کبھی کبھی پرانی کہاوت یا جملہ ذہن کے دروازے کو کھٹکھٹاۓ بغیر دماغ کے کسی کونے سے اچھل کود کرتا، ٹھیک ٹھیک نوک زبان پہ آ جاتا ہے۔ پھر ایسا لگتا ہے، جیسے یادوں کے ٹھنڈے ٹھار سرد خانوں میں محفوظ الفاظ اور فقرے ہنستے کھیلتے، ٹھٹھے لگاتے باہر نکل آتے ہیں جیسے وہ ہجرت کرتے پرندوں کی طرح، ٹھٹھہ (سندھ) سے ٹھوکر نیاز بیگ (لاہور) تک کا طویل فاصلہ طے کرتے چلے آ رہے ہوں۔ اس ہجوم بیکراں سے اپنی ٹھآٹھ باٹ دکھاتا ایک جملہ ہماری طرف بڑھتا دکھائی دیا، تو ہم نے اس کی تھوڑی پکڑ کر منت سماجت کی کہ تمہاری اجازت ہو تو ٹا ٹ کے پردوں کے پیچھے چھپے تمہارے جملوں کے خزینے سے ایک جملے کو طشت از بام نہ کر دیں؟ شکر ہے ہماری خواہش ٹھکرائی نہیں گئی۔ وہ جملہ ٹھٹکا ضرور، مگر پھرکچھ یوں گویا ہوا کہ ” سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاویگا جب لاد چلے گا بنجارہ “۔ ممکن ہے کچھ لوگ اس فقرے سے ٹھیک ٹھاک مانوس ہوں اور اس کے مفہوم کو بھی جانتے ہوں۔ ہمیں پتا ہے کہ ہمارے دانشوروں کے پاس ایسے ایسے ذخیرہ الفاظ موجود ہوتے ہیں جو پکارنے پر ٹھنڈے ٹھار موسم میں بھی گرم رضائیوں سے باہر نکل آنے کے لئے ٹھنکتے ہیں، اور بڑے سے بڑے مشکل الفاظ پر آسان مفہوم کا ٹھپا لگا کر، گرم بستروں میں واپس چلے جاتے ہیں۔
سردیوں کے ٹھٹھرتے موسم میں ہم نے زندہ دلان لاہور کے اکثر زندہ دل شہریوں کو ایک ایسی مصیبت کا سامنا کرتے دیکھا ہے جس میں وہ گاڑی کو ٹھوک بجا کر گھر سے باہر لے کر جاتے ہیں اور سڑک پر آتے ہیں لیکن گاڑی ٹہر ٹہر کر چلاتے ہیں۔ کیونکہ دھند میں انہیں قریب سے بھی کچھ دکھا ئی نہیں دیتا اور دھڑکا لگا رہتا ہے کہ انکی گاڑی دھڑ سے کسی سے ٹکڑا کر دوسروں کے ساتھ کھٹ پٹ کا ذریعہ نہ بن جاۓ ۔ اس کے علاؤہ اسموگ الگ گڑ بڑ کرتی ہے اور فلو کے تابڑ توڑ حملوں سے سب کے گلے کھانسی کی ٹھسک سے سوج جاتے ہیں اورانکے سینے جکڑے جاتے ہیں۔۔ شہری ٹھنڈے پانی سے ہاتھ نہیں دھو پاتے۔ اس لئے انکے گھروں میں چولہوں پہ چوبیس گھنٹے پیتل، تانبے کے بلٹوۓ اور ٹھٹھیرے دھرے رہتے ہیں۔ ان دنوں میں کمہاروں کے گھڑے بکنا بند ہو جاتے ہیں، جب کہ ٹھٹھیرا بازار اور کسیرا بازار میں خریداروں کے ایسے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے ہیں۔ گویا لوگ بازار نہیں، کوئی ٹھیٹر دیکھنے آۓ ہوں۔
اگربارش ہو رہی ہو یا ٹھنڈر اسٹارم آیا ہو تو لاہور کےمنچلے جوان گھر سے باہر نکلے بغیر رہ نہیں سکتے۔ حالانکہ انہیں ہجوم میں بار بار ٹھوکر اور ٹھڈے کھانے پڑتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو کھٹولوں پہ بیٹھ کرچاول پرکھڑی مسور کی دال ڈال کر کھانے کا شوق پورا کرتے ہیں اور کچھ ٹرتے ٹرتے، اپنی ٹور دکھاتے خاص طور پر فوڈ اسٹریٹس جا کر ٹھسے سے کرسیوں پہ بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ چکن کڑاہی یا روسٹ، بروسٹ کو ٹھنڈا کرکے کھانے کی بجاۓ مونہہ میں ٹھونس ٹھانس کر ٹھکانے لگاتے ہیں۔ کھانے کی دکانوں پہ وردی پہنے، صافہ باندھے ٹھگنے ، گاہکوں کے لئے آداب بجا لاتے ہوۓ ہوٹلز کے اندر آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن لگتا ایسا ہے کھانا کھلانے والے دکاندار انہیں ٹھگتے کے لئے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ کچھ کا ماتھا ٹھنکتا ہے اور کچھ ٹھنڈے سانس بھر کر سوچتے ہیں کہ شائد وہی غلطی پر ہیں، جو آزادانہ فرینڈز کےساتھ یوں کھڑ کھڑاہٹ کرتے گھومتے پھرتے ہیں جیسے انہوں نے جوتے نہیں، لکڑی کی کھڑاویں پہنی ہوئی ہیں۔اصل میں انکے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں پیٹ کی آگ ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن حق بات یہ ہے کہ ٹھوکریں کھا کھا کر ہی انسان کچھ سیکھتا ہے۔
آکثر ایسا بھی ہوتا ہے لہ کھانے والے زیادہ کھانوں کا آرڈر دے کر تھوڑا بہت کھاتے ہیں اور جو بچ جاتا ہے اسکے کھانے کا ٹھیکہ بھوکے کووں نے لے رکھا ہوتا ہے جنھیں وہ ٹھونگیں مارمار کرمنٹوں میں چٹ کر جاتے ہیں۔ ایسے میں چوہوں کی کھٹر پٹربھی سنائی دیتی ہے۔ مگر تب تک چڑیاں کھیت چگ جاتی ہیں ۔ گھر جاتے جاتے ان خوش خوراک لڑکوں بالوں کو آموں کا ٹھیلا نظر آجاۓ تو وہیں کے وہیں آموں کی ضیافت سے لطف اندوز ہونے کے لئے رک جاتے ہیں؟ حالانکہ وہ فوڈ اسٹریٹ سے ٹیڑھی کھیر کھا کے آۓ ہوتے ہیں۔ آم والا ام کاٹ کاٹ کر دیتا رہتا ہے۔ اسے فری میں میٹھے آم کھلانے کا کڑوا گھونٹ پینا پڑتا ہے۔ وہ اپنے کباڑے پر کڑھتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب پیسے دینے کی باری آتی ہے تو یہ کھڑ پینچ حساب پورا چکاۓ بغیرٹھیٹھ اندازمیں یہ کہتے ہوۓ کہ ” ہماڑے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں “، ٹھینگا دکھا کر چلتے بنتے ہیں۔ شائد گھر پہنچ کر وہ سارے ٹبر کوڈینگیں مار مار کر اپنے قصے سناتے ہونگے۔


