ملاکنڈ ڈویژن کا مالیاتی بحران، تاریخی خودمختاری، آئینی کشمکش اور 5 جولائی 2026 مینگورہ احتجاجی تحریک(1)-نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ

5 جولائی 2026 کو مینگورہ، سوات میں مجوزہ عظیم الشان احتجاجی جلسہ محض ایک عارضی سیاسی اجتماع نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی وفاقی حکومت اور ملاکنڈ ڈویژن کی علاقائی قیادت کے مابین گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری گہرے ساختی اور آئینی تناؤ کا ایک منطقی نقطۂ عروج ہے ۔ یہ جغرافیائی، سیاسی اور مالیاتی بحران اس وقت انتہائی شدت اختیار کر گیا جب 30 جون 2026 کو ملاکنڈ ڈویژن اور سابقہ قبائلی علاقوں کی ٹیکس چھوٹ کی مدت باضابطہ طور پر ختم ہو گئی، اور وفاقی حکومت نے یکم جولائی 2026 سے یہاں مکمل وفاقی ٹیکس نظام نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ یہ انتظامی تبدیلی فنانس ایکٹ 2026 کے تحت نافذ العمل ہوئی ہے، جس کے ذریعے ملاکنڈ ڈویژن کے شہریوں اور کاروباری اداروں کو حاصل تمام انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق تاریخی استثنیٰ کو یکسر ختم کر دیا گیا ہے ۔

یہ موجودہ کشمکش دراصل سنہ 2018 میں منظور ہونے والی 31 ویں آئینی ترمیم کا شاخسانہ ہے، جس کے تحت آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 247 کو حذف کر کے سابقہ ‘صوبائی زیرِ انتظام قبائلی علاقوں’ (PATA) کی نیم خودمختار آئینی حیثیت کو ختم کر دیا گیا تھا ۔ اس مضمون میں ملاکنڈ ڈویژن کی تاریخی، آئینی اور سماجی و معاشی حرکیات کا ایک تفصیلی خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔ جس میں برطانوی راج کے نوآبادیاتی دور سے لے کر 1947 کے الحاق، 1969 کے انضمامی معاہدوں، 1973 کے آئینی بفر زون اور 2018 کے بعد کے عبوری دور کی ٹیکس چھوٹ کا گہرا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ، یکم جولائی سے 4 جولائی 2026 کے درمیان ہونے والے حالیہ واقعات۔۔بشمول بینک ٹرانزیکشنز کی نگرانی، لواری ٹنل ٹول ٹیکس تنازع، اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے دارالقضاء مینگورہ کے تاریخی فیصلے کو بھی دستاویزی شکل دیتی ہے۔

اس آرٹیکل کا حتمی نتیجہ یہ واضح کرتا ہے کہ ترقیاتی فنڈز کی عدم فراہمی اور مقامی معیشت کو پاکستان کے دیگر ترقی یافتہ اضلاع کے برابر لائے بغیر زبردستی ٹیکسوں کا نفاذ خطے میں امن و امان کی نازک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتا ہے ۔ ارٹیکل کے آخر میں آئینی مصالحت اور پائیدار یکجہتی کے لیے عملی اور قابلِ عمل سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

یکم جولائی 2026 کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جہاں وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کی زبردستی توسیع نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے ۔ اس غصے کا سب سے بڑا مظاہرہ 5 جولائی 2026 کو مینگورہ، سوات میں ہونے والے عظیم الشان شٹر ڈاؤن، پہیہ جام ہڑتال اور احتجاجی جلسے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے ۔ اس احتجاج کا کال ملاکنڈ ڈویژن کی تاجر برادری، تمام سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں، پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (مینگورہ بنچ) کے وکلاء، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ اتحاد نے دیا ہے ۔

یہ احتجاج محض کچھ ٹیکس شرحوں میں کمی کا روایتی مطالبہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے اندر ریاستی وعدوں کے احترام، تاریخی خودمختاری اور آئینی سچائی کا ایک اہم سوال ہے ۔ سوات، دیر، چترال اور باجوڑ کی عوام صدیوں سے ایک منفرد انتظامی اور مالیاتی تحفظ کے تحت زندگی گزار رہی ہے ۔ 2018 میں ان آئینی تحفظات کو یکطرفہ طور پر ختم کر کے اس جنگ زدہ اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطے کو ملک کے مروجہ اور بھاری ٹیکس ڈھانچے کے ماتحت کر دیا گیا ہے ۔ جو ملاکنڈ کی تاجر برادری اور عوام کو سول نافرمانی کی حد تک لے گئے ہیں، اور یہ تجزیہ کرتا ہے کہ کیا ریاستِ پاکستان کا یہ مالیاتی یکطرفہ فیصلہ خطے کے سیاسی استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے ۔

برطانوی راج کے دوران ملاکنڈ ڈویژن کے موجودہ علاقے (سوات، دیر، چترال اور باجوڑ) اپنی مخصوص جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل تھے ۔ برطانوی حکومت نے ان سرحدی علاقوں پر براہِ راست حکمرانی کرنے کے بجائے ایک پیچیدہ اور بالواسطہ انتظامی نظام قائم کیا ۔ اس نظام کا مقصد مقامی قبائلی ڈھانچے، روایات اور سوات و دیر کے نوابوں کی داخلی خودمختاری کو چھیڑے بغیر خطے کو زار روس یا دیگر بیرونی طاقتوں کے خلاف ایک بفر زون کے طور پر استعمال کرنا تھا۔

گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت ان علاقوں کو قبائلی پٹی اور نیم خودمختار شاہی ریاستوں (Princely States) کا درجہ حاصل تھا۔ یہاں برطانوی ہند کی مرکزی یا صوبائی اسمبلیوں کے قوانین لاگو نہیں ہوتے تھے ۔ سنہ 1895 میں ملاکنڈ ٹرائبل ایجنسی کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کا بنیادی مقصد برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے ان ریاستوں اور قبائل کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنا تھا۔ داخلی امور، عدلیہ، اراضی کے معاملات اور مقامی ٹیکسیشن کا پورا نظام مکمل طور پر مقامی نوابوں اور والیانِ ریاست کے ہاتھ میں تھا ۔

جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں