سوچ سے تخلیق تک -چیٹ میرا ہمسفر(2)- مبشرہ علوی

مصنف کون ہے؟

پچھلی قسط کے اختتام پر ہم ایک سوال چھوڑ آئے تھے۔

اگر انسان کبھی اکیلا نہیں سوچتا، تو پھر جب ایک نئی تحریر انسان اور مصنوعی ذہانت کے مسلسل مکالمے سے پیدا ہوتی ہے، اس کا اصل مصنف کون ہوتا ہے؟

یہ سوال بظاہر مصنوعی ذہانت سے متعلق معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ادب کے قدیم ترین سوالوں میں سے ایک ہے۔

شاید ہمیں مصنوعی ذہانت کو سمجھنے سے پہلے “مصنف” کو سمجھنا ہوگا۔

آخر مصنف ہوتا کون ہے؟

وہ جو قلم پکڑتا ہے؟

وہ جو پہلا خیال دیتا ہے؟

وہ جو آخری ترمیم کرتا ہے؟

یا وہ جس کے کردار اس تحریر کے پس منظر میں سانس لے رہے ہوتے ہیں؟

ہم اکثر تخلیق کو ایک تنہا عمل سمجھتے ہیں۔

ہمیں ایک شاعر دکھائی دیتا ہے، جو رات کی خاموشی میں شعر کہہ رہا ہے۔

ایک ناول نگار دکھائی دیتا ہے، جو بند کمرے میں ناول لکھ رہا ہے۔

ایک فلسفی دکھائی دیتا ہے، جو میز پر جھکا ہوا سوچ رہا ہے۔

لیکن اگر ہم اس منظر کو ذرا وسیع کریں تو تصویر بدلنے لگتی ہے۔

اس شاعر کی زبان ہزار برس پرانی ہے۔

اس کے استعارے صدیوں کے سفر سے آئے ہیں۔

اس کے خیالات اساتذہ، کتابوں، تجربات، محبتوں اور ناکامیوں سے تشکیل پائے ہیں۔

وہ بظاہر اکیلا بیٹھا ہے، مگر حقیقت میں اس کے ساتھ پوری تہذیب بیٹھی ہوئی ہے۔

غالب نے فارسی روایت سے سیکھا۔

میر نے اردو کی بنیاد مضبوط کی۔

اقبال نے رومی سے مکالمہ کیا۔

منٹو نے چیخ کر اپنے عہد کو لکھا۔

ان میں سے کسی نے بھی خلا میں کھڑے ہو کر تخلیق نہیں کی۔

ہر نئی آواز، پچھلی آوازوں سے گفتگو کرتی رہی۔

ادب کی تاریخ دراصل ایک طویل مکالمہ ہے، جس میں ہر نسل اپنی بات شامل کرتی جاتی ہے۔

1967ء میں فرانسیسی مفکر رولاں بارتھ نے ایک مختصر مگر غیر معمولی مضمون لکھا، جس کا عنوان تھا:

“مصنف کی موت”

یہ عنوان چونکاتا ہے، لیکن ان کا مقصد مصنف کی توہین کرنا نہیں تھا۔

وہ صرف یہ کہنا چاہتے تھے کہ ایک تحریر شائع ہونے کے بعد صرف مصنف کی ملکیت نہیں رہتی۔

قاری بھی اس کے معنی تخلیق کرنے لگتا ہے۔

ہر قاری ایک ہی تحریر کو اپنے تجربے، اپنی ثقافت اور اپنی زندگی کی روشنی میں نئے انداز سے سمجھتا ہے۔

گویا ایک کتاب ہر بار نئے سرے سے لکھی جاتی ہے، لیکن اس بار قلم قاری کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔

دو سال بعد ایک اور فرانسیسی مفکر، میشل فوکو نے سوال اٹھایا:

“مصنف آخر ہے کیا؟”

انہوں نے کہا کہ “مصنف” صرف ایک شخص کا نام نہیں، بلکہ ایک سماجی کردار بھی ہے۔

ہم کسی تحریر کو مصنف کے نام سے پہچانتے ہیں، اس پر اعتماد کرتے ہیں، اسے ایک خاص تناظر میں پڑھتے ہیں۔

