دنیا کی نوجوان آبادی کو اکثر ایک بوجھ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی ریاست کے پاس تعلیم یافتہ، ہنر مند اور صحت مند نوجوان نسل ہو تو یہی آبادی اس کی سب سے بڑی معاشی اور دفاعی طاقت بن جاتی ہے۔ چین، ہندوستان اور دیگر کئی ممالک نے اپنی نوجوان افرادی قوت کو صنعت، آئی ٹی، ٹیلی کام، کاروبار اور برآمدات میں استعمال کر کے نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔
اصل سوال آبادی کی تعداد نہیں، بلکہ اس کی صلاحیت ہے۔ ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تعلیم، فنی تربیت، روزگار، امن و امان، بجلی، پانی، گیس اور کاروبار کے مواقع فراہم کرے تاکہ نوجوان قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ صرف آبادی کو مسئلہ قرار دینا اکثر حکومتی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹانے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔
پاکستان میں آج بہت سے شہری بجلی کے لیے سولر، گیس کے لیے سلنڈر، پانی کے لیے بوتلیں اور تعلیم کے لیے نجی اداروں پر انحصار کر رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریاں کس حد تک ادا کر رہی ہے؟ اگر عوام اپنی ضروریات خود پوری کر رہے ہیں تو توجہ آبادی کو محدود کرنے کے بجائے انسانی وسائل کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے ذریعے قومی طاقت میں تبدیل کرنے پر ہونی چاہیے۔
یہ بھی درست ہے کہ بعض ممالک، جیسے جاپان اور جنوبی کوریا، کم شرحِ پیدائش اور عمر رسیدہ آبادی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس لیے ہر ملک کو اپنی معاشی اور سماجی ضروریات کے مطابق متوازن آبادی اور مؤثر انسانی وسائل کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ ترقی کا راستہ صرف آبادی کم کرنے میں نہیں، بلکہ آبادی کو قابل، ہنر مند اور پیداواری بنانے میں ہے۔


