کل بروز منگل فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر محترم پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کے چار سالہ دور کا اختتام ہو گیا۔ ان کی زیر قیادت ایف جے ایم یو نے بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جب انہوں نے اس یونیورسٹی کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو یونیورسٹی کا کوئی پرسان حال نا تھا۔ حالات یہ تھے کہ ایف جے ایم یو کے پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہوتے تھے اور ایک یونیورسٹی کے پی جی آر ( پوسٹ گریجویٹ ریذڈنٹ)کو ڈگری دوسری یونیورسٹی دیتی تھی ۔
آپ نے فی الفور ایگزامینیشن ڈیپارٹمنٹ تعمیر کروایا اور ایف جے ایم یو نے اپنے پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کو خود رجسٹرڈ کر کے انکا امتحان لینا شروع کیا۔ یونیورسٹی بن چکی تھی، لیکن اسکا کوئی بھی پوسٹ گریجویٹ پروگرام پی ایم ڈی سی ( پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل) سے اپروڈ نا تھا ۔ آپ اور آپکی ٹیم کی انتھک محنت کی وجہ سے فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پہلی پبلک میڈیکل یونیورسٹی بنی جس کے سبھی ایم ایس ( ماسٹر آف سرجری) ایم ڈی ( ڈاکٹر آف میڈیسن) پروگرامز پی ایم ڈی سے اپرروڈ ہوئے اور اس کے بلکل ساتھ ہی سبھی پروگرامز ہائر ایجوکیشن کمیشن ( ایچ ای سی) سے accredited ہوئے۔
فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پہلی یونیورسٹی بنی جس نے گائنی اینڈ آبز میں چار فیلو شپ شروع کی، سپائن سرجری میں فیلو شپ شروع ہوئی،جبکہ میڈیسن کی تین specialities میں فیلو شپ شروع کی گئیں۔ ایف جے ایم یو وہ پہلی پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹی بنی جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے ریسرچ گرانٹ ملی اور آج ایف جے ایم یو وطن عزیز کی ٹاپ تھرڈ بیسٹ میڈیکل یونیورسٹی ہے۔
ایک ایسی یونیورسٹی،جب بنی تھی تو لوگوں کو لگا تھا کہ یہ یونیورسٹی چل نہیں سکے گی، لیکن آپ نے نا صرف یونیورسٹی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا بلکہ اسے دوسری پبلک و پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز کے لئے ایک رول ماڈل بنا دیا، جو کہ آپکی خداداد انتظامی صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہے ۔
آج جتنا فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کا ایم ایس،ایم ڈی پروگرام سموتھ اور streamlined ہو چکا ہے، اتنا کسی اور یونیورسٹی کا نہیں اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔
آپ کی زیر قیادت فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پہلی یونیورسٹی بنی جس کا دورہ چاروں رائل کالجز آف سرجنز اینڈ فزیشنز کے صدور نے کیا۔ یونیورسٹی کو Talloires نیٹ ورک کی ممبر شپ ملی۔
ایک ایم ایس / ایم ڈی پوسٹ گریجویٹ کو ٹریننگ میں یہی فکر رہتی ہے کہ آیا اس کے پروگرام کی ڈگری پی ایم ڈی سی اور ایچ ای سی سے منظور شدہ ہے یا نہیں؟ لیکن ایف جے ایم یو کے تمام ایم ایس / ایم ڈی پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز کو اس کی کھبی فکر نہیں ہوئی کیونکہ پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے ان تمام مسائل کو حل کر دیا ہے ۔
میں بطور پوسٹ گریجویٹ ٹرینی فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کا اس حقیقت کا چشم دید گواہ ہوں کہ یونیورسٹی کا ایم ایس / ایم ڈی پروگرام دُوسری یونیورسٹیز کے مقابلے میں زیادہ منظم ہوا ہے تو اس کے پیچھے محترم پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کی شب و روز انتھک محنت کا ہاتھ ہے اور یہی سچائی ہے۔