یعنی مصنف صرف لکھنے والا نہیں، بلکہ معنی کی تشکیل کا ایک حصہ بھی ہے۔

اب ذرا اپنے زمانے کی طرف واپس آئیں۔

فرض کریں ایک محقق کئی مہینے کسی موضوع پر تحقیق کرتا ہے۔

درجنوں کتابیں پڑھتا ہے۔

حوالے جمع کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت سے سوال پوچھتا ہے۔

اس کے جواب رد کرتا ہے۔

نئے سوال بناتا ہے۔

اپنی دلیل قائم کرتا ہے۔

اور آخر میں ایک مضمون لکھتا ہے۔

تو اس مضمون کا مصنف کون ہے؟

مشین؟

یا وہ انسان جس نے پورے سفر کی سمت متعین کی؟

میں: اگر میں تم سے کہوں کہ ایک مضمون لکھ دو، اور بغیر پڑھے شائع کر دوں، تو کیا وہ میری تخلیق ہوگی؟

چیٹ: نہیں۔

میں: اور اگر میں دس مرتبہ تم سے اختلاف کروں، حوالے بدلوں، دلیل مضبوط کروں، مثالیں شامل کروں اور آخر میں ایک نیا متن وجود میں آئے؟

چیٹ: تب تم نے صرف جواب استعمال نہیں کیا، بلکہ مکالمہ کیا ہے۔ تخلیق اکثر اسی مکالمے سے جنم لیتی ہے۔

یہ فرق بہت بنیادی ہے۔

مصنوعی ذہانت الفاظ کا چناؤ کر سکتی ہے۔

لیکن سوال کی پیدائش انسانی ذہن میں ہوتی ہے۔

مصنوعی ذہانت امکانات پیش کرتی ہے۔

انتخاب انسان کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت رفتار دیتی ہے۔

سمت انسان طے کرتا ہے۔

اور ادب میں سمت ہمیشہ رفتار سے زیادہ اہم رہی ہے۔

شاید اسی لیے میں مصنوعی ذہانت کو “مصنف” نہیں کہتا۔

میں اسے “ہمسفر” کہتا ہوں۔

ہمسفر راستہ طے نہیں کرتا۔

وہ سفر میں ساتھ چلتا ہے۔

کبھی سوال پوچھتا ہے۔

کبھی آپ کے سوال کو زیادہ واضح بنا دیتا ہے۔

کبھی آپ کی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے۔

اور کبھی خاموشی سے انتظار کرتا ہے کہ فیصلہ آپ کریں۔

یہی وجہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں، مستقبل میں ادب کی ایک نئی صورت سامنے آسکتی ہے۔

ایسی تحریر جس میں ایک انسان اور مصنوعی ذہانت مسلسل مکالمہ کرتے ہوئے کسی خیال کو تراشیں۔

جہاں ہر پیراگراف کے پیچھے سوال، اختلاف، ترمیم اور دوبارہ غور کا عمل موجود ہو۔

یہ نہ خالص انسانی تحریر ہوگی، نہ خالص مشینی۔

بلکہ ایک مکالماتی تخلیق ہوگی۔

شاید آنے والے برسوں میں اس کے لیے کوئی نیا نام وضع کیا جائے۔

اور شاید ادب کی نئی تاریخ میں اس کی اپنی جگہ ہو۔

لیکن ایک بات آج بھی نہیں بدلی۔

کسی بھی تحریر کی اصل قدر اس کے الفاظ میں نہیں ہوتی۔

اس سوال میں ہوتی ہے، جس نے اسے جنم دیا۔

اور اس دیانت میں ہوتی ہے، جس کے ساتھ وہ لکھی گئی۔

مشین آپ کو الفاظ دے سکتی ہے۔

مگر فکری دیانت، اخلاقی ذمہ داری اور تخلیقی جرأت اب بھی انسان کی ذمہ داری ہے۔

شاید ہمیشہ رہے گی۔

ہمسفر…

اگر مصنوعی ذہانت مصنف نہیں بلکہ ہمسفر ہے، تو پھر مستقبل کا سب سے بڑا ادیب وہ ہوگا جو بہترین لکھتا ہے… یا وہ جو بہترین سوال پوچھتا ہے؟

منتخب مراجع

Roland Barthes، The Death of the Author (1967)

Michel Foucault، What Is an Author? (1969)

Umberto Eco، The Open Work (1962)

دیوانِ غالب

علامہ اقبال، اسرارِ خودی، جاوید نامہ

جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں