا، پھر بچوں کی آنکھوں میں۔اس نے چاک میز پر رکھ دیا اور آہستہ سے کہا:
“بیٹا، جغرافیہ کہتا ہے کہ وہ سمندر میں ہے، مگر زندگی نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ہر انسان کے دل میں بہتی ہے۔”اور اُس لمحے اسے یقین ہو گیا کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے سمندر سے ہو کر آیا ہے، حالانکہ اس نے صرف اپنے دل کا سفر کیا تھا۔
بعد میں اس نے اپنی ڈائری کے آخری صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا:”میں آبنائے ہرمز تک تو نہ پہنچ سکا، مگر واپسی پر معلوم ہوا کہ دُنیا کا سب سے خطرناک سمندری راستہ میرے اپنے دل کے اندر بہتا ہے۔”


